پاک بحرین دوطرفہ تعلقات تازہ ہوا کا جھونکا

محنت کش طبقہ تو اپنی جگہ، پاکستانی تو بحرین کی فوج اور بیوروکریسی میں بھی اہم کردارکررہے ہیں۔


Editorial February 08, 2017
محنت کش طبقہ تو اپنی جگہ، پاکستانی تو بحرین کی فوج اور بیوروکریسی میں بھی اہم کردارکررہے ہیں ۔ فوٹو فائل

FAISALABAD: اہل پاکستان کے لیے یہ خبرانتہائی خوش آئند اورمسرت آمیزہے کہ پاکستان اوربحرین کے درمیان دفاع،توانائی، اقتصادی وتجارتی تعاون اورہائرایجوکیشن سمیت دیگر شعبوں میں تعاون پر اتفاق ہوگیا جب کہ دونوں ممالک نے زراعت اورسفارتی خدمات کی تربیت میں تعاون سے متعلق مفاہمت کی دو یاد داشتوں پر دستخط کردیے ہیں۔ بلاشبہ اب پاکستان ترقی کی شاہراہ پر پھر سے گامزن ہوگیا ہے، کیونکہ چند برس پیشتر قبل کی بات ہے، ملک میں دہشتگردی کا دور دورہ تھا ، جس نے ملکی معیشت اور اقتصادیات کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا تھا، غیرملکی سرمایہ کاری رک گئی تھی۔

امن وامان کی مخدوش صورتحال کے ساتھ توانائی کے بحران کا بھی سامنا تھا ۔ پاک فوج کے آپریشن ضرب عضب اور حکومت کی مثبت پالیسیوں کے باعث پاکستان میں بیرونی سرمایہ کاری آنا شروع ہوگئی ہے ۔اس میں پاک چین اقتصادی راہداری کا بھی بہت بڑا ہاتھ ہے، بقول وزیراعظم پاکستان نواز شریف یہ 'گیم چینجر' ہے ۔پاک بحرین مشترکہ اقتصادی کمیشن بنانے کا عمل انتہائی مستحسن ہے۔ سرتاج عزیز نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ سلامتی کی صورتحال میں واضح بہتری کے باعث پاکستان سرمایہ کاری کے لیے مزید پرکشش ملک بن گیا ہے۔

چین پاکستان اقتصادی راہداری سے پاکستان میں تجارتی اوراقتصادی سرگرمیوں کے فروغ کی نئی راہیں کھلیں گی۔ بحرین کے وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ پاکستان اورخلیجی ممالک کے ساتھ تعلقات کے فروغ کے لیے اسٹرٹیجک ڈائیلاگ کا سلسلہ جلد شروع کیا جائے گا، اگر اجلاس کے بعد ہونے والی گفتگوکا جائزہ لیا جائے تو یہ بات کھل سامنے آتی ہے کہ پاکستان اوربحرین دو برادر اسلامی ممالک ہیں۔ ہزاروں پاکستانی بحرین میں رہتے ہیں، جو نہ صرف قیمتی زرمبادلہ کما کر پاکستان کی معیشت کو استحکام دے رہے ہیں بلکہ بحرین کی ترقی وخوشحالی میں اپنا کردار نبھا رہے ہیں۔

محنت کش طبقہ تو اپنی جگہ، پاکستانی تو بحرین کی فوج اور بیوروکریسی میں بھی اہم کردارکررہے ہیں۔ اب اگر دونوں ممالک کی اعلیٰ سطح قیادت فہم وفراست سے مزید اقدامات اٹھانا چاہ رہی ہیں تو یہ دونوں ممالک کے عوام کے لیے بہت اچھا اقدام گردانا جائے گا ۔ پاکستان تو قدرتی معدنی ذخائر کی دولت سے مالا مال ملک ہے لیکن وسائل نہ ہونے کے سبب اس سے استفادہ نہیں اٹھا پارہا ، اب اگر بحرین اس ضمن میں سرمایہ کاری کرتا ہے تو ہماری معیشت کو اپنے پاؤں پر کھڑا ہونے میں مدد ملے گی بلکہ اسی طرح جیسے پاکستان اپنے وسائل بحرین کی ترقی کے لیے فراہم کرے گا ۔بحرین کے وزیرخارجہ نے وزیراعظم نوازشریف سے بھی ملاقات کی۔اس موقعے پر وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان بحرین کے ساتھ اپنے تعلقات کو بہت اہمیت دیتا ہے۔

بحرین کے وزیر خارجہ نے شاہ حمد بن عیسیٰ الخلیفہ کی طرف سے وزیراعظم کے لیے نیک تمناؤں کا خصوصی پیغام بھی پہنچایا۔انھوں نے وزیراعظم کو بتایا پاک بحرین فروغ پذیر تعلقات کی بنا پر ان روابط کو مشترکہ وزارتی کمیشن کی صورت میں اپ گریڈ کیا گیا ہے اور مشترکہ کمیشن کا پہلا اجلاس اسلام آباد میں ہو رہا ہے جس میں دونوں ممالک سفارتی، اقتصادی، تجارتی، سٹرٹیجک اور سفارتی تعلقات کو وسعت دینے کے لیے جامع تبادلہ خیال کریںگے۔ بلاشبہ یہ ایک سنہری موقعہ ہے ہمارے لیے ، یقیناًحکومت پاکستان دوطرفہ معاملات اور معاہدوں پر فوری عمل درآمدکے لیے ایک جامع حکمت عملی ترتیب دے گی تاکہ ہماری ترقی کا سفر اور تیز تر ہو اور عوام خوشحال ہوں۔