بھارت کی جنگی تیاریاں
ایران نے ایٹمی پروگرام شروع کیا تو اقوام متحدہ اور عالمی طاقتیں اس کے خلاف متحرک ہو گئیں
دفتر خارجہ کے ترجمان نفیس ذکریا نے جمعرات کو میڈیا کو ہفتہ وار بریفنگ میں بھارت کی جانب سے خفیہ نیوکلیئر سٹی تعمیر کرنے اور بین البراعظمی بیلسٹک میزائل کی تیاری پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بھارت کی جنگی تیاریاں اور فوجی بجٹ میں اضافہ نہ صرف خطے اور عالمی امن کو خطرے سے دوچار کرے گا بلکہ خطے میں طاقت کا توازن بگڑ جائے گا۔ بھارت کے پاس ایٹمی اسلحے کے ذخائر بھی موجود ہیں اور اس نے ایک خفیہ نیوکلیئر سٹی بھی تعمیر کر رکھا ہے۔
ترجمان نے کہا کہ بھارت' پاکستان اور مقبوضہ کشمیر میں دہشتگردی میں ملوث ہے۔ پاکستان میں بھارتی مداخلت کے ناقابل تردید شواہد موجود ہیں اس حوالے سے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کو ڈوزئیر بھی جمع کرائے ہیں، پاکستان مذاکرات پر یقین رکھتا ہے لیکن بھارت نے ہماری پیشکش کو ہمیشہ ٹھکرایا ہے، سمجھوتہ ایکسپریس کا معاملہ بھارت سے بارہا اٹھایا اور تحقیقات سے آگاہ کیے جانے کا مطالبہ کیا لیکن بھارت نے تاحال کوئی مثبت جواب نہیں دیا، الزام تراشی کے بجائے بھارت پاکستان کے امن اقدامات کا جواب دے، بھارت کی جانب سے ایل او سی کی خلاف ورزیوں سے تناؤ پیدا کیا جا رہا ہے۔
دسمبر 2015ء میں امریکی جریدے'' فارن پالیسی'' نے ایک رپورٹ میں انکشاف کیا تھا کہ بھارت اپنی جنوبی ریاست کرناٹک کے علاقے چلاکیرے میں ایک نیوکلیئر سٹی تعمیر کر رہا ہے جو برصغیر میں اپنی نوعیت کا سب سے بڑا جوہری شہر ہو گا یہاں نئے ہائیڈروجن بم بنانے کے لیے یورینیم کی افزودگی کی جائے گی جس کا مقصد جوہری ہتھیاروں میں خاطر خواہ اضافہ کرنا ہے' یہاں ایٹمی ریسرچ لیبارٹریاں اور ایٹمی ہتھیار بنائے جائیں گے اس کے علاوہ بڑے پیمانے پر ایئر کرافٹ ٹیسٹنگ کی سہولتیں بھی میسر ہوں گی' یہ شہر 2017ء میں پایہ تکمیل میں پہنچ جائے گا۔
بھارت کا جنگی جنون پہلی بار سامنے نہیں آیا وہ گزشتہ کئی عشروں سے خوفناک ہتھیار بنانے اور اپنی جنگی صلاحیت میں اضافہ کرنے کی تگ و تاز کر رہا ہے' وہ ہر سال اپنے دفاعی بجٹ میں مسلسل اضافہ کرتا چلا آ رہا ہے' حالیہ دنوں اس نے اپنے دفاعی بجٹ میں ایک بار پھر خاطر خواہ اضافہ کیا جس کا مقصد جدید ترین اور خوفناک ہتھیاروں کے انبار لگانا ہے۔ آخر بھارت اتنے خوفناک ہتھیار کیوں اکٹھے کر رہا ہے' وہ ایشیا کی سب سے بڑی جنگی طاقت بننے کے خبط میں مبتلا ہے اور اپنی اس بالادستی کی راہ میں چین اور پاکستان کو اپنا دشمن تصور کرتا ہے۔
ایک بہت بڑے جوہری شہر کی تعمیر کی رپورٹ منظر عام پر آنے کے باوجود اقوام متحدہ' امریکا اور دیگر بڑی طاقتوں نے کوئی واویلا نہیں مچایا بلکہ اس سلسلے میں وہ مکمل طور پر مہر بہ لب رہے جب کہ دوسری جانب پاکستان اور اسلامی دنیا کے بارے میں ان کا رویہ منافقانہ اور دوغلا ہے' امریکا متعدد بار پاکستان پر اپنا ایٹمی پروگرام رول بیک کرنے کے لیے دباؤ ڈال چکا ہے' پاکستان کے ایٹمی پروگرام کو اسلامی ایٹم بم کا نام دے کر پوری دنیا میں پروپیگنڈا کیا گیا۔
ایران نے ایٹمی پروگرام شروع کیا تو اقوام متحدہ اور عالمی طاقتیں اس کے خلاف متحرک ہو گئیں اور اس پر پابندیاں عائد کر دیں' عراق پر خوفناک مہلک ہتھیار رکھنے کا الزام لگا کر اس کا تورا بورا بنا دیا گیا' لیبیا نے ایٹمی قوت بننے کی خواہش کی تو اس کو بھی نشانہ عبرت بنا کر دم لیا۔
بھارت کا بڑھتا ہوا جنگی جنون خاص طور پر ایٹمی ہتھیاروں اور بین البراعظمی بیلسٹک میزائل کی تیاریوں سے خطے میں طاقت کا توازن بگڑنے کا خدشہ بدرجہ اتم موجود ہے' پاکستان کو بھی اس حقیقت کا بخوبی ادراک ہے اور وہ پوری دنیا کی توجہ اس جانب مبذول کرانے کے لیے تگ و دو کر رہا ہے مگر بڑی طاقتوں کی جانب سے بھارت پر کوئی دباؤ نہیں ڈالا جا رہا۔ جہاں تک پاک بھارت باہمی تنازعات کا تعلق ہے تو پاکستان نے کئی بار مذاکرات کی پیشکش کی مگر بھارت نے کوئی نہ کوئی بہانہ گھڑ کر اس سے راہ فرار اختیار کی ہے۔
بھارت کی جانب سے ایل او سی کی خلاف ورزیاں بھی مسلسل جاری ہیں' اس کی بلااشتعال فائرنگ سے شہداء کی تعداد 400 کے قریب پہنچ چکی ہے۔ عالمی طاقتیں بھارت کو خفیہ طور پر بہت بڑی ایٹمی قوت بننے میں معاونت کر کے ایک بہت خوفناک کھیل کھیل رہی ہیں اس سے نہ صرف خطے میں طاقت کا توازن بگڑے بلکہ عالمی امن بھی خطرے سے دوچار ہو جائے گا۔ اقوام متحدہ اور امریکا نے اگر اس جانب توجہ نہ دی تو آنے والے وقت میں اس کا خمیازہ انھیں بھی بھگتنا پڑے گا۔