توانائی بحران ٹیکسٹائل سیکٹر کو یومیہ 3 کروڑ ڈالر نقصان

ملز آرڈر پورے نہیں کر پارہیں، برآمدات گزشتہ سال کی سطح تک بھی نہیں پہنچ پائیں گی۔


Business Reporter January 10, 2013
پنجاب میں ٹیکسٹائل انڈسٹری کی بجلی گیس جلد بحال کی جائے، ریڈی گارمنٹس مینوفیکچررز فوٹو: فائل

مقامی ٹیکسٹائل سیکٹر کوطویل دورانیے سے قدرتی گیس اور بجلی کی ترسیل میں رکاوٹوں اورلوڈ شیڈنگ کے باعث اس شعبے میں یورپی منڈیوں تک ڈیوٹی فری رسائی سے ایک لاکھ نئی ملازمتوں کے مواقع پیدا ہونے کے امکانات ختم ہوگئے ہیں۔

بجلی وگیس کی رکاوٹوں کے ساتھ سپلائی کے سبب ٹیکسٹائل کی صنعت کو یومیہ 3 کروڑ ڈالرمالیت کے نقصان کا سامنا ہے۔ پاکستان ریڈی میڈ گارمنٹس مینوفیکچررز اینڈ ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن (پریگمیا) کے چیئرمین سجاد سلیم نے کہا ہے کہ فی الوقت ملک کے بیشتر علاقوں میں مستقل بنیادوں پر گیس اور بجلی کی لوڈشیڈنگ خصوصاً صوبہ پنجاب میں قائم ٹیکسٹائل کی صنعتوں کوقدرتی گیس اور بجلی کی فراہمی مکمل طور پر بند ہونے کی وجہ سے اس شعبے کی صنعتیں سنگین بحران سے دوچار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یورپی یونین کی جانب سے پاکستان کو ملنے والی ڈیوٹی فری رسائی کی سہولت کے مثبت اثرات مرتب ہونا تھے لیکن وہ توانائی کے سنگین بحران سے معدوم ہوگئے ہیں۔



موجودہ بحران کا سب سے زیادہ شکار ریڈی میڈگارمنٹ انڈسٹری ہوئی ہے، اس شعبے میں چونکہ چھوٹی ودرمیانے درجے کی صنعتوں کی تعداد زیادہ ہے، اسی لیے محدود وسائل کی وجہ سے توانائی بحران کے برادشت کی کم صلاحیت کے باعث ریڈی میڈ گارمنٹس کی بیشمار صنعتیں بند ہوچکی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ توانائی کے جاری بحران کی وجہ سے مقامی برآمدکنندہ ٹیکسٹائل ملیں مقررہ مدت میںبرآمدی آرڈرز کی تکمیل کرنے سے قاصر ہیں اور خدشہ ہے کہ رواں مالی سال کے دوران ٹیکسٹائل کی برآمدات کے اعدادوشمار گزشتہ سال کے مساوی بھی نہ ہوپائیں گے۔

انہوں نے بتایا کہ ٹیکسٹائل صنعت میں گیس طلب 210 ایم ایم سی ایف ڈی ہے جبکہ اسے صرف 57 فیصد یا 120ایم ایم سی ایف ڈی گیس دی جارہی ہے جبکہ دیگر سیکٹرز کیلیے گیس لوڈ شیڈنگ اس سے کہیںکم ہے۔ انھوں نے کہاکہ یورپی مارکیٹ رسائی سے فائدہ اٹھانے کیلیے پنجاب میں ٹیکسٹائل سیکٹرکی گیس اور بجلی فوراً بحال کی جائے۔