سینیٹ ٹیکس قوانین ترمیمی بل پر قائمہ کمیٹی کی سفارشات منظور

اتحادی،اپوزیشن جماعتوں کا احتجاج،سفارشات قومی اسمبلی کوارسال، 108 ارب اضافی رقم اکٹھی ہوگی،وزیرخزانہ


News Agencies January 05, 2013
اتحادی،اپوزیشن جماعتوں کا احتجاج،سفارشات قومی اسمبلی کوارسال، 108 ارب اضافی رقم اکٹھی ہوگی،وزیرخزانہ فوٹو : فائل

سینیٹ میں حکومت کی اتحادی اور اپوزیشن جماعتوں کی شدید مخالفت کے باوجود ٹیکس قوانین ترمیمی بل 2012 پر قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کی سفارشات کثرت رائے سے منظور کرکے قومی اسمبلی بھجوادی ہیں۔

وزیرخزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ نے ایوان کو یقین دلایا ہے کہ ٹیکس قوانین ترمیمی بل کا مقصد امراء کوچھوٹ دینا نہیں جبکہ اپوزیشن کا کہنا تھا کہ اس سے ٹیکس چوری بڑھے گی۔ جمعے کو ایوان بالا کا اجلاس چیئرمین سید نیئر حسین بخاری کی صدارت میں ہوا۔ قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کی چیئرپرسن نسرین جلیل نے ٹیکس قوانین ترمیمی بل پر کمیٹی کی سفارشات ایوان میں پیش کیں ، بعدازاں وزیر خزانہ نے سفارشات قومی اسمبلی کو ارسال کرنیکی تحریک پیش کی جو ایوان نے کثرت رائے سے منظور کرلی۔

قبل ازیں قائد حزب اختلاف اسحق ڈار نے ٹیکس قوانین میں ترامیم پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس سے ٹیکس چوری بڑھے گی۔ سینیٹر حاصل بزنجو نے کہا کہ بل کو اگلی حکومت پر چھوڑ دیاجائے ۔ سینیٹر طاہر حسین مشہدی نے کہا کہ ٹیکس چوروں کو تحفظ دینے کے بجائے ہمیں غریب عوام کے فائدے کیلیے قانون سازی کرنی چاہیے۔ سینیٹر رفیق رجوانہ نے کہا کہ ترامیم کی حمایت نہیں کی جا سکتی۔ سینیٹر مشاہد حسین سید نے کہا کہ یہ بل ٹیکس کے مساوی نظام کے متضاد ہے، اس کو موخر کر دیا جائے۔ نسرین جلیل نے کہا کہ وہ بھی ٹیکس معافیوں کیخلاف ہیں تاہم قواعد کے تحت رپورٹ پیش کرنا میری مجبوری ہے ۔

05

وزیر خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ نے بتایا کہ ٹیکس قوانین ترمیمی بل کا مقصد امراء کو ٹیکسوں سے چھوٹ دینا نہیں بلکہ ان سے ٹیکس وصول کرنا ہے، 29 لاکھ امراء پر ہاتھ ڈال کر ٹیکس وصول کیا جائیگا، غریبوں کے نام لیکر امراء کو نہ بچایا جائے ، ترامیم سے 108 ارب روپے کی اضافی رقم اکٹھی ہوگی۔ دریں اثناء حکومتی اور اپوزیشن ارکان کے احتجاج کے باوجود جمعہ کو بھی وزراء کی اکثریت ایوان سے غائب رہی جس پر قائد ایوان جہانگیر بدر سمیت حکومتی اور اپوزیشن ارکان نے پھر احتجاج کرتے ہوئے غیر حاضر وزراء کے داخلے پر پابندی لگانے کا مطالبہ کیا۔

آن لائن کے مطابق وزراء کی غیر حاضری کے معاملے پر چیئرمین سینٹ اور قائد ایوان میں تکرار بھی ہوئی، نیئر بخاری نے وزراء کی عدم موجودگی کو قائد ایوان کی نااہلی قراردیتے ہوئے معاملہ وزیراعظم کے ساتھ اٹھانے کا اعلان کردیا ، حکومتی رکن میاں رضا ربانی نے کے ای ایس سی سے متعلق سوالوں کے جواب نہ آنے پر ایوان سے علامتی واک آئوٹ کیا ، اے این پی کے ارکان نے بھی انکا ساتھ دیا۔ وقفہ سوالات کے دوران وفاقی وزیر بین الصوبائی رابطہ میرہزار بجارانی نے کہا کہ 2013 میں ملک کو پولیو سے پاک کردیا جائیگا ، پولیوویکسین کی جگہ ٹیکے لگانے کی تجویز زیر غور ہے۔

وفاقی وزیر اطلاعات ونشریات قمر زمان کائرہ نے کہا کہ اس وقت کوئی بھی ملازم دہری شہریت کا حامل نہیں، مقابلہ کے امتحان کے قواعد 2009ء کے قاعدہ 6 سوئم میں وضع کیا گیا ہے کہ دہری شہریت کے حامل امیدوار کو اپنی شہریت سے دستبردار ہونا لازمی ہو گا۔ وزیر داخلہ رحمن ملک نے مختلف ارکان کے نکتہ اعتراض کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ موبائل فون دہشتگردوں کے درمیان رابطے کا ذریعہ بن چکے ہیں، غیر رجسٹرڈ سموں کو نہیں چلنے دیں گے۔ اجلاس غیر معینہ مدت کیلیے ملتوی کردیا گیا ، قبل ازیں ن لیگ کے نومنتخب سینیٹر چودھری جعفر اقبال نے حلف اٹھالیا۔