پختونوں کی تباہی کا سبب
دنیا کا امن اسی خطے سے مشروط ہو گیا ہے اور پختونوں کو ڈبل ڈبل فائدہ ہو رہا ہے
گزشتہ دنوں کالج کے ایک اسٹوڈنٹ نے ہم سے کالج کے مباحثے کے لیے اس موضوع پر کچھ لکھنے کی فرمائش کی کہ پختونوں کی تباہی کے اسباب کیا ہیں۔ ہم نے ان سے کہا کہ اس میں لکھنے لکھانے کی کیا ضرورت ہے، صرف آئینہ دیکھنا ہی کافی ہے۔ تباہی کا سب سے بڑا سبب خود دکھائی دے گا،اگر نزدیک کی نظر درست ہو تو لکھاوٹ بھی عین پیشانی کے اوپر دکھائی دے گی، غور سے پڑھنے پر یہ الفاظ لکھے ہوں گے، بہادر، لڑاکو، شمشیر زن۔ ایک شخص تھا لمبا بوڑھا باچا خان اس کا نام تھا، اس نے یہ الفاظ مٹانے کی کوشش کی ۔
کچھ کامیابی بھی ہوئی اور اس کی جگہ کچھ اور الفاظ بھی لکھے، تعلیم یافتہ امن پسند، ہوشیار... لیکن کچھ عرصے کے بعد جب اس کی آنکھیں بند ہو گئیں، اس کے بیٹے نے کسی حد تک ان نئے الفاظ کو تازہ کیا لیکن وہ بھی انسان تھا، چلا گیا، اس کے بعد جو آئے وہ امریکی آشیرباد یافتہ تھے اور وہاں سے ایسا ڈسٹر لائے کہ پختون کی پیشانی سے وہ الفاظ مٹا کر دوبارہ پرانے الفاظ لکھ دیے، وہ بھی نئی امریکی ڈالر انک سے ۔۔۔ اپنے ہاتھ باندھ کر لاٹھی چارج سہنے والے، ٹینکوں کے آگے لیٹنے والے اور کھدر پہننے والے لوگوں کی جگہ امن لشکر والے، ہیلی کاپٹروں میں پھرنے والے اور ٹینکوں پر سوار ہو کر فتح کے نعرے لگانے والے آ گئے، کھدر کی جگہ سوٹ بوٹ اور ٹائی نے لے لی اور اب کے اس کے ماتھے پر پرانے نام مٹا کر نیا نام ''قولنگی'' لکھ دیا گیا۔
پشتو میں قولنگی ایسے لڑاکے مرغ کو کہتے ہیں جو نہ انڈے دیتے ہیں نہ ان کا گوشت لذیذ ہوتاہے،وہ صرف لڑتے ہیں، اور کسی اور سے نہیں اپنے ہی بھائی سے لڑتے ہیں، جس کی بغل میں ہوتے ہیں اس کی مرضی کے مطابق سامنے جو قولنگی مرغ آئے چاہے وہ اس کا ماں جایا، ایک ہی مرغی کے انڈے سے نکلا ہوا کیوں نہ ہو، پھر اس کے ساتھ ایسا لڑتے ہیں، ایسا لڑتے ہیں کہ خود بھی لہولہان ہو جاتے ہیں اور اسے بھی خون میں نہلا دیتے ہیں جب تک ان کے مالک ان کو پکڑ نہیں لیتے، تب تک لڑتے رہتے ہیں تا آنکہ دونوں میں سے ایک مر نہ جائے یا بے دم ہو کر گر نہ پڑے۔ ایک لڑائی کے بعد عام طور پر ایک اچھا قولنگی دوسری لڑائی کا نہیں رہتا کیوں کہ یا تو اس کی چونچ ٹوٹ جاتی ہے یا آنکھیں پھوٹ جاتی ہیں یا گلا ادھڑ جاتا ہے۔
