پاکستانیوں کے لیے کویتی ویزوں کی بحالی
پاک کویت اقتصادی ، زرعی ، سماجی ، دفاعی اور تکنیکی شعبوں میں تعاون کا دوطرفہ سیناریو ہمیشہ سے قابل دید رہا ہے
کویت نے پاکستانیوں کے لیے گزشتہ6سال سے بند ویزے بحال کردیے۔ پاکستان اور کویت نے مشترکہ بزنس کونسل بنانے سمیت پانچ دیگر شعبوں میں تعاون پر بھی اتفاق کیا ہے۔ اس بریک تھرو کا سبب بلاشبہ وزیراعظم کی مساعی جمیلہ سے ممکن ہوا ہے جس کے دوطرفہ تعلقات سمیت کویت میں مقیم پاکستانی محنت کشوں اور بزنس کمیونٹی کو بیش بہا فوائد حاصل ہونگے۔
میڈیا کی اطلاعات کے مطابق وزیراعظم نواز شریف نے منگل کو امیر کویت شیخ صباح احمد الجابر الصباح سے کویت سٹی میں بیان پیلس میں ملاقات اور وفود کی سطح پر مذاکرات میں شرکت کی۔مذاکرات میں وفاقی وزیر پٹرولیم شاہد خاقان عباسی، وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے خارجہ امور طارق فاطمی اور سرمایہ کاری بورڈ کے چیئرمین مفتاع اسماعیل بھی موجود تھے۔
کویت کی جانب سے وزیراعظم، کویتی وزیردفاع، وزیرخزانہ، وزیر توانائی اور دیگر اعلیٰ حکام بھی مذاکرات میں شریک ہوئے۔ کویت کے سفیرعبدالرحمٰن کے مطابق ملاقات کے دوران پاکستانیوں پر چھ سال سے عائد ویزا پابندیاں اٹھانے پر اتفاق کیا گیا۔ وزیراعظم نوازشریف نے کہا کہ دفاع، توانائی، زراعت، تعمیرات، پولٹری، لائیواسٹاک اور فشریز کے شعبوں میں دونوں ملکوں میں تعاون کے وسیع تر مواقع موجود ہیں اور اس حوالے سے تعاون کے لیے دونوںممالک کے درمیان اجلاس ہونے چاہئیں۔
پاک کویت اقتصادی ، زرعی ، سماجی ، دفاعی اور تکنیکی شعبوں میں تعاون کا دوطرفہ سیناریو ہمیشہ سے قابل دید رہا ہے ، دونوں ملکوں کے مابین برادرانہ ، تاریخی اور ثقافتی رشتوں کا تسلسل ہر دور میں نمایاں اہمیت کا حامل رہا ہے، وزیراعظم کا حالیہ دورہ افادیت اور مقصدیت کے ملے جلے اس پیغام کے ساتھ اختتام کو پہنچا کہ دونوں ملک ایک دوسرے کی اقتصادی اور تجارتی ترقی کے معاہدوں کی ڈور سے بندھے رہیں گے۔
گذشتہ دنوں بعض بدخواہوں کی جانب سے پاکستانی محنت کشوں کے ویزوں کی بندش کی افواہ میڈیا میں پھیلائی گئی جس کا پاکستان اور کویتی سفارتی ذرایع نے سختی سے نوٹس لیا اور وزیراعظم نے بلا کسی تاخیر کے قوم کو یقین دلایا کہ وہ اپنے دورہ میں امیر کویت اور ہم منصب سے اس سلسلہ میں نتیجہ خیز مذاکرات کریں گے، خدا کا شکر ہے کہ کویت و پاکستان کے لازوال تعلقات اور دائمی خیرسگالی رنگ لائی اور پاکستان سے کویت جانے والوں کے لیے ویزے بحالی کی خوشخبری قوم کو مل گئی۔
اب ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت اور سمندر پار پاکستانیوں کی دستگیری اور ان کی سفارتی ، ملازمتی اور ہنر مند افرادی قوت کے روزگار کی فراہمی کے ضمن میں نئے امکانات ڈھونڈنے کی رفتار تیز ہونی چاہیے اورجہاں پاکستانی محنت کشوں کی کھپت یا مسلم عرب ، یورپی و افریقی ملکوں میں پاکستانی سکونت پذیر ہیں اور انھیں ویزے ، روزگار اور دیگر مسائل کا سامنا ہے وہاں حکومتی ادارے ، سفارت خانے اور متعلقہ وزارتیں فوری توجہ دیں۔ بھارت عرب دنیا اور خلیجی ممالک میں قدم جما چکا ہے ، پاکستانیوں کے لیے زیادہ گنجائش پیدا کرنے کے لیے وسیع پیمانے پر کوششوں کی ضرورت ہے، امید کی جانی چاہیے کہ وزیراعظم کویتی اقدام کے بعد سعودی عرب ، متحدہ عرب امارات سمیت دیگر عرب اور مسلم ملکوں میں پاکستانی بزنس کمیونٹی ، سرمایہ کاروں ، زرعی مزدوروں اور ہنرمند افرادی قوت کو ان ملکوں کی ترقی میں اپنا حصہ ڈالنے اور اپنی صلاحیتوں کے بہتر استعمال سے پاکستان کا وقار سربلند رکھنے کی کوششیں جاری رکھیں گے۔
وزیراعظم نوازشریف نے کہا کہ پاکستان کویت کے ساتھ دوطرفہ تعلقات کو بڑی اہمیت دیتا اور مختلف شعبوں میں تعلقات کو مزید فروغ دینا چاہتا ہے۔ وزیراعظم کے دورہ کویت کے بارے میں اسلام آباد سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابقاس موقع پرنواز شریف نے کہا کہ ایک لاکھ14ہزار سے زائد پاکستانی کویت میں مقیم ہیں جو دونوں ممالک کے درمیان مضبوط تعلقات کا ثبوت ہے، اس سے پاکستان کی جانب سے کویت کے ساتھ تعلقات کو دی جانے والی اہمیت کا بھی اندازہ ہوتا ہے۔ دونوں ملک طویل عرصہ سے اقتصادی اور تجارتی شراکت دار رہے ہیں اور پاکستان کویت کے ساتھ تمام شعبوں میں اپنے تعلقات کو مزید بڑھانے کا خواہشمند ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ مشترکہ وزارتی کمیشن معیشت کے مختلف شعبوں میں دوطرفہ تعاون کا جائزہ لینے اور اس تعاون کو آگے بڑھانے کے لیے نئے اہداف مقرر کرنے کا بہترین پلیٹ فارم مہیا کرتا ہے۔
دونوں ملکوں کے درمیان تجارتی حجم میں اضافہ ضروری ہے، خلیج تعاون کونسل اور پاکستان کے درمیان آزاد تجارتی معاہدے پر مذاکرات ہونے چاہئیں، نجی شعبہ کے باہمی روابط کی حوصلہ افزائی سے تجارت کو بڑھانے کے ساتھ ساتھ تجارتی توازن قائم کرنے میں بھی مدد ملے گی۔ کویت نے ہر مشکل اور آزمائش کی گھری میں اہل وطن کا ساتھ دیا ہے اور قدرتی آفات اور مشترکہ انسانی خدمات کے حوالہ سے کویت ہمیشہ پاکستان کے شانہ بشانہ رہا ہے، پاکستان بھی 1991 ء کی خلیج جنگ میں کویت کی آزادی اور قبضہ کے خاتمہ کی امن کوششوں میں پیش پیش رہا ہے ۔ یہ مشن جاری رہنا چاہیے۔