ڈاکٹر حمیدہ کھوڑو ابدی نیند سوگئیں
حمیدہ کھوڑوکا سیاسی سفر جئے سندھ تحریک سے شروع ہوا
PESHAWAR/
JAMRUD:
ڈاکٹر حمیدہ کھوڑواس دارفانی سے کوچ کرگئیں۔ یہ خبر ملک بھر میں انتہائی دکھ کے ساتھ سنی گئی۔ سندھ کے شہر لاڑکانہ نے ملک وقوم کے لیے قابل فخرسپوت اورلیڈر پیدا کیے، ان میں ایوب کھوڑوکا نام بھی نمایاں ہے جو سندھ کے پہلے وزیراعلیٰ تھے۔ ان کی قابل اورذہین صاحبزادی نے اپنے والدکی سیاسی میراث کو نہ صرف آگے بڑھایا، بلکہ علم وادب کا ایک روشن ستارہ ثابت ہوئیں۔
تاریخ دانی کے میدان میں اپنا لوہا منوایا اور سندھ کے کردار کو بہت نمایاں کیا ۔انھوں نے ابتدائی تعلیم لاڑکانہ سے جب کہ گریجویشن کراچی یونیورسٹی سے کیا اور اعلیٰ تعلیم کے لیے برطانیہ چلی گئیں ۔انھوں نے کیمبرج یونیورسٹی سے گریجویشن کرنے کے بعد آکسفورڈ یونیورسٹی سے ماسٹرز اور ایشین ہسٹری میں پی ایچ ڈی کیا۔ وطن کی محبت انھیں دوبارہ کھینچ لائی اور انھوں نے کراچی یونیورسٹی کے شعبہ تاریخ میں درس وتدریس شروع کردی۔
بعدازاں انھیں سندھ یونیورسٹی میں پاکستان اسٹڈی سینٹرکا سربراہ مقررکیا گیا۔ان کی تصانیف میں 'سندھ تھرو سینچریز، دی میکنگ آف ماڈرن سندھ اورکراچی میگا سٹی آف اوور ٹائمز'' شامل ہیں۔ انھوں نے اپنے والد کی یادداشتوں پر مشتمل کتاب''محمد ایوب کھوڑو لائف آف کریج ان پالیٹکس'' بھی تحریر کی۔
آکسفورڈ کے لیے چاروں صوبوں کی مختصر تاریخ لکھی تھی جو بچوں کے لیے شایع کی گئی ہے۔ حمیدہ کھوڑوکا سیاسی سفر جئے سندھ تحریک سے شروع ہوا ، وہ ایک قوم پرستی سیاسی رہنما کے طور پر سامنے آئیں، 1993 میں پاکستان مسلم لیگ میں شمولیت اختیارکی۔ 2002 کے انتخابات میں وہ خواتین کی مخصوص نشست پر رکن سندھ اسمبلی بنیں اورانھیں وزیرتعلیم کے عہدے پر فائزکیا گیا۔ اس سے قبل وہ 1990 بھی وزیرتعلیم رہیں۔
سیاست اور علم وادب کا اتنا حسین امتزاج کسی ایک شخصیت میں جمع ہوجانا ، اس شخصیت کی عظمت کی دلیل ہے، بلاشبہ ڈاکٹر حمیدہ کھوڑو نے تاریخ ، تعلیم اور ادب کے شعبوں میں گراں قدر جو خدمات سرانجام دی ہیں وہ ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی، ان کا خلا باآسانی پر نہیں کیا جا سکتا ، علم کے ایک بحر بیکراں کے رخصت ہونے سے پاکستان اور سندھ کے عوام بالخصوص افسردہ ہیں ۔