افغانستان میں امن کی کلید

آج بھی پاکستان کو افغان بحران پر سخت تشویش ہے۔


Editorial March 08, 2017
آج بھی پاکستان کو افغان بحران پر سخت تشویش ہے ۔ فوٹو: اے ایف پی/ فائل

افغانستان کی داخلی صورتحال پہلے سے زیادہ تشویش ناک ہے۔اسے کئی جہتی مسائل کا سامنا ہے لیکن بیشتر مسائل خود افغان حکمرانوں کے اپنے پیدا کردہ ہیں، اس میں بنیادی ایشو افغان حکام کا پاکستان کی خیر سگالی کا اسی جوش وجذبہ سے جواب دینے سے انکار ہے، جب کہ امریکا اس بات کا ادراک کرے کہ خطے کی تزویراتی کشمکش کم کرنے اور افغان حکومت کو بحران سے نکالنے سمیت کثیر جہتی ملکی و غیر ملکی سربراہی مکالمے اور ڈونرز اجلاس کے انعقاد میں پاکستان نے کوئی کسر نہیں اٹھا رکھی جس میں مقصد صرف افغانستان میں پائیدار امن کا قیام ہے اور زمینی حقیقت یہ ہے کہ اگر دہشتگردی کے خاتمے کے لیے افغانستان پاک افغان مشترکہ میکنزم بنانے پر راضی ہوجاتا توطالبان اور داعش سے نمٹنا آسان ہوتا مگر بھارت اور دوسرے بے چہرہ دشمنوں کی ریشہ دوانیوں اور مذموم گٹھ جوڑ سے صدر غنی پاکستان کے '' ویو لنتھ'' پر نہیں آنا چاہتے ۔

آج بھی پاکستان کو افغان بحران پر سخت تشویش ہے جو جینوئن دلگرفتگی ہے وہ افغان حکام کی پاکستان سے بلاجواز مخاصمت ہے جس سے صورتحال کے اندوہ ناک ہونے کا مزید خطرہ ہے جب کہ ضرورت داخلی استحکام کی طرف افغان حکومت کی فوری توجہ اور پاک افغان رابطہ اور تعلقات کو ابتری سے بچانے کی ہے۔ مگر اے بسا آرزو کہ خاک شدہ کے مصداق پاکستان پر الزام تراشیوں کا سلسلہ بند ہو تو بات بنے، ہر غلطی یا مسئلے پر پاکستان کو مورد الزام ٹھہرانا مسئلہ کا حل نہیں، افغان داخلی نظام کی فعالیت روبہ زوال ہے، ایسا محسوس ہوتا ہے کہ افغان سیکیورٹی فورسز میں صورتحال کا مقابلہ کرنے کی اہلیت نہیں ہے اور دہشتگردوں کو کھلی چھوٹ بھی اسی وجہ سے مل رہی ہے کہ ان کے خلاف کارروائی نہ ہونے کے برابر ہے۔ پاکستان سرحد پر باڑ لگانے کی بات کرتا ہے تو افغان حکام مانتے نہیں جب کہ اس مسئلہ کا ایک ہی حل ہے کہ پوری سرحد سیل کردی جائے، گزشتہ روز حکومت پاکستان نے طورخم بارڈر کو پاکستانی ویزا رکھنے والے افغانیوں کے لیے 7 اور 8 مارچ کو کھولنے کا فیصلہ کیا جو خیر سگالی کا مظہر ہے۔

