خون میں لت پت دودھ کی بوتل
لاہور کی دہشتگردی کے سانحے میں شہید ہونے والوں کا دکھ ابھی تازہ ہی تھا کہ خیبر پختونخوا میں لگاتار چار دھماکے کیے گئے
SYDNEY:
لاہور کی دہشتگردی کے سانحے میں شہید ہونے والوں کا دکھ ابھی تازہ ہی تھا کہ خیبر پختونخوا میں لگاتار چار دھماکے کیے گئے جس میں 4 اہلکاروں سمیت 7 افراد شہید ہو گئے، یہ المیہ ابھی تازہ ہی تھا کہ سیہون میں ایک اس قدر خوفناک دھماکا کر دیا گیا کہ 88 بے گناہ افراد اس دھماکے میں شہید ہو گئے اور 100 سے زیادہ افراد زخمی ہو گئے۔
سیہون میں شہید ہونے والے لوگوں میں خواتین کے علاوہ معصوم بچے بھی شامل ہیں جو اپنے بزرگوں کے ساتھ لعل شہباز قلندر کے مزار پر آئے تھے۔ اس سانحے کے حوالے سے اخباروں میں جو تصاویر چھپی ہیں، ان میں ایک شیرخوار بچے کی دودھ کی بوتل کی تصویر بھی شامل ہے جو خون میں لت پت ہو کر سرخ ہو گئی ہے۔ یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ دھماکوں میں خواتین اور بچے بھی جاں بحق ہوئے ہوں اس سے پہلے بھی دھماکوں میں خواتین اور معصوم بچے جاں بحق ہوتے رہے ہیں۔
صوفیائے کرام بلا امتیاز مذہب ملت عوام کی بھلائی کی خدمات انجام دیتے رہے ہیں، یہی وجہ ہے کہ صوفیا ہر مذہب کے ماننے والوں میں مقبول رہے ہیں۔ اجمیر میں خواجہ معین الدین چشتی ہوں یا لاہور میں داتا دربار کے معروف بزرگ یا ملتان کے اولیا ان کی سب سے بڑی پہچان یہی رہی کہ وہ مذہب کے حوالوں سے عوام میں پیدا کی جانے والی نفرت، تعصبات اور امتیازات کے خلاف سینہ سپر رہے اور انسانوں میں محبت، بھائی چارے اور اخوت کی تبلیغ کرتے رہے۔
صوفیا کا یہی سیکولر کردار انھیں تمام مذاہب کے ماننے والوں میں مقبول بناتا رہا۔ ہر جمعرات کو ملک کے مختلف علاقوں سے زائرین سیہون شریف آتے ہیں اور مزار پر ایک ہجوم ہوتا ہے اس بدقسمت جمعرات کو بھی شہباز قلندرکے مزار پر ایک ہجوم تھا۔ مذہبی انتہا پسند دہشتگرد ہمیشہ پرہجوم جگہوں پر دھماکے کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہی حرکت انھوں نے سیہون میں کی زائرین کے ہجوم میں دہشتگرد نے خود کو اڑا لیا۔
یوں اس خودکش دھماکے میں 88 زائرین جاں بحق اور 100 سے زیادہ زخمی ہو گئے۔ لیکن یہ خونی دھماکا عوام کی لعل شہباز قلندر کے ساتھ عقیدت کو کم نہ کر سکا اور انھوں نے خون سے سرخ زمین پر دھمال ڈال کر جہاں شہباز قلندر سے اپنی عقیدت کا اظہار کیا وہیں انھوں نے مذہبی انتہا پسندوں کو یہ پیغام بھی دیا کہ وہ خودکش دھماکوں سے ڈرتے ہیں نہ جانی نقصان کی پرواہ کرتے ہیں۔ سیہون میں دھماکوں کے زیر سایہ ہونے والے دھمال اس بات کا ثبوت ہیں کہ پاکستانی عوام مذہبی انتہا پسندی اور دہشتگردی سے نفرت کرتے ہیں۔
