شامی باغیوں نے فوجی ایئر پورٹ پر قبضہ کرلیا مزید 27 ہلاکتیں

حلب میں ملٹری ایئرپورٹ کے قریب شدید لڑائی جاری،خانہ جنگی سے 10 لاکھ افرادمتاثرہوئے،اقوام متحدہ۔


AFP January 10, 2013
دمشق: مہاجرین کیمپ میں شدید برف باری کے بعد ایک خاتون پانی بھر رہی ہے جبکہ پیچھے اس کا بچہ نظر آرہا ہے۔ فوٹو: اے ایف پی

شام کے شمال مغربی علاقے میں باغیوں نے فوج کے ایک اہم اور بڑے ایئرپورٹ کے بڑے حصے پر قبضہ کرلیا ہے جبکہ پرتشدد واقعات میں 4 بچوں سمیت مزید 27 افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔

باغیوں نے یرغمال بنائے گئے 48 ایرانیوں کو رہا کردیا، ذرائع ابلاغ کے مطابق شام کے شمال مغربی علاقے میں واقع تفتاناز ملٹری ایئرپورٹ کے بڑے حصے پر باغیوں نے ایک ہفتے کی شدید لڑائی کے بعد قبضہ کرلیا ہے، باغیوں نے حملے کے دوران فوج کے متعدد جنگی ہیلی کاپٹر بھی تباہ کردیے ہیں، صوبہ حلب میں بھی ملٹری ایئرپورٹ کے قریب شدید لڑائی جاری ہے، دریں اثنا مللک میں پرتشدد واقعات میں 4 بچوں سمیت مزید 27 افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔

شام کی سرکاری فوج نے بمباری کے نتیجے میں ایک ہی خاندان کے 4 بچوں سمیت مزید 10 افراد کو ہلاک کردیا، فوج نے بمباری حمص شہرمیں صبح سویرے کی ہے، جاں بحق ہونے والے بچوں کی عمریں 7 ماہ، 12، 14 اور 16 سال تھیں، دوسری طرف شام میں گزشتہ سال اگست میں یرغمال بنائے گئے 48 ایرانیوں کو باغیوں نے رہاکر دیا ہے جوآٓخری اطلاع آنے تک دمشق پہنچ گئے ہیں، ایک ترک رفاہی ادارے کے مطابق ان یرغمالیوں کی رہائی شامی حکومت کی جانب سے 2130 قیدیوں کی رہائی کے بدلے میں ممکن ہوئی ہے۔



شامی باغیوں نے ایرانیوں پر شامی حکومت کے لیے کام کرنے کا الزام عائد کیا تھا، ادھر اقوام متحدہ نے کہا ہے کہ شام میں خانہ جنگی سے 10لاکھ سے زائد افراد متاثر ہوئے ہیں۔ اقوام متحدہ کے عالمی خوراک کے پروگرام کی جاری کردہ رپورٹ کے مطابق ادارہ شام میں خانہ جنگی کے باعث 15لاکھ سے زائد باشندوں کو خوراک فراہم کررہا ہے لیکن خوراک کی تقسیم میں دشواریوں کا سامنا ہے اور بہت سے متاثرین تک خوراک نہیں پہنچ رہی۔