کنوئوں سے گیس کا حصول 4 کھاد فرمز نے کنسورشیم بنا لیا

معاملات جلد طے، گیس خریداری معاہدہ 2 ایک ماہ، کام رواں سال ہی شروع ہونے کا امکان


Ehtisham Mufti January 09, 2013
140 کلو میٹر پائپ لائن بچھائی جائے گی، کنسورشیم 6 کروڑ ڈالر سرمایہ کاری کرے گا، ذرائع فوٹو: فائل

قدرتی گیس کی قلت کا شکار4 فرٹیلائزر پلانٹس نے ویل ہیڈ سے براہ راست گیس کی خریداری کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے جبکہ اقتصادی رابطہ کمیٹی نے بھی اس منصوبے کی منظوری دے دی ہے۔

ویل ہیڈ سے براہ راست قدرتی گیس کی ترسیل کے منصوبے پر فرٹیلائزرکمپنیوں کا کنسورشیم 6 کروڑ ڈالر کی سرمایہ کاری کرے گا۔ فرٹیلائزرسیکٹر کے باخبر ذرائع کے مطابق مقامی سطح پر یوریا کی مینوفیکچرنگ کے لیے فرٹیلائزر پلانٹس کو قدرتی گیس کی عدم فراہمی سے کھاد پر 1 ارب 20 کروڑ ڈالر کے قیمتی زرمبادلہ خرچ اور 52ارب روپے سے زائدسبسڈی کے تناظر میں اب اقتصادی رابطہ کمیٹی نے سوئی نادرن گیس فیلڈ کے نظام سے منسلک 4 فرٹیلائزر پلانٹس کو اجازت دی ہے کہ وہ ویل ہیڈ سے براہ راست گیس کی خریداری کر سکتے ہیں۔

اس حوالے سے اینگرو، پاک عرب فرٹیلائزر ، داؤد ہرکولیس اورایگریٹیک لمیٹڈ کے لیے ویل ہیڈ سے گیس کی خریداری کے لیے باہو، سارہ ویسٹ، کے پی کے ، کنڑپشاکی اور ماڑی ایکسٹینش کے کنوؤں سے گیس کی فراہمی کی اجازت دی گئی ہے اور ان ویل ہیڈز سے 202ایم ایم سی ایف ڈی قدرتی گیس براہ راست فرٹیلائزر پلانٹس کو فراہم کی جائے گی۔



ذرائع کا کہنا ہے کہ کنوؤں سے گیس کو پلانٹس تک لانے کے لیے 140 کلومیٹر کی پائپ لائن بچھائی جائے گی۔ ذرائع نے بتایا کہ مذکورہ فرٹیلائزر کمپنیوں نے مجوزہ منصوبے کو حتمی شکل دینے کے لیے ایک کنسورشیم قائم کردیا ہے اور جلد ہی پائپ لائن کے ذریعے قدرتی گیس کی فراہمی، ترسیل اورسرمایہ کاری سے متعلق معاملات طے کریں گی جبکہ گیس کی خریداری کا معاہدہ آئندہ ایک تادو ماہ میں طے پانے کے امکانات ہیں۔

ذرائع نے بتایا کہ مجوزہ منصوبہ طویل المدت حکمت عملی کے تحت مرتب کیا گیا ہے تاکہ یوریا کی مقامی ضروریات کو صرف مقامی پیداوار کے ذریعے پورا کرتے ہوئے یوریا کی درآمدات پر بھاری اخراجات اور زرتلافی کی مد میں اضافی اخراجات پر قابو پایا جاسکے۔ ذرائع نے بتایا کہ مجوزہ منصوبے پر کام کا آغاز رواں سال کے دوران ہی شروع ہوجائے گا۔

مقبول خبریں