پاکستان بھارت کے بغیر بھی زندہ ہے

ہمارا وطن عزیز اب سچی بات یہ ہے کہ کسی کے رہنے کے قابل نہیں رہا۔


Abdul Qadir Hassan January 09, 2013
[email protected]

وفاقی حکومت کے پریس ڈیپارٹمنٹ کی مہربانی کہ لاہور میں اس کے ایک معزز اہلکار نے دعوت دی کہ جناب وزیر اطلاعات کائرہ صاحب اصل بھارتی اور پاکستانی بھارتیوں کے وفد کے اعزاز میں ایک دعوت دے رہے ہیں تمہیں اس میں شرکت کی دعوت ہے لیکن میں نے ان کی بات پوری نہ ہونے دی اور کہا کہ اگر ممکن ہو تو آپ میری طرف سے کہہ دیں کہ وہ دشمنوں کے اعزاز میں کسی دعوت میں شریک ہونے سے انکار کر رہا ہے میں جیتے جی ایسا نہیں کر سکتا ۔

'سیفما' ان دنوں پھر سرگرم ہو چکا ہے اور میں ابتدائی دنوں میں اس ادارے کی دعوت پر بھارت تک کا دورہ بھی کر چکا ہوں لیکن جب مجھ پر یہ راز پوری طرح کھل گیا کہ غیر ملکی امداد پر چلنے والا یہ ادارہ کیا ہے اور کس طرح بھارت جیسے دشمن کو پاکستان کے لیے قابل قبول بنا رہا ہے تو میں نے اس سے قطع تعلق کر لیا اور اس کے دام ہمرنگ زمیں سے اپنے آپ کو بچا لیا۔ کسی بھی ملک اور قوم سے دشمنی کوئی اچھی بات نہیں لیکن کوئی آپ کا کھلا دشمن ہو اور دشمنی کا کوئی موقع ہاتھ سے نہ جانے دیتا ہو تو آپ مجبور ہیں۔

ابھی کل کی بات ہے کہ بھارت کے صوبہ اڑیسہ میں مسلمانوں کی ایک بستی کو ہندوئوں نے تباہ کر دیا اس سے دو تین دن پہلے بھارت نے پاکستان پر اتنا دبائو ڈالا پھر پاکستان نے بھارت کی خوشنودی کے لیے دلی کا میچ ہار دیا تاکہ بھارت کی اس کی اپنی سرزمین پر اتنی زیادہ رسوائی نہ ہو۔ کرکٹ کے کئی ماہرین نے کہا ہے کہ بھارت جیتا نہیں پاکستان ہارا ہے۔ بہر کیف عرض یہ ہے کہ مشرقی پاکستان کے سانحے سے لے کر جب اندرا نے ہم سے ہماری حکمرانی اور اپنی غلامی کا ہزار سالہ بدلہ لیا تھا اب تک بھارت نے پاکستان کے خلاف کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیا لیکن ہمارے میر جعفر و صادق وغیرہ بھی سرگرم رہے۔ بہر حال میں جناب کائرہ سے معذرت خواہ ہوں کہ ان کی دعوت قبول نہیں کر سکا لیکن انھیں اپنی محفل سجانے میں کوئی پریشانی نہ ہوگی۔ پاکستان کے بہت دوست ان کی دعوت پر موجود ہوں گے۔

ہماری مشکل یہ ہے کہ ہم اپنوں کے ڈسے ہوئے ہیں ہمارا وطن عزیز اب سچی بات یہ ہے کہ کسی کے رہنے کے قابل نہیں رہا، انسانی اور شہری مشکلات اور عام ناانصافی کا کون سا نمونہ ہے جو ہمارے ہاں نہیں پایا جاتا بلکہ اس کی اعلیٰ ترین سطح پر پرورش کی جاتی ہے۔ بجلی گیس ایندھن نہ ہو تو کوئی گھر یا ملک کیسے چلتا ہے جو بھی ہے سب برداشت کیے جا رہے ہیں اور زندہ ہیں اس پر نظریاتی افلاس الگ پر، امید لگی تھی الیکشن سے کہ اس میں ایسے لوگ آ سکتے ہیں جو قوم پر رحم کریں گے یا عوام ایسے لوگوں کو ہی ووٹ دیں گے جو ماضی کی بے پناہ تلخیوں کا کچھ ازالہ کر سکیں گے لیکن ہمارے دور دور تک پھیلے ہوئے دشمنوں نے الیکشن کے خلاف زبردست مہم شروع کر دی ہے اور لاکھوں پاکستانی اس مہم میں دکھائی دے رہے ہیں۔