اکثر تو ہارنے والے قولنگی کو اس کا مالک اسی جگہ ذبح کر ڈالتا ہے، کافی سارے نام جیسے بہادر، شجاع، لڑاکو، شمشیر زن، غیرت مند کے بعد یہی قولنگی ہی اس کا جدید ترین، تازہ ترین اور موزوں ترین نام ٹھہرا ہے یہاں سے امریکا تک اسے اخباروں اور ریڈیو ٹیلی ویژن پر مشتہر کیا جا چکا ہے کہ''آج سے میں نے اپنا نام انسان سے بدل کر قولنگی رکھ لیا ہے، آیندہ مجھے اسی نام سے پکارا اور لکھا جائے نیز کاغذات میں بھی درستگی کی جائے۔''ہمارے خیال میں تو یہ ریسرچ کرنے کی ضرورت ہی نہیں ہے کہ پختون کی تباہی کے اسباب کیا ہیں بلکہ اسے کسی دوسرے سبب یا اسباب کی ضرورت بھی نہیں کیوں کہ یہ اپنی تباہی کرنے میں اتنا خود کفیل ہے کہ کسی بھی مدد یا مددگار کی ضرورت نہیں کیوں کہ اس کا کہنا ہے کہ
مری تعمیر میں مضمر ہے اک صورت خرابی کی
ہیولیٰ برق خرمن کا ہے خون گرم دہقاں کا
چونکہ اس کی اس صفت کا چار دانگ عالم میں شہرہ ہو چکا ہے، اس لیے جہاں کسی کو شوق ہوتا ہے، وہ اپنا شغل کرنے کے لیے یہاں آ جاتا ہے اور قولنگیوں کو پکڑ پکڑ کر آپس میں لڑاتا رہتا ہے، صرف دور جدید میں روس اور امریکا ہی نے نہیں بلکہ دنیا بھر کے شوقینوں نے اس کو ''اے ون'' کا درجہ دیا ہے۔ روسی، امریکی، عرب، ترک، مصری، ازبکی، تاجیکی حتیٰ کہ افریقی تک یہاں چلے آ رہے ہیں اور جگہ جگہ میدان اور اکھاڑے سجا رہے ہیں اور قولنگی ہیں کہ اچھل اچھل کر اپنی ہی قوم، اپنے بھائیوں اور اپنی ہی نسل کا تیا پانچہ کر رہے ہیں۔
یہ سلسلہ کوئی نیا نہیں بلکہ یہ اس وقت سے شروع ہوا ہے جب کورشی یا سائرس اور داریوش اعظم نے ان کو پہچان لیا تھا پھر داریوش کے بیٹے زرکسیز نے ان کو یونان لے جا کر لڑایا اور ایسا لڑایا کہ یونانیوں پر دھاک بیٹھ گئی چنانچہ جب وہ اپنی تباہی کا بدلہ لینے کے لیے سکندر کی قیادت میں نکلے تو ایران کے بادشاہ اور عوام کے ساتھ اتنا کچھ نہیں کیا جتنی بربریت انھوں نے پختونوں کی سرزمین میں کی، شہروں کے شہر اجاڑ دیے، بوڑھے جوان مرد عورت اور بچوں تک کو نہیں چھوڑا کیوں کہ ان ہی بہادروں کی اولاد تھے جنہوں نے یونان پر یورش میں بہادری دکھائی تھی، اس کے بعد تو یہ روایت ہی چل نکلی جو بھی طالع آزما ہندوستان آتا، اس کا پہلا سامنا پختونوں ہی سے ہوتا۔
چنانچہ وہ ان کو رام کر کے اپنے ساتھ لے جاتا، بہادر بہادر کہہ کر لڑاتا اور فتوحات حاصل کرتا، بابر نے یہاں نقصان اٹھایا تو پھر ان ہی میں رشتہ کر کے داماد بن گیا اور پھر ان کو لے جا کر پیٹھ تھپتھپا کر ہندوستان اور اپنے ہی بھائی بندوں لودھیوں سے لڑوایا، کیوں کہ چٹ بھی اس کی تھی اور پٹ بھی، لودھی مرتے تو بھی مغلوں کے دشمن تھے اور یوسف زئی مرتے تو بھی دشمن تھے اسی سیاسی پالیسی کو لے کر خوشحال خان خٹک کو کہنا پڑا کہ
