دریائے سندھ میں ایل این جی کیلیے پائپ لائن کی تعمیر مکمل

ایس ایس جی سی کی ٹیم نے 148 فٹ گہری 2.1 کلومیٹر طویل 42 انچ قطر کی لائن بچھائی


Business Reporter March 06, 2017
ایچ ڈی ڈی ایک ٹرینچ لیس ٹیکنالوجی ہے جو موجودہ سوائل کنڈیشن کو متاثر کیے بغیر اپنا کام سرانجام دیتی ہے۔ فوٹو: فائل

سوئی سدرن گیس نے جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے دریائے سندھ میں آر ایل این جی پروجیکٹ کے لیے پائپ لائن کی تعمیر مکمل کرلی ہے۔

سوئی سدرن گیس کمپنی کے انجنیئرز اور ٹیکنیشنز کی ٹیم نے چائنا پٹرولیم پائپ لائن بیورو کے باہمی اشتراک سے دریائے سندھ میں ہاریزنٹل ڈائریکشنل ڈرلنگ (ایچ ڈی ڈی) ٹیکنالوجی کے استعمال سے 148 فٹ گہری 2.1کلو میٹر طویل 42انچ قطر کی گیس پائپ لائین کی تعمیر کا دشوار مرحلہ مکمل کر لیا ہے۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کے اتنے بڑے پیمانے پہ ایچ ڈی ڈی ٹیکنالوجی کا استعمال پاکستان میں پہلی مرتبہ کیا گیا ہے جو اپنی نوعیت کے لحاظ سے انفرادی حیثیت کا حامل ہے۔

واضح رہے کہ یہ تعمیراتی کام دراصل آر ایل این جی پروجیکٹ (2) کا حصہ ہے جس میں سوئی سدرن گیس کمپنی ایس ایم ایس پاک لینڈ تا ایم وی اے نارا 42انچ قطر کی 340کلومیٹر پائپ لائین کی تعمیر میں مصروف ہے جو ساون (سندھ) پر مطلوبہ پریشر 1115پی ایس آئی جی کے ساتھ1.2بی سی ایف آر ایل این جی کی ترسیل کرے گی۔ یہ پائپ لائین دریائے سندھ کو کوٹری بیراج کے ساتھ ساتھ کئی دوسری کراسنگز روہڑی کینال، نصیر کینال، بھومپر کینال اور سوئی کندھر کینال کو عبور کرے گی تاہم دریائے سندھ اس پروجیکٹ میں کے راستے میں آنے والی سب سے بڑی کراسنگ تھی۔

علاوہ ازیں اس ہدف کو حاصل کرنے کے لیے کم لاگت اور ماحولیات کو متاثٗر کیے بغیر تیزی سے مکمل کرنے والی جدید ٹیکنالوجی ہاریزینٹل ڈئریکشنل ڈرلنگ ( ایچ ڈی ڈی) کو استئمال کیا گیاہے جو کہ پاکستان میں ایچ ڈی ڈی کے ذریعے سب سے بڑی ہونے والی تعمیر ہے۔ ایچ ڈی ڈی ایک ٹرینچ لیس ٹیکنالوجی ہے جو موجودہ سوائل کنڈیشن کو متاثر کیے بغیر اپنا کام سرانجام دیتی ہے۔

یاد رہے کہ دریائے سندھ پر کام کرنے کیلیے ایچ ڈی ڈی پروجیکٹ کا ٹھیکہ شفاف ٹینڈرنگ پراسیس کے تحت معروف بین الاقوامی پائپ لائن کمپنی میسرز چائنا پٹرولیم پائپ لائن بیورو، چائنا کو دیا گیا تھا۔

مقبول خبریں