ٹیلی فون آ رہے ہیں کہ طاہر القادری کے بارے میں آپ لوگوں کی باتیں درست مگر ہم کیا کریں کوئی اور راستہ بھی تو نہیں اگر کوئی ہے تو آپ بتائیں۔ میں ان کی خدمت میں عرض کرتا ہوں کہ آپ کی بات درست لیکن پرانے لوگوں سے یہ نئے مولوی ہمیں زیادہ خطرناک دکھائی دے رہے ہیں۔ میاں نواز شریف سے مجھے بڑی امیدیں تھیں اور ہیں لیکن وہ کبھی سیفما میں تقریر کر رہے ہوتے ہیں اور کبھی پختونخوا کی پذیرائی کرتے ہیں پھر بھی ان کی کوئی غلط فہمی اپنی جگہ ان کی بدنیتی نہیں ہے۔ میرا دوسرا لیڈر ہے عمران خان اس نے لاہور میں بڑے جلسوں کا آغاز کیا اور بعد میں جو جلسہ بھی ہوا اس کا موازنہ اس جلسے سے کیا گیا۔ سنا ہے عمران ان دنوں اپنی پارٹی کی تنظیم اور پارٹی الیکشن میں مصروف ہے یہ ایک اچھی بات ہے جماعتوں کو منظم اور ڈسپلن کے اندر ہونا چاہیے۔

عمران کے ماضی کے کارنامے اس کا سیاسی اثاثہ ہیں اور یہ اثاثہ اس سے کوئی چھین نہیں سکتا، میرا خیال ہے اس کے دل و دماغ میں فتور نہیں وہ سیدھی سادی سیاست کرتا ہے اس میں گنجلک نہیں ہوتی لیکن عمران کو زیادہ ہوشیار رہنا ہو گا خصوصاً پرانے سیاستدانوں سے۔ یہ بہت چالاک لوگ ہیں اور انھوں نے اس سے غلطیاں بھی کرانی ہیں لیکن ایسی خطرناک نہیں ہیں۔ امید ہے عمران خان ہمارے سیاسی منظر کو بدلنے میں کامیاب ہو جائے گا ورنہ جناب علامہ قادری صاحب تو ہمیں وہاں ماریں گے جہاں پانی بھی نہیں ملے گا۔ عمران کم از کم پورا پاکستانی تو ہے ادھورا اور مشکوک پاکستانی ہرگز نہیں۔

ہماری سیاست کا جو وقت جا رہا ہے یہ سخت انتشار اور مخمصے کا وقت ہے، لوگ اکھڑ گئے ہیں اپنے قدموں پر قائم نہیں۔ اپنے عمران کو اپنی قوم کو اس کنفیوژن سے نکالنا ہو گا اور یہ ہو سکتا ہے، اس کے ساتھ اچھے لوگ ہیں محب وطن اور قربانی دینے والے خصوصاً نوجوانوں کا گروہ جو اس کے ساتھ ہے، عمران کو انھیں ہر گز مایوس نہیں کرنا چاہیے۔ یہ ہماری قومی ضرورت ہے جس کے بغیر ہم آگے نہیں بڑھ سکتے۔ لیکن میں اپنے پاکستانی قائدین سے عرض کروں گا کہ خدا کے لیے وہ پاکستان اور اس کے دشمنوں کو پہچانیں۔ دل کھل جائیں تو سرحدیں کھل جاتی ہیں کس کے دل اور کس کی سرحدیں؟

مقبول خبریں