کشمیریوں سے اظہار یکجہتی
کشمیریوں کے دل پاکستان کے ساتھ دھڑکتے ہیں
پاکستان سمیت دنیا بھر میں کشمیریوں کی جدوجہد آزادی کی سیاسی، سفارتی اور اخلاقی حمایت کے عزم کے اعادہ اور عالمی برادری کا ضمیر جھنجھوڑنے کے لیے یوم یکجہتی کشمیر اتوار کو بھرپور جوش اور ولولہ کے ساتھ منایا گیا۔ پوری قوم مظلوموں کی ہم زبان بن گئی۔ صبح 10بجے کشمیریوں سے اظہار ہمدردی کے لیے ایک منٹ کی خاموشی اختیارکی گئی، اس موقع پر ٹریفک بھی رک گئی ، تمام چھوٹے بڑے شہروں میں مختلف سیاسی اور دینی جماعتوں کے زیر اہتمام احتجاجی مظاہرے، ریلیاں اور کانفرنسز منعقد کی گئیں۔
مظاہرین نے ہاتھوں میں بینرز اور پلے کارڈز اُٹھا رکھے تھے جن پرکشمیریوں کی جدوجہدآزادی کوخراجِ تحسین پیش کیا گیا اوربھارتی ریاستی دہشتگردی کے خلاف نعرے درج تھے، جگہ جگہ بھارتی پرچم جلائے گئے۔ کوہالہ پل، ہولاڑ، منگلا پاکستان اور کشمیر کو ملانے والے مقامات پر انسانی ہاتھوں کی زنجیریں بنائی گئیں جس میں وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے نمایندے شریک ہوئے، آزاد کشمیرکونسل اور قانون ساز اسمبلی کے مشترکہ اجلاس سے صدر اور وزیراعظم آزاد کشمیر نے خطاب کیا اور وزیراعظم نواز شریف کا پیغام پڑھ کر سنایا۔ سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ کے نام یادداشتیں پیش کی گئیں۔ بیرون ملک پاکستانی سفارتخانوں میں بھی یوم یکجہتی کشمیر کے موقع پر خصوصی تقریبات منعقد کی گئیں جن میں پاکستانی اور کشمیری کمیونٹی نے شرکت کی۔
5 فروری درحقیقت بھارتی بربریت، جور و ستم اور حق خودارادیت سے انکار کے خلاف کشمیری عوام کی فقیدالمثال جدوجہد کو جاری رکھنے کے عزم سے عبارت ہے۔ پاکستانی قوم اس دن کو کشمیریوں سے تجدید عہد وفا کے طور پر مناتی ہے کیونکہ پاکستان کی تکمیل اسی دن ہو گی جب بھارت سے برسر پیکار کشمیریوں کو اپنے خوابوں کی تعبیر ملے گی اور اس کے نتیجہ میں خطے کو دائمی امن و استحکام نصیب ہو گا۔
پاکستان یوم یکجہتی کشمیر اس عزم کے ساتھ مناتا ہے کہ مسئلہ کشمیر پر کشمیریوں کی غیر متزلزل حمایت جاری رکھی جائے گی۔ جیسے ہی 5فروری آتا ہے بھارتی حکام کا ذہنی خلجان اور دیوالیہ پن اپنی حد پار کر جاتا ہے اسی کا نتیجہ ہے کہ بھارتی وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ نے ایک بار پھر مقبوضہ کشمیر کو بھارت کا اٹوٹ انگ قرار دیتے ہوئے ہرزہ سرائی کی ہے کہ کشمیر بھارت کے ساتھ تھا اور رہے گا کوئی بھی طاقت اسے اس سے الگ نہیں کر سکتی پاکستان کو یہ دیکھنے کے لیے اپنے ملک میں ایک ریفرنڈم کرانا چاہیے کہ کیا اس کے لوگ اسی ملک میں رہنا چاہتے یا بھارت کے ساتھ ضم ہونا چاہتے ہیں۔
بھارت سب سے بڑی جمہوریت کا علمبردار ہونے کا دعوے دار ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ وہاں انتہا پسندی کے خلجان میں مبتلا ہندوؤں نے غیر رواداری' بربریت اور سفاکیت کا مظاہرہ کرتے ہوئے دوسرے مذاہب کے لوگوں کی زندگی اجیرن بنا رکھی ہے' معمولی معمولی سی بات کو ایشو بنا کر مسلمانوں کے خون سے ہولی کھیلی جاتی ہے۔ راجناتھ سنگھ پاکستان میں ریفرنڈم کرانے کا مشورہ دینے کے بجائے مقبوضہ کشمیر' مشرقی پنجاب' ناگا لینڈ' میزورام' آسام اور دیگر ریاستوں میں ریفرنڈم کرا کر دیکھ لیں کہ وہاں کے عوام بھارت کے ساتھ رہنے کے خواہش مند بھی ہیں یا ہندو انتہا پسندوں کے ظلم و ستم سے نجات حاصل کر کے آزادی کی زندگی جینا چاہتے ہیں۔
کشمیریوں کے دل پاکستان کے ساتھ دھڑکتے ہیں جب بھی بھارت کا یوم جمہوریہ آتا ہے تو مقبوضہ کشمیر کی پوری وادی میں سیاہ پرچم بھارت سے علیحدگی کی علامت بن کر لہراتے ہیں اور 14اگست کو وہاں پاکستانی پرچموں کی بہار دکھائی دیتی ہے۔ راجناتھ سنگھ ذہنی خلفشار سے نکل کر ان دو دنوں میں سیاہ اور سبز ہلالی پرچموں کو لہراتے ہوئے ہی دیکھ لیں تو وہ دوبارہ کبھی پاکستان میں ریفرنڈم کا نام نہیں لیں گے۔
مسئلہ کشمیر ایک زندہ حقیقت ہے بھارت وہاں لاکھ انتخابات کا ڈھونگ رچا لے لیکن وہ رائے شماری کا نعم البدل نہیں ہو سکتا' بھارتی سینا نے ظلم و ستم کا ہر حربہ آزما کا دیکھ لیا لیکن کشمیریوں کی قربانیوں اور عزم نے یہ ثابت کر دیا کہ دنیا کا کوئی بھی جبر ان کی آزادی کا راستہ نہیں روک سکتا۔ پاکستان مسئلہ کشمیر کا اہم فریق ہے اور اس تنازع کا حتمی حل پاکستان کی شمولیت کے بغیر ممکن نہیں' جدوجہد آزادی کشمیر میں پاکستان روز اول سے کشمیریوں کی سیاسی' سفارتی اور اخلاقی مدد کرتا آ رہا ہے۔
پاکستان نے مسئلہ کشمیر حل کرنے کے لیے بارہا اقوام متحدہ کا دروازہ کھٹکھٹایا لیکن وہاں سے سوائے جھوٹی تسلیوں اور دوغلی پالیسیوں کے کوئی بازگشت سنائی نہ دی۔ ہر سال 5فروری کو کشمیری اس عزم کا اعادہ کرتے ہیں کہ کشمیر پاکستان کا حصہ تھا' حصہ ہے اور حصہ رہے گا' سنگینوں کے سائے تلے ظلم و ستم کی یہ دیوار کشمیریوں کی آزادی کی راہ میں رکاوٹ نہیں بن سکتی' جلد ہی وہ دن آئے گا جب کشمیر پاکستان کا حصہ بنے گا۔