عالمی مذہبی یکجہتی کی ضرورت

آج دنیا جن مسائل کا شکار ہے،ان میں ایک خطرناک مسئلہ مذہبی انتہاپسندی اوردہشت گردی کا ہے


Zaheer Akhter Bedari February 16, 2017
[email protected]

آج دنیا جن مسائل کا شکار ہے،ان میں ایک خطرناک مسئلہ مذہبی انتہاپسندی اوردہشت گردی کا ہے۔ مذہبی انتہا پسندی بلاشبہ ایک بہت بڑا خطرہ ہے اور یہ وبا اب علاقائی سطح سے نکل کر عالمی سطح تک آگئی ہے لیکن اس خطرے کا مقابلہ بدقسمتی سے صرف ہتھیاراورفوج کے ذریعے ہی کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

یہ کوشش افغانستان پر مغرب کے حملے اور قبضے کے بعد کمزور ثابت ہوگئی اورامریکا اور اس کے اتحادیوں کوکھربوں ڈالرکے علاوہ بڑے جانی نقصان کا بھی سامنا کرنا پڑا، لیکن مغربی ملک اب تک اسی خطرے کا مقابلہ صرف ہتھیاروں اور فوجی طاقت کے ذریعے ہی کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔

جنگوں کی تاریخ میں بڑے بڑے نامور جنرل گزرے ہیں اور ان کی صلاحیتوں، مہارت اورمنصوبہ بندیوں سے بڑی بڑی جنگیں بھی جیتی جاچکی ہیں لیکن دنیا کو آج جس جنگ کا سامنا ہے اس میں روایتی ہتھیاروں سے زیادہ نظریات کا دخل ہے۔

مغرب میں بڑے بڑے دانشور، مفکر اور فلسفی موجود ہیں لیکن حیرت ہے کہ اس نظریاتی جنگ میں ان سے نہ تعاون لیا جا رہا ہے نہ باضابطہ مشاورت لی جا رہی ہے، جس کا نتیجہ یہ ہے کہ دہشت گردی ''مرض بڑھتا گیا جوں جوں دواکی'' کی صورت حال پیدا ہوگئی ہے۔

امریکا کے نئے اور انتہائی جذباتی صدرٹرمپ نے بھی دہشت گردی کو اپنے ایجنڈے میں سرفہرست رکھا ہے لیکن ٹرمپ بھی اپنے پیش روؤں کی طرح اس کا فوجی حل تلاش کرنے میں لگے نظر آتے ہیں۔ مغرب کے فوجی ماہرین اور نظریاتی آئی کون یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ ایک کم عمر اور نوجوان مرد اورخواتین اپنے جسم سے بارودی جیکٹ باندھ کر اپنے آپ کو ایک اذیت ناک اور دہشت ناک موت کے حوالے کیوں کررہے ہیں۔ مغربی ملکوں کے تعلیم یافتہ باشعور لوگ دہشت گرد تنظیموں میں شامل ہونے کے لیے شام، عراق کیوں پہنچ رہے ہیں؟

اس حوالے سے سب سے پہلے مغربی اکابرین کو یہ دیکھنا چاہیے کہ مذہبی انتہا پسندی پیدا کیوں ہوئی اوراس تیزی سے فروغ کیوں پائی ہے؟ اس سوال کا سادا سا اور آسان جواب یہ ہے کہ مغرب کے بااختیار حکمرانوں نے مسلمانوں کے ساتھ ہونے والی ناانصافیوں اور مظالم کو روکنے کی کوشش نہیں کی۔ فلسطین اورکشمیر دو ایسے مسائل ہیں جو اعتدال پسند عوام کو بھی انتہا پسندی کے راستے پر ڈال رہے ہیں۔ یہ دونوں مسئلے نصف صدی سے زیادہ عرصے سے لٹکے ہوئے ہیں اور دونوں جگہوں پر بے گناہ مسلمانوں کا خون بہہ رہا ہے جب میڈیا میں ان دونوں جگہوں پر مسلمانوں کو ظلم سہتے دیکھا جاتا ہے تو فطری طور پر مذہبی انتہا پسندی کے نظریات فروغ پانے لگتے ہیں۔

