اقتصادی راہداری درآمدات کی کسٹمز کلیئرنس کیلیے الگ محکمے کی تجویز

مانیٹرنگ اوربرق رفتار کلیئرنس ممکن، راستے میں سامان غائب ہونے کے امکانات بھی ختم ہو جائیں گے،چیف کلکٹرساؤتھ انفورسمنٹ


Ehtisham Mufti February 07, 2017
اقتصادی راہداری کے روٹ میں ہر200کلومیٹرپرچیک پوسٹ اور فری زونزکیلیے ڈرائی پورٹس کے قیام کی بھی تجاویز ارسال کی گئیں، ذرائع۔ فوٹو: فائل

PESHAWAR: پاکستان کسٹمز نے چین پاکستان اقتصادی راہداری کے منصوبوں کے لیے مختلف درآمدات کی محفوظ اورتیز رفتار کلیئرنس کی غرض سے وفاقی حکومت کو علیحدہ ''سی پیک کسٹمزڈائریکٹوریٹ جنرل'' کے قیام کی تجویز دے دی ہے۔

چیف کلکٹر کسٹمز انفورسمنٹ ساؤتھ کی جانب سے وفاقی حکومت کوارسال کردہ تجاویز میں کہا گیا ہے کہ سی پیک منصوبوں کے لیے درآمد ہونے والی ہرقسم کی مصنوعات کو محفوظ بنانا پاکستانی معیشت کے لیے انتہائی ضروری ہے، مجوزہ علیحدہ سی پیک ڈائریکٹوریٹ جنرل کے قیام سے راہداری منصوبوں کے تمام درآمدی کنسائمنٹس برق رفتاری کے ساتھ کلیئر ہو سکیں گے. نتیجتاً سی پیک سے متعلقہ بڑے ترقیاتی منصوبے بروقت پایہ تکمیل تک پہنچ سکیں گے۔

اس ضمن میں چیف کلکٹرساؤتھ انفورسمنٹ محمد زاہد کھوکھر نے ''ایکسپریس'' سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ مجوزہ سی پیک ڈائریکٹوریٹ جنرل کے قیام سے سی پیک منصوبوں کی ہرقسم کی درآمدی کنسائمنٹ کی مانیٹرنگ کے ساتھ کلیئرنس میں ممکنہ تاخیراور راستے میں سامان غائب ہونے سے بچا سکتا ہے۔ پاکستان کسٹمز کے مطابق محکمہ کسٹمزکی چیک پوسٹس ریلوے اسٹیشن، ہائی وے پر ان امپورٹس کو سہولتیں فراہم کرنے میں معاون ثابت ہوں گی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ اقتصادی راہداری کے وسیع البنیاد منصوبوں کے لیے غیرملکی مصنوعات کی درآمدات کا حجم افغان ٹرانزٹ ٹریڈ سے بھی زیادہ ہونے کا امکان ہے۔ ایک جائزے کے مطابق پاکستان کے راستے سے افغانستان کے لیے درآمدات سال2001 سے 2011کے دوران 170 ملین ڈالر سے بڑھ کر 2509 ملین ڈالر کی سطح تک پہنچ گئیں، پاکستان کسٹمز نے افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کی ہونے والی ترسیلی سرگرمیوں سے وسیع تجربات حاصل کیے اوراب کسٹمز کی کلیئرنس اے ٹی ٹی امپورٹس کے لیے انتہائی محفوظ ہوگئی ہیں، اے ٹی ٹی سے متعلقہ تجربات کے پیش نذر ڈائریکٹوریٹ جنرل سی پیک کی ضرورت واہمیت واضح ہوتی جارہی ہے۔

ذرائع نے بتایا کہ پاکستان کسٹمز نے مجوزہ سی پیک ڈائریکٹوریٹ جنرل کے زیر نگرانی سی پیک کی امپورٹس کے راستے میں ہر 200 کلومیٹر کے فاصلے پر ایک چیک پوسٹ قائم کرنے کی بھی تجویز دی ہے، اسی طرح اقتصادی راہداری منصوبوں کے تحت مجموعی طور پر92 مجوزہ فری اکنامک زونزکوسہولت دینے کی غرض سے خشک گودیوں یاکسٹمز اسٹیشنزبھی قائم کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ جن میں پنجاب میں 32، سندھ میں 33، اسلام آباد میں 3، بلوچستان میں 7 اور کے پی کے میں 17 اکنامک زونزکا قیام شامل ہے جبکہ وفاقی حکومت خصوصی اکنامک زونز کیلیے پہلے ہی قانون سازی کرچکی ہے.

واضح رہے کہ حال ہی میں ایف بی آر کی جانب سے چیف کلکٹر ساؤتھ کو ہدایت کی گئی کہ وہ گوادر فری اکنامک زونز کے لیے بھی قوانین مرتب کریں۔ کسٹمز حکام کا کہنا ہے کہ ان قوانین کو بنانے کے ساتھ ڈرائی پورٹ کے قیام کا منصوبہ بھی ان اسپیشل اکنامک زونز میں شامل کرنا چاہیے۔

مقبول خبریں