چہ نوم پختون غوسیگی پہ خوشیگی
اورنگ زیب ہسے باچا دے د اسلام
اس وقت خٹکوں اور بنگشوں میں جنگ ہوئی تھی، خٹک فتح یاب ہوئے تھے لیکن خوش حال خان خٹک ہوتے ہوئے بھی دکھی تھا اور یہی کہنا پڑا کہ پختون کوئی بھی مرے اسے خوشی ہوتی ہے، اورنگ زیب ایک ایسا ہی بادشاہ اسلام ہے، چنانچہ مغلوں کے سارے دور میں پختونوں کو پختونوں سے لڑایا گیا، کبھی مذہب اور عقیدوں کے نام پر، کبھی نسلوں اور قبیلوں کے نام پر اور کبھی سرداری کا جھانسہ دے کر، حتیٰ کہ وہ زرین دور آیا جو ''ڈیوائیڈ اینڈ رول'' کا سب سے بڑا زرین دور کہلایا جاتا ہے یعنی فرنگیوں کا دور... حالانکہ ڈیوائیڈ اینڈ رول قبل مسیح سے ہی حکم رانوں کی موثر ترین پالیسی رہی ہے لیکن فرنگیوں نے اسے انتہائی عروج پر پہنچا کر کامیابی سے استعمال کیا اور ہر جگہ فائدہ اٹھایا، خصوصاً پختونوں میں تو اسے دو دھاری تلوار بنا کر استعمال کیا، ایک تو پختونوں کو بہادری کا نشہ پلا کر دنیا بھر میں لے جاتے اور لڑاتے رہے دوسرے یہاں گھر گھر میں ''دشمنی'' کا بیچ بو دیا۔
بھائی کو بھائی سے لڑایا، بلکہ بھائی کا رشتہ ہی ختم کر کے اس کا نام تربور بمعنی دشمن نمبر ون رکھ دیا۔ نہ صرف اس پالیسی سے پختونوں کا جانی نقصان گھر گھر میں ہونے لگا بلکہ مالی طور پر تباہ کرنے کے لیے کورٹ کچہریوں کا سلسلہ شروع کیا، ملک نمبر دار بنائے، خان اور خان صاحب بنائے اور وہ پختونوں کو کورٹ کچہریوں کا راستہ دکھاتے رہے، اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ پختون اپنی بہادری کی سولی پر خود ہی چڑھ گیا اور ابھی تک اس پر لٹکا ہوا ہے، اس کے بعد جو دور آیا اس میں بہت کچھ بدل گیا لیکن بہادر، شمشیر زن، غیور اور جگر دار کے الفاظ مروج رہے اور اب تو جو کچھ ہو رہا ہے وہ سب کے سامنے ہے، اسلام کا مرکز یہی سرزمین ہے، دنیا کے سپر طاقتوں کا اکھاڑہ یہی سرزمین ہے، دنیا کے ہر اسلحے کی آزمائش اس سرزمین میں ہو رہی ہے، دنیا کا امن اسی خطے سے مشروط ہو گیا ہے اور پختونوں کو ڈبل ڈبل فائدہ ہو رہا ہے، غازی بھی یہی بن رہے ہیں، شہید بھی یہی ہو رہے ہیں، ان کی سر زمین کو دوزخ بنا کر ان پر جنت کے دروازے کھولے گئے ہیں، بہادری کے اتنے تمغے ان کو ملے ہیں کہ سینے پر جگہ نہیں رہی ہے، اب اتنے زیادہ فوائد کے بدلے اگر تھوڑے سے تباہ ہو رہے ہیں، آخر کچھ پانے کے لیے تو کچھ کھونا بھی تو پڑتا ہے، غریب ہیں تو کیا ہوا بھوکے ہیں تو کیا ہوا، ننگے ہیں دربدر ہیں، اپنے ہی وطن میں پردیسی ہیں کوئی بات نہیں لیکن ''بہادر'' تو ہیں۔