ہندو مسلم کرکٹ وغیرہ

کیا خیال ہے اگر یہ بلوچ سردار پرانے نامور کھلاڑیوں کو بھی یاد کریں اور ایک اونٹ عمران خان کو بھی دے دیں


Abdul Qadir Hassan January 04, 2013
[email protected]

پتہ نہیں وہ کون سا اسلام ہے بہر حال وہ جو بھی ہے اس کے شیخ جب اپنے پسندیدہ وطن مالوف کینیڈا سے اپنے پرانے وطن متروک پاکستان تشریف لائے تو ان کے سامان میں روایتی شیوخ کے برعکس کتابوں کی جگہ نوٹوں کے بند تھیلے اور بنڈل بے تابانہ کسمسا رہے تھے اور وہ بھی غیر ملکی نوٹ جن کی قیمت ہمارے نوٹوں کی گرتی ہوئی قیمت کے مقابلے میں بہت زیادہ ہے، یہ قیمتی نوٹ اتنے زیادہ تھے کہ انھوں نے ان پاکستانیوں کو بھی اپنی طرف کھینچ لیا جنہوں نے شیخ الاسلام کا اسم گرامی زندگی میں پہلی بار سنا تھا اور لاہور کے جلسے سے واپس گھروں کو لوٹتے ہوئے پوچھتے رہے کہ یہ ولی نعمت کون ہیں اور ان میں روایتی حاتم طائی سے بھی زیادہ سخاوت کہاں سے در آئی ہے۔

بہر کیف غرض جس سے تھی وہ اب تھیلوں کی جگہ ان کی جیبوں میں کسمکسا رہا تھا۔ انھوں نے واپسی پر بچوں کے لیے کھلونے خریدے اور اپنے لیے سویٹر وغیرہ اب ان کی سردیاں کسی حد تک آرام کے ساتھ گزریں گی اور بچے بھی خوش رہیں گے۔ ان کی جُود و سخا کے مزید نمونے اور مظاہرے ہم جلد ہی خوبصورت شہر اسلام آباد میں بھی دیکھیں گے تب تک بھارت پرستوں سے اظہار افسوس یا تعزیت کہ پاکستان نے ان کے بھارت سے میچ جیت لیے اور بھارتیوں کو افسردہ کر دیا۔

سنا ہے کہ ہمارے ان پاکستانیوں کا ایک وفد فوری طور پر سرگرم ہو گیا ہے جو جلد ہی کسی کانفرنس میں مصروف ہو جائے گا، اس وفد کے پاس ٹشو پیپرز کے بنڈل بھی ہوں گے جن کی ان کے بھارتی پیاروں کو ان دنوں زبردست ضرورت ہے۔ یہ کانفرنس دونوں ملکوں میں ہو گی لیکن خطرہ ہے کہ بھارتی ان دنوں صرف افسردہ ہی نہیں سخت اشتعال میں بھی ہیں اس لیے ان سے بچ کر رہنا بہت مناسب ہو گا، بدنام تو پاکستان کو کیا جاتا ہے لیکن تشدد میں بھارتی کسی سے کم نہیں ہیں اور ان کی فلموں نے نوجوانوں میں منفی جذبات کو مستقلاً مشتعل کر دیا ہے جس کا ایک نمونہ ان ہی دنوں بھارت میں دیکھا گیا۔

بہر کیف یہ تو دوسری قسم کی باتیں ہیں، یہ کرکٹ میچ تو عملاً دو ملکوں کے درمیان نہیں دو قوموں کے درمیان بن گئے، اس میں مسلمان ہندوئوں سے جیت گئے اور اس سے اس کھیل کا حلیہ ہی بدل گیا ورنہ کھیل تو ایک شریفانہ تفریح کا نام ہے اور کرکٹ کے مو جد انگریزوں نے بھی اسے شرفاء کا کھیل قرار دیا تھا مگر ہم نے اسے ہندو اور مسلمان بنا دیا ہے، دراصل اس کھیل کے پیچھے بھی ہندو مسلم کی صدیوں پرانی چپقلش ہے جس کا ایک توانا حوالہ اندرا گاندھی نے دیا تھا جب سقوط ڈھاکہ پر اس نے کہا کہ ہم نے مسلمانوں سے ہزار سال کا بدلہ لے لیا ہے، اس نے بالکل درست کہا تھا، اس لیے جب تک ہم بھی مشرقی پاکستان کا بدلہ نہیں لیتے، ہم بھی اس قومی اور تاریخی قرض کے مقروض رہیں گے۔

