سب سے بڑی سپریم پاور
ایک کہاوت کے مطابق یہ دنیا یا تو زبردستوں کی ہے یا بے شرموں کی۔
بچپن میں ایک کہانی سنی تھی جس کی تفصیلات اب پوری طرح یاد نہیں ہیں لیکن بات کچھ اس طرح سے تھی کہ ایک شخص نے سورج کی طاقت دیکھ کر چاہا کہ سورج بن جائے وہ سورج بن گیا تو دیکھا کہ سب تو اس کی طاقت کے قائل ہو گئے ہیں لیکن پہاڑ اس کی پروا بھی نہیں کرتا چنانچہ اس نے پہاڑ کو سب سے زیادہ طاقتور سمجھ کر پہاڑ بننے کی خواہش کی لیکن پہاڑ بننے کے بعد اس نے دیکھا کہ چوہا اس سے بالکل نہیں ڈرتا اور اسے کھود رہا ہے، اس لیے اس نے چوہا بننا پسند کیا یا شاید یہ تھا کہ چپراسی بابو سے ڈرتا تھا بابو افسر سے ڈرتا تھا اور افسر اپنی بیوی سے ... مطلب یہ کہ ''سپریم پاور'' ہمیشہ بدلتے رہتے ہیں کسی کے لیے کوئی سپر پاور ہے تو کسی کے لیے کوئی۔ لیکن تمام سپریم پاورز پر تحقیق کرنے کے بعد جو آخری نتیجہ ہمارے ہاتھ لگا ہے وہ یہ ہے کہ دنیا میں کوئی سپریم پاور ہے تو وہ بے شرمی اور صرف بے شرمی ہے جس نے دنیا میں بے شرمی کا عظیم الشان فن سیکھ لیا یا طاقت حاصل کی اس کے سامنے پہاڑ بھی کھڑا نہیں رہ سکتا، پانی پانی ہو کر رہ جاتا ہے، یہ چشمے جھرنے دھارے جو پہاڑوں سے بہہ کر آتے ہیں، یہ شاید پہاڑوں کے آنسو ہوتے ہیں جو وہ انسان کی بے شرمی پر بہاتے ہیں حالانکہ خاطر غزنوی نے اس بات کو کچھ اس طرح سے بیان کیا ہے کہ
کوہساروں کا دل پگھلا تو چشمے ہوئے پیدا
اور لوگ یہ کہتے ہیں کہ پتھر نہیں روتے
اصل میں خاطر غزنوی مرحوم ذرا شرم و حیا والے تھے ورنہ وہ دل پگھلا کے بجائے ''دل ٹوٹا'' کہتے اور اس کی وجہ صاف صاف بتا دیتے، شرم بلا شبہ ایک بہت بڑی کمزوری ہے اور جس نے اس کمزوری پر قابو پا لیا وہ دھنے ہو گیا بلکہ سپر پاور ہو گیا اسی لیے تو بزرگوں نے کہا ہے کہ جس نے کی شرم اس کے پھوٹے کرم، بلکہ پشتو میں تو بے شرمی کو باقاعدہ ایک زبردست ہتھیار مانا جاتا ہے۔
ایک کہاوت کے مطابق یہ دنیا یا تو زبردستوں کی ہے یا بے شرموں کی، لیکن فی زمانہ اس کہاوت میں کچھ ترمیم کرنا لازمی ہے بلکہ اسے ایڈیٹ کر کے نئے سرے سے بنانا چاہیے کہ یہ دنیا پہلے زبردستوں کی تھی لیکن اب بے شرموں کی ہو گئی ہے اور یہ حقیقت ہے پہلے زمانوں میں یہ سکندر، چنگیز، ہلاکو، بابر، تیمور وغیرہ زبردست طاقت کے ذریعے راج سنگھاسن پر قبضہ کر لیتے تھے لیکن آج کل ... ہمارا خیال ہے کہ یہاں خواہ مخواہ الفاظ ضایع کرنے کی کیا ضرورت ہے کہ سب کچھ ظاہر ہے راج سنگھاسن بھی سامنے ہے اور یعنی گویا چونکہ چنانچہ ہاں
جاں فزا ہے بادہ جس کے ہاتھ میں جام آ گیا
سب لکیریں ہاتھ کی گویا رگ جاں ہو گئیں
