ویزا تنازعہ… سینیٹ وفد کا امریکی دورہ منسوخ

ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کو بروقت ویزہ جاری نہ ہونے پر چیئرمین سینیٹ رضا ربانی نے سختی سے نوٹس لیا


Editorial February 13, 2017
، فوٹو؛ فائل

چیئرمین سینیٹ رضا ربانی نے ڈپٹی چیئرمین سینیٹ مولانا عبدالغفور حیدری کو امریکی سفارت خانے کی طرف سے بروقت ویزہ جاری نہ کرنے پر سینیٹ کے وفد کا دورہ امریکا منسوخ کر دیا ہے اورمناسب وضاحت تک سینیٹ کے امریکا سے تعلقات معطل کردیے ہیں۔

سینیٹ سیکریٹریٹ سے جاری بیان کے مطابق ڈپٹی چیئرمین سینیٹ اور سینیٹر لیفٹیننٹ جنرل (ر) صلاح الدین ترمذی پر مشتمل سینیٹ کے وفد نے 13 اور 14 فروری کو اقوام متحدہ کے ہیڈکوارٹر نیویارک میں انٹر پارلیمانی مباحثے میں شرکت کے لیے 10 فروری کو امریکا جانا تھا۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق گذشتہ ہفتے مولانا عبدالغفور حیدری اور سینیٹر صلاح الدین ترمذی نے اسلام آباد میں امریکی سفارتخانے کو ویزہ درخواست دی، امریکی سفارتخانے نے سینیٹر صلاح الدین ترمذی کا ویزہ جاری کردیا مگر ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کو ویزہ جاری کرنے میں غیر ضروری تاخیر کی۔ ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کو بروقت ویزہ جاری نہ ہونے پر چیئرمین سینیٹ رضا ربانی نے سختی سے نوٹس لیا۔ چیئرمین سینیٹ نے ایک بیان میں کہا کہ جب تک امریکی حکام کوئی وضاحت نہیں کرتے سینیٹ کا کوئی وفد امریکا کا کوئی دورہ نہیں کرے گا اور نہ ہی امریکا سے آئے کسی وفد،کانگریس کے رکن یا سفارتکار کا سینیٹ میں خیرمقدم کیا جائے گا۔

اسلام آباد میں امریکی سفارتخانے نے ڈپٹی چیئرمین سینیٹ مولانا عبد الغفور حیدری کو امریکا کا ویزہ جاری کرنے میں تاخیر کے حوالے سے سفار تخانہ کے ترجمان فلیور نے جواب دینے سے معذرت کرتے ہوئے کہاکہ وہ ویزہ جاری کرنے کے حوالے سے پرائیویٹ کیسوں پر تبصرہ نہیں کرتے۔ امریکی سفارتخانے کو ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کے ویزا کے اجرا میں غیر ضروری تاخیر کی وضاحت کرنی چاہیے تھی تاکہ اصل صورت حال سامنے آتی مگر اس نے ردعمل دینے سے معذرت کرکے معاملہ کو اہمیت نہیں دی۔

ردعمل میں چیئرمین سینیٹ رضا ربانی نے امریکا جانے والے وفد کا دورہ منسوخ اور مناسب وضاحت تک سینیٹ کے امریکا سے تعلقات معطل کرکے صائب قدم اٹھایا۔ ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کے ویزے کے اجرا میں ہونے والی غیر ضروری تاخیر اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ اب امریکا جانے والے دیگر پاکستانیوں کے ساتھ بھی ایسے معاملات پیش آ سکتے ہیں۔

سیاسی تجزیہ نگار اس سے یہ نتیجہ اخذ کر رہے ہیں کہ واشنگٹن میں برسراقتدار آنے والی نئی انتظامیہ ویزوں کا اجرا نہ کرکے امریکا آنے کے خواہش مند پاکستانیوں بالخصوص مذہبی لوگوں کی حوصلہ شکنی کر رہی ہے' اس سلسلے میں حکومت پاکستان کو بھی ایران جیسا رویہ اپنا کر امریکا کو سخت جواب دینا چاہیے' امریکا نے ایران کے شہریوں کی آمد پر پابندی عائد کی تو جواباً ایران نے بھی سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے امریکیوں کی اپنے ملک میں آمد پر پابندی عائد کر دی۔

ادھر امریکا میں غیر قانونی تارکین وطن کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن شروع ہو گیا ہے' امریکی میڈیا کے مطابق نیویارک' لاس اینجلس' اٹلانٹا' شکاگو' کنساس' ٹیکساس' فلوریڈا' شمالی اور جنوبی کیرولینا میں گھروں اور دفاتر پر چھاپے مارے گئے جن میں قانونی دستاویزات نہ رکھنے والے سیکڑوں تارکین وطن کو حراست میں لے لیا گیا۔ اٹلانٹا میں ایک امیگریشن وکیل نے کہا کہ گرفتاریوں سے پریشانیاں بڑھ رہی ہیں' حکام گھر گھر جا کر دستاویزات طلب کر رہے جس پر لوگ خوفزدہ ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے قانونی دستاویزات نہ رکھنے والے لاکھوں افراد کو امریکا سے نکالنے کا بیان دیا تھا۔

دوسری جانب ڈونلڈ ٹرمپ نے عدالت کی جانب سے سات مسلم ملکوں پر پابندی کا حکم نامہ معطل ہونے کے بعد امیگریشن سے متعلق نیا ایگزیکٹو آرڈر جاری کرنے کا فیصلہ کر لیا جس کے بارے میں امکان ہے کہ وہ ایک دو روز میں جاری کر دیا جائے گا۔ ڈونلڈ ٹرمپ امریکی عدالت کی جانب سے اپنے فیصلوں کی معطلی کو کسی صورت قبول کرنے کے لیے تیار نہیں اور وہ عدالتی فیصلوں کے خلاف ایک لڑائی لڑنے کے لیے تیار ہو چکے ہیں۔

صدر ٹرمپ نے صحافیوں کو بتایا کہ وہ یہ لڑائی جیت جائیں گے اگرچہ اس میں وقت لگے گا۔ یوں معلوم ہوتا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ یہ پختہ عزم کر چکے ہیں کہ وہ غیرقانونی تارکین وطن کو ہر صورت امریکا سے نکال کر دم لیں گے اور اس کی راہ میں آنے والی کسی بھی قانونی یا عدالتی رکاوٹ کو برداشت نہیں کریں گے۔ اپنے نئے انتظامی حکم نامے کے خلاف آنے والے عدالتی فیصلے کے باوجود انھوں نے غیرقانونی تارکین وطن کی پکڑ دھکڑ شروع کر دی۔

واشنگٹن انتظامیہ اور امریکی عدالت کے درمیان شروع ہونے والی اس نئی کشمکش کے دوران ایک حیرت انگیز خبر بھی سامنے آئی کہ سفری پابندیوں کے فیصلے کو معطل کرنے والے ججوں کو باقاعدہ دھمکیاں ملنا شروع ہو گئی ہیں جس کے بعد ان کی سیکیورٹی بڑھا دی گئی ہے۔ امریکا کے اب عالمی معاملات بالخصوص چند مسلم ممالک کے بارے میں رویے اور پالیسیوں میں تبدیلی آ رہی ہے، پاکستان کو بھی اس بدلتے ہوئے حالات کے مطابق اپنے لائحہ عمل میں تغیر و تبدل لانا ہو گا۔