یہ درست ہے کہ مغربی دنیا کو مشرق وسطیٰ کو کنٹرول کرنے کے لیے ایک شکنجے کی ضرورت تھی اور وہ شکنجہ انھوں نے اسرائیل کی شکل میں تلاش کرلیا۔ مغربی زعما کا اس حوالے سے استدلال یہ تھا کہ مظلوم یہودیوں کا کوئی ملک نہیں اور ان بے وطن یہودیوں کا ایک وطن ہونا چاہیے۔ سو انھوں نے عربوں کے سینے پر اسرائیل تخلیق کردیا۔ لیکن یہ سوچنے کی زحمت نہیں کی کہ ایک بے وطن قوم کو وطن دلاکر دوسری قوم کو بے وطن کرنے کے نتائج کیا ہوںگے؟

یہودیوں پر مظالم ڈھانے والے فلسطینی نہیں تھے بلکہ جرمن تھے۔ ہٹلر نے یہودیوں پر جو مظالم ڈھائے اس کی تاریخ میں مثال نہیں ملتی لیکن مغرب نے یہودیوں کی مظلومیت ختم کرنے کے لیے نہ صرف فلسطینیوں کو مظلوم بنادیا بلکہ اسرائیل کو اس قدر ظالم بنادیا کہ اس کے مظالم کے رد عمل میں دہشت گردی وجود میں آئی۔ یہی صورت حال کشمیرکی ہے انگریزوں نے ہندوستان چھوڑتے ہوئے برصغیرکو جو ''تحفے'' دیے ان میں سے ایک بڑا تحفہ کشمیر کا مسئلہ ہے۔ اگر بڑی طاقتیں چاہتیں تو یہ دونوں مسائل حل ہوچکے ہوتے لیکن بوجوہ مغرب نے ان سلگتے مسائل کو حل کرنے کی کوشش نہیں کی۔ نتیجہ ہمارے سامنے ہے۔

افغانستان سے عملاً امریکا واپس تو چلا گیا ہے لیکن وہاں کا سب سے بڑا مسئلہ طالبان ہیں جو افغانستان کے دوتہائی حصے پر قابض ہیں۔ یہ وہی طالبان ہیں جنھیں امریکا نے روس کو افغانستان سے نکالنے کے لیے تخلیق کیا تھا۔آج وہی طالبان امریکا کا سب سے بڑا درد سر بنے ہوئے ہیں۔

افسوس کی بات یہ ہے کہ افغانستان کے مسئلے کو حل کرنے کے بجائے امریکا یہاں بھی وہ کردار دینا چاہ رہا ہے جو اس خطے کے مفادات سے متصادم ہے۔ یہ سب عالمی شطرنج کے ایسے کھیل ہیںجو جاری رہیں گے لیکن اصل سوال یہ ہے کہ ان مسائل کے نتیجے میں عالمی سطح پر جو مذہبی دیوانگی پیدا ہورہی ہے اسے کیسے روکا جائے؟

بدقسمتی سے امریکا کو اب ایک ایسا صلا ملا ہے جو عالمی مسائل اور ان کے محرکات کو سمجھ کر ان کا حل تلاش کرنے کے بجائے اپنی جذباتی اپروچ سے مسائل کو اور پیچیدہ اور گمبھیر بنا رہا ہے۔ بے شبہ مغربی ملکوں میں بھی دہشت گردی کی وارداتیں ہورہی ہیں لیکن اس کے اصل محرکات کو سمجھے بغیر اگر ٹرمپ اس کی ذمے داری سارے مسلمانوں پر ڈال دیتے ہیں تو در اصل وہ اپنے سینے میں خود خنجرگھونپ رہے ہیں۔

ہم نے واضح طور پراس حقیقت کی نشان دہی کردی ہے کہ مذہبی انتہا پسندی ایک نظریاتی مسئلہ ہے، اسے فوجی طریقے سے حل نہیں کیا جاسکتا بلکہ اسے حل کرنے کے لیے عالمی سطح پر مذہبی یکجہتی پیدا کرنے کی ایک منظم منصوبہ بندی کی ضرورت ہے۔ جس کی خواہش اور ضرورت کا اظہار مسلم مذہبی رہنماؤں کی طرف سے بھی کیا جارہا ہے۔

امریکی صدر ٹرمپ کے اب تک کیے جانے والے اقدامات سے یہی اندازہ ہوتا ہے کہ وہ دہشت گردی کا فوجی حل ہی تلاش کررہے ہیں۔ اب یہ مغربی اہل علم،اہل دانش کی ذمے داری ہے کہ وہ آگے آئیں اورٹرمپ پر زور دیں کہ وہ عالمی مذہبی یکجہتی کے ون پوائنٹ ایجنڈے پرکام کا آغاز کریں،کیونکہ دہشت گردی کا یہی منطقی علاج ہے۔

مقبول خبریں