کلبھوشن کے خلاف اہم پیش رفت

گڈانی کے ساحل پر قائم شپ بریکنگ یارڈ میں اسکریپ ڈیلر کے جعلی روپ میں مسلمان تاجر بن کر سرگرم رہا،


Editorial March 05, 2017
۔ فوٹو: ایکسپریس نیوز/فائل

مشیر خارجہ سرتاج عزیز نے جمعہ کو سینیٹ کو بتایا کہ گرفتار بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کو بھارت کے حوالے نہیں کیا جائے گا، اس کے خلاف ایف آئی آر درج کر لی گئی اور اب مقدمہ چلے گا، بھارتی حکومت کو اس حوالے سے ایک سوال نامہ بھی بھجوایا ہے۔

بلاشبہ بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کی گرفتاری اور بلوچستان سمیت سندھ اور کراچی کے بارے میں دہشتگردی ، تخریب کاری اور سبوتاژ کی دیگر کارروائیوں سے متعلق حقائق قومی سلامتی کے حوالے سے نہایت اہم ہیں جب کہ حکومت نے کلبھوشن معاملہ سے متعلق ٹھوس شواہد اور دستاویزات ملزم کے اعترافی بیانات کے سیاق وسباق میں ناقابل تردید ڈوزئیر تیار کر کے اہم پیش رفت کی ہے، اب یہ ڈوزیئراقوام متحدہ ، بھارت اور دیگر عالمی قوتوں کو دیا جائے گا۔

حقیقت میں یہ قیاس آرائی جاری تھی کہ کلبھوشن کے معاملے میں حکمراں بوجوہ چشم پوشی کیوں کررہے ہیں، ادھر کشمیر اور کنٹرول لائن پر مسلسل کشیدگی اور پاکستان کو عالمی سطح پر تنہا کرنے کی گیدڑ بھبکیاں بھی ساتھ ساتھ جاری تھیں جس میں مودی سرکار نے بہر طور ہمہ جہتی ہزیمت اٹھائی اور رد عمل میں مودی حکومت کے جارحانہ اور معاندانہ طرز عمل کا موثر جواب دینے کے لیے موجودہ حکومت پر عوامی حلقوں، اپوزیشن اور میڈیا کا پریشر بھی بڑھتا گیا، چنانچہ مشیر خارجہ کے بروقت بیان سے شکوک دور ہوگئے اور ایوان بالا میں اس حکومتی عزم کا اظہار کیا گیا کہ کلبھوشن معاملہ اولین حکومتی ترجیح ہے۔

جمعہ کو ایوان بالا کے اجلاس میں پیپلزپارٹی کی سینیٹر سحر کامران نے کل بھوشن یادیوکا معاملہ اٹھاتے ہوئے کہا کہ مشیر خارجہ نے کہا تھا کہ بھارتی جاسوس کے خلاف ناکافی شواہد تھے، انھوں نے استفسار کیا کہ کیس میں کیا پیش رفت ہوئی ہے جس پر سرتاج عزیز نے کہا کہ میں نے ناکافی شواہد کی کبھی بات نہیں کی۔

یاد رہے سرتاج عزیز نے دسمبر 2016 ء میں سینٹ میں اس بات کی وضاحت کی تھی کہ کلبھوشن کے خلاف شواہد کی ناکافی مسئلہ نہیں، سرتاج عزیز کے مطابق پاکستان کے داخلی معاملات میں بھارتی مداخلت اور دہشت گردی و شرانگیزی کے واقعات میں ملوث ہونے سے متعلق اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کو آگاہ کیا جا چکا ہے، پاکستان کے موقف کو پذیرائی مل رہی ہے، اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کو دیے جانے والے ڈوزیئر میں کلبھوشن یادیو کی تمام سرگرمیاں بھی شامل ہیں، مشیر خارجہ کا کہنا تھا کہ ہم دیگر ممالک اور بین الاقوامی اداروں کو بھی اس سے متعلق آگاہ کرنے پر غور کررہے ہیں، یہ معلومات زمینی حقائق اور مختلف اداروں کی مشاورت سے تیار کی گئیں، یہ معاملہ نہایت اہم اور حساس ہے اور اس کے لیے تفصیل تیارکرنا ہوگی۔

