محکمہ ثقافت کی بے حسی فنکار اعزازات فروخت کرنے پر مجبورہوگئے

موسیقار نیاز کی تاحال مدد نہ ہوسکی، مدد کی درخواست دی جواب نہ ملا،طبلہ نواز خلیل.


Showbiz Reporter January 07, 2013
زبان کی بنیاد پر نوازا جارہاہے،رفیق احمد، 505 فنکاروں کو فنڈز دے چکے، عبدالعزیز عقیلی. فوٹو: سمرا عامر

محکمہ ثقافت کی بے حسی کے باعث کئی فنکار مشکلات کا شکار ہیں محکمہ ثقافت حکومت سندہ کی جانب سے فنکاروں ،شاعروں ،ادیبوں اور فنون لطیفہ کے دیگر شعبوں سے وابستہ افراد کے لیے خصوصی فنڈ کا آغاز کیاگیاتھا مگر متعدد فنکار آج بھی اس فنڈ سے محروم ہیں۔

گزشتہ دنوں معروف موسیقار نیاز احمد کے حوالے سے روزنامہ ایکسپریس نے خبر شائع کی تھی جس میں نیاز احمد کا کہنا تھا کہ وہ اپنے حالات سے تنگ آکر اپنا پرائڈ آف پرفارمنس فروخت کرنا چاہتے ہیں،اس خبرکانوٹس لیتے ہوئے محکمہ ثقافت نے انکی مدد کا اعلان کیا تھا مگر کئی روز گزر جانے کے باوجود یہ وعدہ وفا نہ ہوسکا اسی طرح طبلہ نواز خلیل احمد نے گزشتہ روز نمائندہ ایکسپریس سے گفتگو میں بتایا کہ انھوں نے اپنی بیٹی کی شادی کے لیے دو ماہ قبل محکمہ ثقافت کے دفتر میںدرخواست جمع کراوئی تھی مگر اس پر کوئی جواب نہیں آیا ،انھوں نے دنیا بھر میں پاکستان کی نمائندگی کی ہے آج جب برا وقت آیا تو سب نے منہ پھیر لیا،مدد نہیں کرنی تو روزانہ کی بنیاد پر ذلیل تو نہ کیا جائے۔

10

ریڈیوپاکستان کراچی کے معروف گٹارسٹ رفیق احمد نے کہا کہ محکمہ ثقافت سندہ زبان کی بنیاد پر فنکاروں کونواز رہی ہے کراچی کے متعدد فنکار اس فنڈ سے اب تک محروم ہیں جبکہ محکمہ ثقافت حکومت سندھ کے سیکریٹری عبدالعزیز عقیلی کااس حوالے سے کہنا ہے کہ محکمہ ثقافت سندھ فنون لطیفہ سے وابستہ 505 افراد کو انڈولمنٹ فنڈ فراہم کرچکی ہے جس میں سندھ بھرکے متعدد شاعر،ادیب ،فنکار،گلوکارشامل ہیں اس فنڈ کا آغاز اپریل 2011 سے کیا گیاتھا اوردسمبر2012 تک ہم ساڑھے تین کروڑ روپے کی مالیت کی رقم دے چکے ہیں، گزشتہ روزبھی3 شعراکی کتابوں کی رونمائی کی گئی ہے جس میں محکمہ ثقافت کا تعاون شامل تھا۔

مقبول خبریں