اس میچ میں جیتنے والی ٹیم یعنی پاکستانی ٹیم کے لیے ایک بلوچ لیڈر صوبائی وزیر علی مدد جتک نے اعلان کیا ہے کہ وہ ہر کھلاڑی کو ایک اونٹ دیں گے۔ یہ وہی بلوچستان ہے جس کو پاکستان کا نیا مشرقی پاکستان بنانے کے لیے بھارت بڑے بڑے جتن کر رہا ہے۔ بھارتیوں کو پاکستانی ٹیم کے علاوہ ایک جواب اس بلوچ لیڈر کا بھی قبول ہو۔ معلوم ہوتا ہے یہ بھی سندھ کے زرداری بلوچوں کی طرح شتر پروری کرتے ہیں اور شتر بانی کی شہرت رکھتے ہیں۔

اب ذرا غور فرمائیے، اس کشادہ دل بلوچ نے تو لاکھوں روپوں کی قیمت والے اونٹوں کا تحفہ دینے کا اعلان کر دیا ہے لیکن یہ تحفہ سوائے اس کے کہ فوراً فروخت کر دیا جائے اور کیا ہو سکتا ہے۔ اسے رکھے گا کون۔ اس کے لیے تو شاید کسی کھلاڑی کے گھر میں جگہ بھی نہ ہو گی، کھلانا پلانا الگ ایک بڑا مسئلہ ہے۔ ہمارے گائوں کے ایک فوجی کو اس کے انگریز افسر نے واپس ولائت جاتے ہوئے اپنا ریڈیو تحفے میں دے دیا۔گائوں بھر میں اس ریڈیو کی آمد پر دھوم مچ گئی کیونکہ ہمارے گائوں کا یہ غالباً پہلا ریڈیو تھا جو گاڑی کی بیٹری سے چلتا تھا، اب اس بیٹری کو چارج کرانے کے لیے گائوں سے کوئی 26 میل دور خوشاب جانا پڑتا تھا چنانچہ اس ریڈیو کا مالک اس کی بیٹری کو ہفتہ میں ایک بار کندھے پر رکھتا۔

بس میں بیٹھ کر خوشاب جاتا جہاں رات بھر بیٹری چارج ہوتی رہتی اور دوسرے دن وہ گائوں لوٹتا، انگریز کا یہ تحفہ اس دیہاتی فوجی کے لیے سوہان روح بن گیا ،کچھ عرصہ تو اس نے یہ مشقت برداشت کی اور گائوں بھر پر رعب جماتا رہا لیکن کب تک، ایک تو خوشاب آمد و رفت کا خرچہ دوسرے بیٹری چارج کرانے کا معاوضہ اور پھر تیسرے ان لوگوں کی خاطر مدارات جو ہر شام اس کے گھر فلمی گانے سننے جمع ہو جاتے تھے، پھر ایک دن ریڈیو 'خراب' ہو گیا اور مرمت کے لیے سرگودھے لے جانا پڑا جو پھر واپس نہیں آیا، جان چھوٹ گئی۔ یہ کھلاڑی بھی دو چار دن میں ہی اس زندہ سلامت اونچے لمبے تحفے سے بھر پائیں گے اور اونٹ کی کہار کسی حقدار کو دے کر اس انعام سے چھٹکارا پائیں گے لیکن کرکٹ کی تاریخ میں یہ ایک انوکھا واقعہ ہو گا جسے کھلاڑیوں کے اسکور کی طرح ریکارڈ میں درج کر دیا جائے گا۔

کیا خیال ہے اگر یہ بلوچ سردار پرانے نامور کھلاڑیوں کو بھی یاد کریں اور ایک اونٹ عمران خان کو بھی دے دیں جو اپنے کسی متوالے کو انتخابی ٹکٹ کے ساتھ یہ انعام بھی منتقل کر دیں گے اور وہ الیکشن تک اس کی دیکھ بھال کرتا رہے گا، اگر عمران خان میں کچھ حس مزاح ہے تو وہ اس انعام کو اپنی سیاست میں بھی 'کسی' کو تحفہ دے کر استعمال کر سکتے ہیں جن کے دور رس نتائج بھی نکل سکتے ہیں۔ بہر کیف کرکٹ کے میدان میں اس اونٹ بلکہ اونٹوں کی آمد ایک ہلچل مچا سکتی ہے اور پاکستانیوں کو چند دنوں کے لیے شیخ الاسلام کے ذکر مسلسل سے کچھ ریلیف مل سکتی ہے۔

ہمارے کالم نگاروں اور تجزیہ کاروں کو قوم کی ایک چھیڑ مل گئی ہے اور وہ اس ذکر خیر کو جاری رکھنے کے لیے بڑی محنت کر رہے ہیں۔ قوم کی طرح ہمارے یہ قلمکار اور تجزیہ کار بھی کسی رعایت کے مستحق ہیں۔ وہ تو شاید رفتہ رفتہ یہ قصہ پرانا کر دیتے لیکن وہ کمزور سیاستدان جن کو شیخ الاسلام سے خطرات لاحق ہو گئے، اس ذکر کو ختم نہیں کرنے دیتے، اللہ ایسے سیاستدانوں اور ان کی قوم پر رحمت کرے اور دونوں کو ایک دوسرے سے نجات دے دے۔

مقبول خبریں