سرتاج نے قائد حزب اختلاف اعتزاز احسن کے شرطیہ سوال پر کہا کہ وزیراعظم کی جانب سے کلبھوشن کا نام لینے میںکوئی مسئلہ نہیں، وہ ایوان میں ضرور جواب دیںگے۔ البتہ جے یوآئی (ف) کے طلحہ محمود نے سقراطی طنز کے پیرائے میں یاد دلایا کہ ریمنڈ ڈیوس کا معاملہ بھی کل بھوشن جیسا تھا۔ تاہم اس وقت تقابلی جائزے سے زیادہ اہم تناظر کلبھوشن کے بھارتی خفیہ ایجنسی ''را'' کے ونگ آفیسر کے رینک پر مبنی ایک خوفناک جاسوس کا ہے جو پاکستانی انٹیلی جنس اداروں کے ہاتھوں 3 مارچ2016ء کو بلوچستان کے علاقہ چمن میں گرفتاری ہوا، وہ فون پر مراٹھی زبان میں بات کرتے ہوئے پکڑا گیا تھا۔

ابتدا میں وہ بھارتی پارلیمنٹ پر حملہ کے بعد جاسوسی نیٹ ورک سے منسلک ہوگیا ، بلوچستان کے صوبائی وزیر داخلہ سرفراز بگٹی نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ کلبھوشن کا ''را'' سے قریبی رابطہ تھا، اس کی سرگرمیاں پراسرار تھیں، وہ ایرانی بندرگاہ ''چاہ بہار'' پر متعین تھا، وہ اپنے اعترافی ویڈیو میںاس بات کا اقرار کرچکا تھا کہ 2003-04 ء میں کراچی بھی آیا تھا، اس نے بلوچستان کے علیحدگی پسندوں اور ریاست مخالف عناصر کی مالی اور اسٹرٹیجک امداد اور کارروائی میں کمک کی، اس نے اپنے مذموم عزائم کے تحت بلوچستان، اندرون سندھ اورکراچی کو ہدف بنانے کی تفصیل بتائی۔

گڈانی کے ساحل پر قائم شپ بریکنگ یارڈ میں اسکریپ ڈیلر کے جعلی روپ میں مسلمان تاجر بن کر سرگرم رہا، اپنے اعترافی بیان میں اس کا کہنا تھا کہ کہ انڈین نیوی کے ملازم کی حیثیت سے اسے گوادر پورٹ کو ہدف بنانے کا بھی ٹاسک دیا گیا تھا۔

ذرائع کے مطابق اس کے براستہ ایران بلوچستان میں داخلہ پر حکومت پاکستان اور ایرانی صدر حسن روحانی کے پچھلے دورہ اسلام آباد میں مسئلہ زیر بحث آیا تھا جس پر ایران کے اس غیر مشروط موقف کا اعادہ کیا گیا کہ ایران اپنی سرزمیں دہشتگردی کے لیے کبھی استعمال نہیں ہونے دیگا، نیز ایرانی حکومت نے ہر قسم کی تحقیقات شیئر کرنے کا یقین دلایا ،اس لیے اب کسی تاخیر کی گنجائش نہیں، ایک ملک دشمن جاسوس کے ساتھ وہی سلوک ہونا چاہیے جس کی بین ا لاقوامی کنونشنز اور ملکی قوانین کے مطابق کارروائی کی ہر متاثر ملک کو اجازت ہے۔

کلبھوشن ایشو ملک کی دہشتگردی کی صورتحال سے جڑا ہوا ہے، پاکستان نے دہشتگردی اور بھارتی پراکسی وار کے صدمات سہے ہیں ۔ اب پانی سر سے اونچا ہوگیا ہے ۔ یہ ایشو اس لیے جلد حل ہونا چاہیے کہ اس نے دہشتگردی میں ملوث ہونے کا بلا جبر و اکراہ اعتراف کیا ہے۔