سندھ میں ہزاروں ڈاکٹرز کی اسامیاں خالی

مریضوں کو علاج معالجے کے دوران تضحیک آمیز رویے کا سامنا کرنا پڑرہا ہے


Editorial February 19, 2017
: فوٹو : فائل

ملک میں بے روزگاری کا عالم یہ ہے کہ پڑھے لکھے نوجوان ہاتھوں میں ڈگریاں لیے دربدر کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہیں اور دوسری جانب اخباری اطلاعات سے انکشاف ہوا ہے کہ محکمہ صحت کے ماتحت چلنے والے کراچی سمیت اندرون سندھ کے سرکاری اسپتالوں میں ڈاکٹروں سمیت دیگر عملے کی 7 ہزار اسامیاں خالی پڑی ہیں۔ کیا عجب عالم ہے کہ سندھ بھر میں طبی عملے کی شدید کمی محسوس کی جارہی ہے، جو اسٹاف موجود ہے وہ بھی اپنے مفادات کے حصول میں احتجاجی مظاہروں میں شامل ہے اور عوام فلک کی جانب نگاہ کیے مسیحاؤں کے منتظر ہیں۔

شنید ہے محکمہ صحت میں گزشتہ 3 سال سے کمیشن کے ذریعے ڈاکٹروں کی بھرتیاں کی گئیں اور نہ ہی کمیشن کے تحت نرسوں کو مقرر کیا جاسکا، محکمہ صحت نے 2013 میں کمیشن سے درخواست کی تھی کہ محکمہ میں ڈاکٹروں سمیت دیگر عملے کی کمی کا سامنا ہے، 2014 میں کمیشن کے تحت 3 ہزار ڈاکٹروں کے تحریری ٹیسٹ اور انٹرویو بھی لیے گئے تھے جب کہ محکمہ میں پیرامیڈیکل ٹیکنیشنز اور نرسوں کی اسامیاں بھی خالی ہیں، لیکن تکنیکی مسائل کی وجہ سے عملے کی تقرریاں نہیں کی جاسکیں۔

ملک میں شعبہ صحت ویسے ہی زبوں حالی کا شکار ہے اس پر مستزاد اسٹاف کی کمی کے باعث سرکاری اسپتالوں میں صحت کی سہولتوں کا فقدان مزید بڑھ گیا ہے، ذرائع کا کہنا ہے کہ سرکاری اسپتالوں میں طبی سہولتیں 35 فیصد رہ گئی ہیں، اندرون سندھ میں مختلف حادثات و واقعات میں جھلس جانے والے مریضوں کے علاج کے لیے کوئی اسپتال موجود نہیں۔ جب کہ رپورٹ میں یہ انکشاف بھی ہوا ہے کہ حکومت نے خاموشی سے سرکاری اسپتالوں کو پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ میں دینے کا عمل شروع کر رکھا ہے اور اب تک کئی سرکاری اسپتالوں کو غیرمعروف این جی اوز کے سپرد کیا جاچکا ہے۔

مریضوں کو علاج معالجے کے دوران تضحیک آمیز رویے کا سامنا کرنا پڑرہا ہے، یہی وجہ ہے کہ مریضوں کی اکثریت نے سرکاری اسپتالوں کے بجائے نجی اسپتالوں کا رخ کرنا شروع کردیا ہے۔ عوام کو صحت کی سہولیات فراہم کرنا ریاست کی ذمے داری ہے، حکومت کو ہوش کے ناخن لینے چاہئیں، ملک قحط الرجال کا شکار تو نہیں ہوا پھراس قدر اسامیاں خالی ہونے کے باجود عملے کی تعیناتی سے اجتناب کیوں برتا جارہا ہے؟

دوسری جانب کیفیت یہ ہے کہ پڑھا لکھا طبقہ ملازمتیں نہ ملنے کے باعث بیرون ملک منتقل ہونے کو ترجیح دے رہا ہے۔ اگر حکومتی سطح پر اب بھی اقدامات نہ کیے گئے تو ملک واقعی قحط الرجال کا شکار ہوسکتا ہے۔سیہون سانحہ سے صحت حکام کی آنکھیں کھل جانی چاہئیں جس میں شہدا کی تعداد 88 ہوگئی ہے۔