بتایا جاتا ہے کہ پاسپورٹ اور ویزہ کے بغیر افغانیوں کا داخلہ ممنوع ہوگا، پاکستانی باشندے پاکستانی پاسپورٹ پر داخل ہونگے، فیصلے کا اعلان مشیر خارجہ سرتاج عزیز نے کیا۔ دوسری جانب وزیر دفاع خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ افغانستان کے ساتھ جب تک بارڈر مینجمنٹ نہیں ہوتی معاملات ایسے ہی چلتے رہیں گے تاہم معروضی صورتحال اس قدر ہولناک ہوگئی ہے کہ بارڈر مینجمنٹ کا کوئی دیرپا حتمی فیصلہ ناگزیر ہے۔گزشتہ دنوں مہمند میں تین پوسٹوں پر حملے ہوئے ، پاکستانی فوجیوںکو شہید کیا گیا، حملہ سرحد پار سے کیا گیا تھا، منگل کو صوابی کے علاقے ملک آباد میں سیکیورٹی فورسز نے انٹیلی جنس اطلاعات کی بنیاد پر آپریشن شروع کیا تو ایک کمپاؤنڈ میں چھپے ہوئے دہشتگردوں نے فورسز پر فائرنگ کی جس کے نتیجے میں کیپٹن جنید اور سپاہی امجد شہید ہوگئے ، جوابی کارروائی میں پانچ دہشت گرد مارے گئے۔

پاکستان کے لیے یہ صورتحال قابل قبول نہیں ہوگی، افغانستان عدم تعاون ترک کرے اور سوچے کہ نائن الیون کے بعد سے نیٹو اور امریکی فورسز سمیت دنیا کی تمام عالمی قوتوں نے مل کر افغانستان میں امن کے قیام کی کوششیں کی جس میں پاکستان کا کردار ان تمام ممالک سے نمایاں رہا ، اس نے فرنٹ لائن اسٹیٹ بنکر خطے میں مستحکم افغانستان کے کاز کو آگے بڑھانے کی عملی جستجو کی اور سیاسی، سماجی و معاشی نظام کے استحکام کا بیڑا اٹھایا لیکن سب بیکارگیا، اب تو بعض قوتیں حالات سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کرتے ہوئے خطے کو ایک نئے بحران کی طرف دھکیلنے کا گریٹ گیم کھیلنا چاہتی ہیں، بدامنی خطے کو اپنی لپیٹ میں لے رہی ہے دوسری جانب دہشتگردی سے نمٹنے کے لیے افغان حکومت داعش و طالبان سے برسرپیکار ہے۔

آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے افغانستان سے دہشتگردوں کے پاکستانی چیک پوسٹوں پر حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ دہشتگرد پاکستان اورافغانستان دونوں ملکوں کے مشترکہ دشمن ہیں اور ان کی سرحد پار سے آزادانہ آمدورفت روکنے کی ضرورت ہے۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق آرمی چیف جنرل قمرجاوید باجوہ نے کہا سرحد پر افغانستان کی جانب سے موثر سیکیورٹی کی ضرورت ہے۔دریں اثنا افغان قومی سلامتی کے مشیر حنیف اتمر نے افغانستان میںدہشت گردوں کی موجودگی کے پاکستانی موقف کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ افغانستان میں40سے 45ہزار دہشت گرد موجود ہیں۔ ادھر معروف امریکی اخبار ''دی ٹیلی گراف'' کی رپورٹ کے مطابق پاکستان نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے نئے جنرلزکو خبردار کیا ہے کہ افغانستان میں برطانیہ اور امریکا نے داعش اور طالبان کی پیش قدمی نہیں روکی توانھیں معاملات میں بگاڑ کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اگرداعش اور طالبان دوبارہ مضبوط ہوتے رہے تو روس وسط ایشیامیں خود کو محفوظ رکھنے کا بہانہ استعمال کرتے ہوئے شام جیسی مداخلت کر سکتا ہے۔

ایسی گھمبیر صورتحال کا تقاضہ ہے کہ افغانستان بلاتاخیر مفاہمت اور دو طرفہ تعاون و مشترکہ اسٹریٹجیکل میکنزم کے لیے آگے بڑھے، بھارت اور افغانستان کو امن کے کاز کو آگے بڑھانے کے لیے خطے میں کثیر جہتی کشیدگی ختم کرنا ہوگی ، دہشتگردی سب کی مشترکہ دشمن ہے، خطے کو امن کی ضرورت ہے، اور یاد رکھیے امن کی کلید پاکستان کے ہاتھ میں ہے۔