سندھ میں مدرسوں کی مربوط نگرانی

سابق صدر نے جس اہم بات کی نشاندہی کی ہے وہی مسئلے کی اصل جڑ ہے۔


Editorial February 22, 2017
سابق صدر نے جس اہم بات کی نشاندہی کی ہے وہی مسئلے کی اصل جڑ ہے ۔ فوٹو:فائل

سندھ میں کچھ خاص مدارس ہمارے بچوں کو بھٹکارہے ہیں، ان مدارس کے خلاف کارروائی کر کے بچوں کو غلط راہ پر چلنے سے بچانا ہوگا۔ یہ بات پیپلزپارٹی کے سربراہ اورسابق صدرآصف زرداری نے ایک اجلاس کی صدارت کے دوران کہی، جس میں سندھ حکومت کے وزیراعلیٰ سمیت اعلیٰ حکام شریک تھے۔

سابق صدر نے جس اہم بات کی نشاندہی کی ہے، وہی مسئلے کی اصل جڑ ہے، ہوا یوں کہ چند گنے چنے دینی مدارس کے کرتا دھرتا جہل کے راستے پر چل پڑے اور انھوں نے معصوم ذہنوں کی برین واشنگ کرکے انھیں مذموم مقاصد کے لیے استعمال کیا اور سندھ لہولہان ہوگیا، جب کہ سندھ کی دھرتی تو صدیوں سے امن وآشتی کا گہوارہ رہی ہے، کیونکہ صوفیا اور اولیائے کرام نے ہمیشہ محبت، رواداری اور انسانیت سے پیارکا درس دیا لیکن بیرونی فنڈنگ سے قائم ہونے والے مدارس نے فرقہ واریت کو ہوا دے کر پرامن فضاؤں میں زہرگھول دیا۔

وہ صراط مستقیم سے ہٹ کرگمراہی کے راستے پرچل پڑے کیونکہ علم تو روشنی کا نام ہے، جوانسان کواندھیرے سے روشنی میں لاتا ہے جینے اورزندگی گزارنے کا سلیقہ سیکھتا ہے۔ سرکاری سطح پر تعلیم کی ناکافی سہولتوں کے باعث نجی تعلیمی ادارے اورمدارس وجود میں آئے۔ نجی تعلیمی اداروں نے تعلیم کو کاروبار بنایا اوربعض مدارس دہشتگردوں کی محفوظ پناہ گاہ اورنرسریاں بن گئے۔ سیکڑوں، ہزاروں مدارس کا قلیل عرصے میں وجود میں آنا،ان کی فنڈنگ کا ذرایع پر چیک اینڈ بیلنس کا نہ ہونا، رجسٹریشن نہ کروانا اوران کی مانٹریننگ کا نظام سرکاری سطح پر نہ ہونے نے مسائل کا انبار لگادیا۔

ان مدارس کی تنظیموں نے بھی حکومت کے خلاف محاذ آرائی کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہ دیا، ان مدارس کے نصاب میں تبدیلی دورجدید کے تقاضوں کے مطابق کرنے کی بات ہوئی تومخالفت کی گئی اگر مدارس کی رجسٹریشن لازمی کرانے اورفنڈنگ کے ذرایع بتانے کا حکومتی سطح پرکہا گیا تو بھی محاذ کھل گیا۔ یعنی مسئلہ اپنی جگہ جوں کا توں برقرار رہا۔

امن وامان کے حوالے منعقدہ اجلاس میں وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ مدارس پر نظر رکھنے کے لیے94 مدارس کی فہرست وفاق کو بھیجی لیکن وفاق کی جانب سے مثبت جواب نہیں ملا۔ جرائم پیشہ افراد تک پہنچنے کے لیے مجرموں کا ڈیٹا بیس اپ ڈیٹ کیا، اس حوالے سے پولیس میں انفارمیشن ٹیکنالوجی کا ادارہ بھی بنایا گیا ہے۔ ایسے مدارس کے خلاف ایک منظم حکومتی منصوبہ بندی کے تحت مربوط کارروائی ہونی چاہیے، جس کے تحت ہم اپنی آنے والی نسلوں کا مستقبل محفوظ بناسکتے ہیں۔