مقبوضہ کشمیر میں 2 نوجوانوں کی شہادت پر ہڑتال اور مظاہرے

ترال میں بھارتی فورسزکامظاہرین کیخلاف طاقت کا وحشیانہ استعمال،پیلٹ فائر کیے، 20نوجوان زخمی، 8 کی حالت نازک


News Agencies March 07, 2017
کئی اضلاع میں کاروبارزندگی مفلوج،مجاہدکے جنازے میں ہزاروں افرادکی شرکت،حریت کانفرنس کاعلی گیلانی کی صحت پراظہارتشویش۔ فوٹو: فائل

مقبوضہ کشمیر میں ترال میں 2 نوجوانوں کی شہادت پراسلام آباد، پلوامہ اورشوپیان اضلاع میں مکمل ہڑتال کی گئی جس کی وجہ سے کاروبار زندگی مفلوج ہو کر رہ گیا۔

بھارتی فورسز نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے لاٹھی چارج کیا، آنسو گیس کے گولے داغے اور پیلٹ فائر کیے۔دریں اثنا ہزاروں لوگوں نے ضلع پلوامہ کے علاقے ترال میں مجاہدکمانڈر عاقب احمد بٹ المعروف عاقب مولوی شہید کی نماز جنازہ میں شرکت کی۔ انھیں ان کے آبائی گاؤں میں دفن کیاگیا۔ کاروباری و تجارتی مراکز بند اور ٹریفک معطل رہی جبکہ بھارتی فورسز کی طرف سے احتجاجی مظاہرین کے خلاف طاقت کے وحشیانہ استعمال سے 20 افراد زخمی ہوئے جن میں سے 8افراد کی حالت نازک بتائی جاتی ہے اور انھیں علاج کے لیے سرینگرمنتقل کیا گیا ہے۔

کشمیرمیڈیا سروس کے مطابق عاقب اتوار کو ہفو نازنین پورہ گاؤں میں 15گھنٹے تک جاری رہنے والی فوجی کارروائی کے دوران شہید ہونے والے 2 مجاہدین میں سے ایک تھے۔

اطلاعات کے مطابق پابندیوں کے باوجود ترال، اونتی پورہ اور ضلع پلوامہ کے دیگر علاقوں سے 50 ہزارکے قریب لوگوں نے عاقب کی نماز جنازہ میں شرکت کی۔ سرینگر کے علاقے رعناواری میں نامعلوم حملہ آوروں نے بھارت کی پیراملٹری سینٹرل ریزرو پولیس فورس کے ایک ٹرک پر پٹرول بم سے حملہ کیا جس کے نتیجے میں ٹرک نذر آتش ہوگیا۔

علاوہ ازیں حریت کانفرنس نے بزرگ رہنما سید علی گیلانی کی نظر بندی کے باعث ان کی بگڑتی ہوئی صحت پر تشویش کا اظہار کیا اور بھارت پر زور دیا ہے کہ وہ کشمیر سے متعلق اپنی پالیسی پر نظر ثانی کرے۔

مقبول خبریں