مصنوعی بحران شہری مہنگے داموں آٹا خریدنے پر مجبور

ملزمالکان سبسڈائزڈ گندم سےبیکری کےمہنگےآئٹمز تیارکرکے منافع خوری کررہے ہیں، آٹے کا مصنوعی بحران پیدا کیا گیا ،ذرائع.


Business Reporter January 08, 2013
سبسڈائزڈ گندم بروکرز اور ایکسپورٹرز کو فروخت کی جا رہی ہے،آج شام 5 بجے سے فلور ملز بند کردیں گے ، گندم کی بین الصوبائی نقل و حمل پر پابندی عائد کی جائے، تاجر فوٹو : اے ایف پی / فائل

سندھ حکومت کی جانب سے کراچی کی تمام فلور ملوںکو یومیہ 300 بوری گندم 28 روپے فی کلو پرفراہم کیے جانے کے باوجود فلور ملز مالکان نے شہر میں آٹے کا مصنوعی بحران پیدا کردیا اور اب حکومت کو دبائو میں لے کر لامحدود مقدار میں سرکاری نرخ پر گندم حاصل کرنے کیلیے بلیک میلنگ کا حربہ اختیار کیا جارہا ہے۔

مصنوعی بحران کے باعث شہریوں کو مشکلات کا سامنا ہے ، شہری مہنگے داموں آٹا خریدنے پر مجبور ہیں ،سندھ فلور ملز ایسوسی ایشن نے کراچی، حیدرآباد اور میر پور خاص ریجن میں گندم کی قلت کو جواز بناکر فلور ملیں بند کرنے کی دھمکی دے دی ہے، فلور ملز مالکان کا کہنا ہے کہ حکومت عوام کیلیے خریدی گئی سبسڈی شدہ گندم بروکرز اور ایکسپورٹرز کو فروخت کررہی ہے، کراچی اور حیدرآباد میں سرکاری نرخ پر گندم دستیاب نہ ہونے کی وجہ سے آٹے کے بحران کا سامنا ہے،ادھر سندھ حکومت کے ذرائع کا کہنا ہے کہ فلور ملز مالکان سبسڈائزڈ گندم سے بیکری آئٹمز ،ڈبل روٹی ،پا پے ،نوڈلز سویاں ، پاستہ اور دیگر مہنگی اشیا تیار کرکے منافع خوری کررہے ہیں۔

کراچی میں متعدد فلور ملیں فعال نہیں ہیں اور گندم کا سرکاری کوٹہ اوپن مارکیٹ میں فروخت کیا جارہا ہے ، متعدد فلور ملیں اصل مالکان کے بجائے ٹھیکے کی بنیاد پر سرمایہ کاری کرکے چلائی جارہی ہیں جن کے خلاف کارروائی کی جائیگی، گندم کی قلت کا جواز بناکرکراچی میں آٹے کا مصنوعی بحران کھڑا کردیا گیا ہے جو آئندہ دو سے تین روز میں شدت اختیار کرجائے گا ، فلور ملز مالکان نے اعلان کیا ہے کہ صوبائی وزیرخوراک نے فلور ملز مالکان سے ملاقات میں مسائل حل نہ کیے تو 8جنوری کی شام پانچ بجے سے فلور ملیں بند کردی جائیں گی اور صورتحال کی تمام ذمے داری حکومت پر عائد ہوگی۔



فلور ملز ایسوسی ایشن سندھ زون کے وفد نے پیر کو صوبائی وزارت خوراک کے نمائندوں سے ملاقات کی تاہم یہ ملاقات بے نتیجہ ثابت ہوئی جس کے بعد فلور ملز مالکان نے میڈیا کو جاری اپنے بیان میں بتایا کہ کراچی اور حیدرآباد میں آٹے کا بحران آئندہ چند روز میں شدید ہوجا ئے گا اور آٹا نہ ملنے پر عوام کے سڑکوں پرآنے کا خدشہ ہے، فلور ملز مالکان کا کہنا ہے کہ کراچی میں فلور ملوں کے پاس گندم کا اسٹاک ختم ہوگیا اگر فوری طور پر اندرون سندھ سے کراچی کی فلور ملوں کیلیے گندم نہ منگوائی گئی تو 3سے 4روز میں آٹا نا پید ہوجائے گا۔

حکومت کے غلط اقدام کا فائدہ بروکرز اور ایکسپورٹرز کو پہنچ رہا ہے جو 28روپے کلو گندم خرید کر کراچی اور حیدرآباد میں 33سے 34روپے کلو فروخت کررہے ہیں ، فلور ملز ایسوسی ایشن نے صوبائی وزارت خوراک کے نمائندوں سے مزید مذاکرات نہ کرنے کا اعلان کیا ہے ،صوبائی وزیر خوراک سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ خود فلور ملز مالکان سے ملاقات کرکے مسئلے کا حل فراہم کریں بصورت دیگر آج 8جنوری شام 5بجے کے بعد کراچی حیدرآباد اور میرپورخاص ریجن کی فلور ملیں مرحلہ وار بند کردی جا ئیں گی۔

فلور ملز مالکان نے اپنے مطالبات دہراتے ہوئے کہا ہے کہ کراچی سے کشمور تک فلور ملز کو لبرل پالیسی کے تحت گندم فراہم کی جائے، سندھ کی گندم کی بین الصوبائی نقل و حمل پر فی الفور پابندی عائد کی جائے ، کراچی میں آٹے کی ضرورت پوری کرنے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر گندم فراہم کی جائے۔