بھارت کا بیجنگ سلک روڈ سمٹ میں شریک نہ ہونے کے لیے نیا شوشہ
بھارت‘ پاکستان میں ہونے والی سارک سربراہ کانفرنس کو سبوتاژ کرنے میں کامیاب رہا
بھارت پاکستان کے خلاف اپنی سازشوں سے قطعی باز نہیں آ رہا' پاکستان کو دق کرنے اور نقصان پہنچانے کے لیے وہ کبھی کوئی شوشہ چھوڑ دیتا تو کبھی کوئی مسئلہ کھڑا کر دیتا ہے۔ پاکستان مذاکرات کی بات کرتا ہے تو بھارت دہشت گردی کے واقعات کی آڑ لے کر راہ فرار اختیار کرلیتا ہے۔
اگر پاکستان اپنے ہمسایہ ممالک کے ساتھ بہتر تعلقات کے لیے تگ و تاز کرتا ہے تو وہ اسے سبوتاژ کرنے کے لیے سازشوں کا جال بننا شروع کر دیتا ہے۔ اس کی ہر ممکن کوشش رہی ہے کہ پاکستان داخلی سطح پر انتشار اور افراتفری کے گرداب میں پھنس جائے اور خارجی سطح پر اس کا سافٹ امیج متاثر ہو اور ہمسایہ ممالک کے ساتھ اس کے تعلقات کسی بھی طور بہتر نہ ہونے پائیں۔
ایران کے ساتھ اس نے پاکستان کے تعلقات خراب کرنے میں منہ کی کھائی مگر وہ نچلا نہیں بیٹھا اور افغانستان کے ساتھ برادرانہ تعلقات میں دراڑیں ڈالنے کے لیے اس نے کوئی دقیقہ اٹھا نہیں رکھا۔ چین کے ساتھ پاکستان کے دوستانہ تعلقات اسے کسی صورت ہضم نہیں ہو رہے۔ کبھی مولانا مسعود اظہر کا ہوا کھڑا کر کے چین اور پاکستان کی دوستی کو آزمائش میں ڈالتا تو کبھی سی پیک کے منصوبے کے خلاف کمر کس کے میدان میں آ جاتا ہے۔
اب بھارتی سیکریٹری خارجہ ایس جے شنکر نے نیا شوشا چھوڑا ہے کہ چین کو یہ وضاحت دینی ہو گی کہ بھارت کس طرح سے بیجنگ میں ہونے والی سلک روڈ سمٹ میں حصہ لے سکتا ہے' جب سی پیک منصوبہ آزاد کشمیر سے ہو کر گزرتا ہے جو بھارتی خود مختاری کی خلاف ورزی ہے۔
بھارت' پاکستان میں ہونے والی سارک سربراہ کانفرنس کو سبوتاژ کرنے میں کامیاب رہا، اب وہ اقتصادی راہداری منصوبے پر اپنے نام نہاد تحفظات کی آڑ میں بیجنگ میں ہونے والی سلک روڈ سمٹ میں شریک نہ ہونے کے بہانے تراش رہا ہے تاکہ عالمی دنیا کی اس جانب توجہ دلا کر اس منصوبے کے خلاف فضا ہموار کر سکے لیکن وہ یہ بھول چکا ہے کہ یہ منصوبہ روس اور برطانیہ سمیت دیگر خوشحال ممالک کو اپنی طرف کھینچ رہا ہے اس لیے اس کی یہ سازش بھی منڈھے نہیں چڑھ سکے گی۔