درآمدات میں اضافہ غلط پالیسیوں کانتیجہ ہےماہرین

سورج مکھی کی کاشت،توانائی بحران حل اورموبائل فون مینوفیکچرنگ پرتوجہ دی جائے


Ehtisham Mufti July 29, 2012
سورج مکھی کی کاشت،توانائی بحران حل اورموبائل فون مینوفیکچرنگ پرتوجہ دی جائے

KARACHI: پاکستان کی درآمدات میںتشویشناک حدتک اضافے کے رحجان کے باوجود پالیسی سازوںکی جانب سے زمینی حقائق کے مطابق پالیسیوں کے فقدان کی وجہ سے ہرمالی سال کے دوران ملک کے درآمدی بل کا حجم بڑھتا جارہا ہے،

سورج مکھی کی کاشت اور پیداواربڑھانے میں پالیسی سازوںکی عدم دلچسپی کے باعث مالی سال2011-12 کے دوران پاکستان کا مجموعی درآمدی بل 44 ارب91 کروڑ20 لاکھ ڈالرکی سطح تک پہنچ گیا جس میں ایک بڑا حصہ پام آئل کا ہے جس کی زیرتبصرہ مالی سال کے دوران درآمدات18 فیصدکے اضافے سے211 ارب82 کروڑ روپے سے تجاوز کر چکی ہیں۔

زرعی شعبے کے ماہرین اور کاشتکاروں کی جانب سے طویل دورانیے سے اس امرکی نشاندہی کی جاتی رہی ہے کہ اگر ملک میں سورج مکھی کی پیداواری سرگرمیوںکو بڑھایا جائے تو پام آئل کی مقامی کھپت کوگھٹایا جا سکتا ہے، اسی طرح پاکستان میںٹیلی کام سیکٹر کی درآمدات بھی 113 ارب 16 کروڑ90 لا کھ روپے کی سطح تک پہنچ گئی ہے جس میں61 ارب44 لاکھ روپے مالیت کے صرف موبائل فون سیٹس شامل ہیں۔

ماہرین کاکہنا ہے کہ ملک میںموبائل فونزسیٹس کی بڑھتی ہوئی درآمدی سرگرمیوں کو کنٹرول کرنے کیلیے مقامی سطح پر مینوفیکچرنگ شروع کرنے کے مواقع سے استفادہ کرنا چاہیے اوربعض کمپنیوںکو پاکستان میںسیلولرفونزکی مینوفیکچرنگ شروع کرنے پررضامندبھی کیاجاسکتا ہے جسکے نتیجے میں روزگار کے بھی وسیع پیمانے پرنئے مواقع میسر ہونے کی امید ہے،

مالی سال2011-12 کے دوران پاکستان میں148 ارب26 کروڑروپے مالیت کی مختلف اقسام کی گاڑیاںبھی درآمد کی گئیں جن میں سی کے ڈی اورایس کے ڈی گاڑیاںبھی شامل ہیں، ملکی درآمدی بل میںاضافے کی ایک بنیادی وجہ توانائی کا سنگین بحران ہے جس کی وجہ سے پاورجنریشن مشینری کی درآمدی سرگرمیوں میں اضافے کا رحجان غالب ہوگیا ہے، سال2011-12 کے دوران ملک میں92 ارب89 کروڑ روپے مالیت کے جنریٹرزدرآمد کیے گئے

جبکہ اس سے قبل 88 ارب80 کروڑروپے مالیت کے جنریٹرز درآمدکیے گئے تھے۔ یہاں یہ امر قابل ذکرہے کہ ملک میں کھاد کی طلب سے زائد پیداواری گنجائش اور فرٹیلائزر سیکٹر کوترغیبات دیے جانے کے باوجود پاکستان میںکھاد کی درآمدات ہرسال کی ضرورت بن گئی ہے اورسالانہ تقریبا 105 ارب روپے مالیت کافرٹیلائزرملک میںدرآمدکی جارہی ہے لیکن کھادپردی جانے والی زرتلافی کا براہ راست کاشتکاروں کوفائدہ بھی نہیںپہنچ رہا اوراس شعبے میںہونے والی بے قاعدگیوںاور بلیک مارکیٹنگ سے کاشتکارہرسال پریشان رہتے ہیں۔

مقبول خبریں