سقم سے پاک مردم شماری ناگزیر
روزانہ ہزاروں افراد ایک جگہ سے دوسرے علاقے منتقل ہوتے ہیں۔اس منصوبہ بندی کے تحت ان کے اندراج دہرے ہوجائیں گے
آخرکار محکمہ شماریات نے ملک میں چھٹی مردم شماری کو دو فیزاورچار مراحل میں مکمل کرنے کا شیڈول جاری کیا ہے۔ بادی النظر میں تو یہ خبر توخوش آیند قرار دی جاسکتی ہے کہ ملک میں مردم شماری کا آغاز ہونے والاہے اورہم آبادی کے تناسب سے اپنے وسائل کو تقسیم کرکے اپنے مسائل حل کرنے کے ساتھ ساتھ مستقبل کی منصوبہ بندی بھی کرسکیں گے۔ دوسری جانب اس کا طویل اورصبرآزما شیڈول جو کہ تقریبا ڈھائی ماہ کے عرصے پر محیط ہوگا نے بہت سے خدشات کو بھی جنم دیاہے۔
اس سے قبل کبھی مردم شماری مرحلہ وار نہیں ہوئی ، بلکہ اس کا آغاز بیک وقت پورے ملک میں کیاجاتا تھا۔ نئے شیڈول کے مطابق ملک کے چاروں صوبوں،اسلام آباد، فاٹا، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے علاقوں میں خانہ شماری مردم شماری بیک وقت شروع کرنے کے بجائے الگ الگ کی جارہی ہے۔ بے گھر افراد، جھگیوں اورپلوں کے نیچے رہنے والوں کے لیے بھی ایک دن مقرر ہوگا۔ ابتدائی نتائج مردم شماری مکمل ہونے کے 2 ماہ بعد تک تیار کیے جائیں گے۔یہ ہمارا قومی المیہ ہے کہ منتخب جمہوری حکومتیں ڈھنگ سے کام کرنا ہی نہیں جانتی ہیں۔
موجودہ حکومت پہلے تو بلدیاتی الیکشن منعقد کروانے سے راہ فرار اختیار کرتی رہی ، سپریم کورٹ کے حکم پر وفاقی اور صوبائی حکومتوں نے بادل نخواستہ بلدیاتی انتخابات کروائے۔ بعینی مردم شماری جو آئین کی رو سے ہردس سال بعد ملک میں ہونی چاہیے۔اس سے راہ فرار اختیارکی جاتی رہی اورتقریباً انیس برس تک ۔سپریم کورٹ نے مردم شماری سے فرارکی راہیں مسدود کرکے حکومت کو مجبور کیا تو یہ بھونڈا شیڈول سامنے آیا ہے۔آئی ٹی ٹیکنالوجی کے اس دور میں اس طریقے کا شیڈول دنیا بھر میں کہیں بھی رائج نہیں ہے، نادرا کا نیٹ ورک ملک بھر میں موجود ہے ، جو قومی شناختی کارڈ بنا رہا ہے ۔ یہ طریقہ سائنسی بنیادوں پر دنیا بھر میں نافذ العمل ہے۔
جس سے اعداد وشمار میں شفافیت قائم ہوتی ہے۔جب کہ بعض حلقوں کا خیال ہے کہ روزانہ ہزاروں افراد ایک جگہ سے دوسرے علاقے منتقل ہوتے ہیں۔اس منصوبہ بندی کے تحت ان کے اندراج دہرے ہوجائیں گے،اس دوران دیہی و شہری اضلاع میں ہونے والی پیدائش اوراموات کا تناسب بھی مختلف ہوجائے گا۔ صوبوں اور وفاق میں قیام پذیر غیرملکیوں کی کثیرتعداد کی موجودگی اور ان کے اندراج کے بارے میں مقامی قومیتوں کو بھی تحفظات ہیں ۔ مستقل کی منصوبہ بندی کے لیے ایک احسن لائحہ عمل تشکیل دینے کی ضرورت ہے تاکہ ہم بحیثیت قوم ترقی کی منازل طے کرسکیں ۔