2 بچیوں کو ونی کرنے پر ’ازخود نوٹس‘

مقدمہ میں مدعی ریاست ہے تو بچی کے والد کا صلح نامہ کیا قانونی حیثیت رکھتا ہے


Editorial February 12, 2017
فوٹو: فائل

NEW DELHI: وطن عزیز میں عوام کی پہنچ انصاف تک بمشکل ہونے سے چیف جسٹس کی جانب سے ایک کے بعد ایک از خود نوٹس لیے جانے کی اطلاعات موصول ہورہی ہیں جو کہ چیف جسٹس کا قابل مستحسن عمل ہے، کم از کم اسی طرز عمل سے ایک عام شخص 'انصاف' سے فیض یاب ہوپاتا ہے۔

اطلاعات ہیں کہ چیف جسٹس سپریم کورٹ نے جیکب آباد کے گاؤں کریم بخش میں جرگے کی جانب سے 2 اور 6 سالہ بچیوں کو ونی کرنے کے معاملے کا ازخود نوٹس لیتے ہوئے ڈی آئی جی لاڑکانہ سے رپورٹ طلب کرلی ہے۔ جرگے نے ایک تنازع پر بچیوں کے والد ہاشم کو مخالف فریق کو 13 لاکھ روپے جرمانہ ادا کرنے کا حکم دیا تھا، ہاشم نے جرگے کے فیصلے پر 7 لاکھ روپے ادا کیے تاہم چند دن قبل جرگے میں شامل افراد نے بقایا رقم ادا نہ کرنے پر دونوں بچیوں کو ونی کرنے کا حکم سنادیا۔

اس معاملے میں میڈیا کا کردار بھی لائق تعریف ہے کہ وہ عام آدمی کے مسائل کی بھرپور ترجمانی کررہا ہے۔ لیکن اس جانب بھی توجہ مرکوز کرنی ہوگی کہ آخر کب تک ملک میں انصاف 'ازخود نوٹسز' کا محتاج رہے گا۔ انصاف کی فراہمی ریاست کی ذمے داری ہے، نیز قانون میں موجود اسقام کو بھی درست کرنے کی ضرورت ہے۔

خبر ہے کہ اسلام آباد میں ایڈیشنل سیشن جج کے گھر پر تشدد کا نشانہ بننے والی بچی طیبہ کے والد محمد اعظم نے مقدمے سے دستبردار ہوتے ہوئے ایک مرتبہ پھر ملزم جج راجا خرم علی اور ان کی اہلیہ ماہین کو معاف کردیا اور صلح نامہ جمع کرادیا۔ کیا مضحکہ خیز صورتحال ہے کہ متاثرہ بچی کے والد کا کہنا ہے سپریم کورٹ میں ان کی طرف سے دیا گیا بیان دباؤ کا نتیجہ تھا۔

اس صورت حال میں یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ جب مقدمہ میں مدعی ریاست ہے تو بچی کے والد کا صلح نامہ کیا قانونی حیثیت رکھتا ہے۔ یہ صراحت بھی ضروری ہے کہ ہر جرم قابل معافی نہیں ہوتا، ورنہ تمام ملزمان معافی نامہ داخل کراکے انصاف کا خون کرتے رہیں گے۔