لاہور، خیبرپختونخوا اور اس کے بعد سیہون میں ہونے والے لگاتار دھماکوں کا مقصد یہ ہے کہ دہشتگرد یہ تاثر دینا چاہتے ہیں کہ وہ پاکستان میں ہر جگہ موجود ہیں اور جہاں چاہیں جب چاہیں دہشتگردی کی کارروائیاں کر سکتے ہیں۔ ہماری سیاسی اور عسکری قیادت کی طرف سے عوام کو بار بار یہ یقین دہانی کرائی جا رہی ہے کہ پاکستان میں دہشتگردی کا خاتمہ کر دیا گیا ہے اور یہ بات درست بھی ہے کہ دہشتگردی کا بڑی حد تک خاتمہ کر دیا گیا ہے لیکن یہ بات بھی درست ہے کہ ملک میں دہشتگرد اب بھی موجود ہیں اور اپنی منتخب جگہوں پر جب چاہیں حملے کر سکتے ہیں۔
اگرچہ خودکش حملوں کو روکنا ممکن نہیں لیکن انتظامیہ اگر واقعی الرٹ رہے اور ممکنہ حفاظتی اقدامات کرے تو دہشتگرد اس قدرآسانی سے اپنی کارروائیاں نہیں کر سکتے۔ لاہور اور خیبرپختونخوا میں لگاتار حملوں کے بعد حکومتوں کی یہ ذمے داری تھی کہ وہ حساس جگہوں خصوصاً ایسی جگہوں پرکڑی نظر رکھتی جہاں عوام ہجوم کی شکل میں جمع ہوتے ہیں۔ شاہ نورانی کے المیے کے بعد مزارات پر سخت نگرانی کی ضرورت تھی لیکن ایسا نہ ہوا جس کے نتیجے میں دہشتگردوں کو ایک آسان ہدف مل گیا اور وہ آزادی کے ساتھ سیہون کے ہجوم میں خودکش حملے کا ارتکاب کرنے میں کامیاب ہو گئے۔
صوفیوں کے مزاروں پر آنے والوں کی اکثریت ان لوگوں کی ہوتی ہے جو کسی نہ کسی معاشی پریشانی یا سماجی مسائل کا شکار رہتی ہے اور اپنی ذہنی تشنگی کو دورکرنے کے لیے مزاروں کا رخ کرتی ہے۔ پروفیسر ڈاکٹر ظہیرخان کراچی میں سول اسپتال کے شعبہ نفسیات کے سربراہ تھے ان سے ہماری گہری رفاقت تھی اور ہم ان کے آفس میں اکثر جاتے رہتے تھے۔
سول اسپتال کے اس نفسیاتی وارڈ میں 10،12 بیڈ تھے جن پر عموماً نشہ کے مریض قبضہ جمائے رہتے کیوںکہ انھیں بھی نفسیاتی مریض ہونے کا شرف حاصل رہتا۔ کراچی جیسے بڑے شہر میں جہاں دوکروڑ سے زیادہ عوام رہتے ہیں اور لاکھوں لوگ نفسیاتی امراض میں مبتلا ہیں، سول اسپتال جیسے شہر کے سب سے بڑے اسپتال میں 10،12 بیڈ مختص ہونا افسوس ہی نہیں شرم کی بات تھی۔
جب ہم نے پروفیسر ظہیر خان کو اپنے مریضوں کو یہ مشورہ دیتے دیکھا کہ وہ سیہون شریف لعل شہباز قلندر کے مزار جائیں تو ہماری حیرت کی انتہا نہ رہی۔ جب ہم نے پروفیسر صاحب سے اس مشورے کی وضاحت چاہی تو بڑی اداسی سے انھوں نے کہاکہ بھائی جب نفسیاتی مریضوں کے علاج کی ہمارے پاس سہولتیں ہی نہیں تو ہم انھیں مزاروں پر جانے کے علاوہ کیا مشورہ دے سکتے ہیں کم از کم یہاں انھیں نفسیاتی اور ذہنی تسکین تو ملتی ہے۔
دہشتگردی بہ ظاہر مذہبی انتہا پسندوں کی نظریاتی کج روی نظر آتی ہے لیکن ذرا گہری نظر سے دیکھیں تو اندازہ ہوتا ہے کہ اس بلا نے ساری دنیا کی توجہ اپنی طرف مبذول کرا لی ہے۔ وہ غریب جنھیں دو وقت کی روٹی نہیں ملتی وہ بھی اب دہشتگردی کے خوف میں مبتلا ہیں یوں بھوک بیماری اور افلاس کو جنم دینے والے سرمایہ دارانہ نظام کے مظالم پس پشت چلے گئے ہیں۔ کیا دہشتگردی، سرمایہ دارانہ نظام کے مظالم سے عوام کی توجہ ہٹانے میں کامیاب نہیں ہو رہی ہے؟