بھارت اشتعال انگیزی سے باز رہے

ایل او سی پر کشیدگی دہشت گردی کے خلاف ہماری کوششوں کے اثرات کو زائل کرنے کی کوشش ہے


Editorial February 23, 2017
۔ فوٹو فائل

بھارت کی جانب سے وقتاً فوقتاً سرحدی علاقوں میں بلااشتعال فائرنگ اور دیگر غیر منطقی مہم جوئیوں کے جواب میں پاک فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے واضح ہدایت دی ہے کہ لائن آف کنٹرول پر بھارتی اشتعال انگیزی کا بھرپور جواب دیا جائے۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق منگل کو آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے لائن آف کنٹرول پر متے والا اور مناور سیکٹر کا دورہ کیا جہاں پر آرمی چیف کو جی او سی کی جانب سے آپریشنل صورتحال پر بریفنگ دی گئی۔ آرمی چیف نے فوج کی پیشہ ورانہ تیاری کو سراہا۔ آرمی چیف کا کہنا صائب ہے کہ ایل او سی پر کشیدگی دہشت گردی کے خلاف ہماری کوششوں کے اثرات کو زائل کرنے کی کوشش ہے، بھارتی اشتعال انگیزی کا موثر انداز میں جواب دیا جائے، بھارت کی طرف سے پاکستان اور خطے میں دہشت گردی کی حمایت سے بھی باخبر ہیں۔

اس امر میں دو رائے نہیں پاکستان مکمل جانفشانی کے ساتھ دہشت گردی کے خلاف جنگ جاری رکھے ہوئے ہے لیکن بھارت کی جانب سے ہونے والی شرانگیزیاں اور مخالفت برائے مخالفت کا طرز عمل کئی جہات میں پاکستان کو نقصان پہنچا رہا ہے۔ پاکستان کا برائٹ وژن رکھنے والی حکومت جہاں دونوں ریاستوں کے باہمی تعلقات کو مضبوط بنانے اور تجارتی روابط بڑھانے کی خواہاں ہے وہیں بھارتی مودی سرکار نہ صرف پاکستان مخالفت میں حد درجہ آگے جا رہی ہے بلکہ عالمی سیاست میں دیگر ریاستوں کو بھی پاکستان کے خلاف بھڑکا رہی ہے، جس میں افغانستان بھی شامل ہے۔

کلبھوشن یادیو کی گرفتاری بھارتی دہشت گردی کی کوششوں کا واضح ثبوت ہے اور اس معاملے کو منطقی انجام تک پہنچایا جانا بھی لازم ہے تاکہ عالمی سطح پر بھارت کا حقیقی چہرہ واضح ہو۔ دوسری جانب بھارت کی منافقت بھی واضح ہے کہ تمام تر مخالفانہ اقدامات کے بعد وہاں کے وزرا خود کو امن کا داعی اور پاکستان کے خلاف ہرزہ سرائی کرتے ہیں، بھارت کے وزیرداخلہ راجناتھ سنگھ نے کہا ہے کہ بھارت ایک امن پسند ملک ہے، پاکستان سے جنگ نہیں مفاہمت کے حامی ہیں۔ کہاں ایک طرف بھارتی وزیرداخلہ مذاکرات میں پہل کا عندیہ دے رہے ہیں اور حقیقت حال یہ ہے کہ امن مذاکرات کی بحالی میں ڈیڈ لاک ہمیشہ بھارت کی جانب سے پیدا کیا گیا ہے۔

بھارت کی انتہاپسندی مقبوضہ کشمیر میں ہونے والے جارحانہ اقدامات سے بھی واضح ہوتی ہے جہاں نہتے مظاہرین پر پیلٹ گنوں کے ساتھ فائرنگ کی جارہی ہے۔ بھارتی فورسز مقبوضہ علاقے میں سنگین جنگی جرائم میں ملوث ہے۔ جنرل قمر جاوید باجوہ نے بالکل صائب کہا کہ پاک فوج پاکستانی اور آزاد کشمیر کے عوام کا بھارتی جارحیت سے تحفظ کرے گی جب کہ حق خود ارادیت کے لیے کوشاں مقبوضہ کشمیر کے عوام سے اظہار یکجہتی جاری رکھیں گے۔ بھارت دہشت گردی کے خلاف جنگ پر اثر انداز ہونا چاہتا ہے۔ راست ہوگا کہ بھارت خطے کے عظیم تر مفاد اور امن و امان کے قیام کی خاطر اپنی اشتعال انگیزیوں سے باز رہے۔