کرشن چندر کا ایک افسانہ ہے جس میں وہ ایک بیمہ ایجنٹ کا ذکر کرتا ہے لیکن وہ ایجنٹ میرے پیچھے سائے کی طرح پڑ گیا دفتر میں، گھر پر، بازار میں کہیں نہ کہیں وہ مجھ پر نازل ہو کر پالیسی لینے کی ترغیب دیتا، نہایت ہی تنگ آگیا لیکن اپنی بزدلی کی وجہ سے اس کے ساتھ سختی سے پیش بھی نہیں آ سکتا لیکن ایک دن تو اس نے حد کر دی میں گھر کی سیڑھیاں چڑھ رہا تھا کہ اس نے مجھے سیڑھیوں میں گھیر لیا ساتھ چلتا ہوا اور کبھی آگے ہو کر بیمہ پالیسی کے فوائد بتا رہا تھا آخر سیڑھیوں کے اختتام پر میں نے دھکا دے کر اسے راستے سے ہٹانا چاہا لیکن دھکا شاید زور سے لگا کہ وہ سیڑھیوں پر گرا کر لڑھکتا ہوا نیچے جا پہنچا۔
میں سخت پشمان ہوا دوڑ کر نیچے اترا اور اسے اٹھانے کی کوشش کی لیکن وہ خون سے بھرے ہوئے منہ سے بولا، دیکھیں اس طرح کے حالات آپ کو بھی پیش آ سکتے ہیں اس لیے بیمہ کرا لیجیے، ہمیں بیمہ والوں سے معذرت کرنا چاہیے کیوں کہ ان میں کچھ ہمارے دوست بھی ہیں (کاش نہ ہوتے) لیکن یہ بیان ہمارا نہیں کرشن چندر کا ہے یہ تو اس نے نہیں لکھا کہ اس کے بعد اس نے اپنا بیمہ کرایا یا نہیں لیکن یہ ممکن ہی نہیں کہ وہ اس کے بعد بھی نہ مانتا کیوں کہ اگر نہ کرتا تو اس سے آگے صرف تین سو دو کا مرحلہ تھا اور کرشن چندر کے بارے میں ہم جانتے ہیں کہ اس پر تین سو دو کا مقدمہ کبھی نہیں چلا تھا یعنی اس نے بیمہ کروا لیا۔
ہمیں کبھی کسی بیمہ یا اور کسی ایجنٹ سے تو واسطہ نہیں پڑا ہے لیکن اور بہت سارے ایسے لوگوں سے ہمیشہ واسطہ رہتا ہے جو بے شرمی کے اس خطرناک ہتھیار سے مسلح ہوتے ہیں اور یہ واسطہ کوئی معمولی نہیں ہے بلکہ لگ بھگ ستر سال سے ہم ایسے سپریم پاور رکھنے والوں کے نرغے میں ہیں۔
رضیہ بھی اتنے زیادہ غنڈوں میں نہیں پھنسی ہو گی جتنے ہم ان ''سپریموں'' میں گھرے ہوئے ہیں، ویسے ماننا پڑے گا کہ یہ طاقت اس پہلے والی طاقت سے زیادہ طاقتور ہے جس کے زور پر پرانے سپریم راج سنگھاسن پر قبضہ کر لیا کرتے تھے وہ تو پھر بھی لشکر جمع کرتے تھے ان کو تنخواہیں دیتے تھے ہتھیار فراہم کرتے تھے لیکن اس جدید ''سپریم پاور'' عرف بے شرمی کے لیے کچھ بھی نہیں چاہیے ہوتا ہے صرف بے شرمی اوڑھنے کی دیر ہے کہ مفت کے لشکر میں جمع ہو جاتے ہیں اور وہ اپنے ہتھیار اپنے ساتھ بلکہ منہ میں لیے ہوئے ہوتے ہیں۔
زندہ باد مردہ باد اور ایک ملٹی پرپل ہتھیار ''انقلاب'' بے شرمی کی بے پناہ طاقت دیکھ کر ہم نے بھی اسے حاصل کرنے کی بڑی کوشش کی لیکن اس کا حصول مشکل ہی نہیں بلکہ ناممکن ہے کیوں کہ اس کے لیے خواہش مند کی طرف ایسی کوالی فیکشن کافی نہیں ہوتی بلکہ پچھلی چند پیڑھیوں کی کوالی فیکشن بھی چاہیے ہوتی ہے اگر ہماری گزشتہ پیڑھیاں اس قابل ہوتیں تو پھر رونا کس بات کا تھا وہ بھی تہی دست تھے اور ہم بھی خالی ہاتھ آئے ہیں خالی ہاتھ جائیں گے۔