گلگت سے ایک اچھی خبر

فقہی اختلافات کو شدید نفرتوں اور خونریزیوں میں اس وقت بدلا گیا،...


Zaheer Akhter Bedari July 30, 2012
[email protected]

TOKYO: پچھلے دنوں گلگت کے حوالے سے ایک انتہائی دل خوش کن خبر آئی ہے۔ اس کے مطابق گلگت کے دو مختلف فقہوں سے تعلق رکھنے والے افراد نے ایک اجلاس میں یہ فیصلہ کیا کہ اب وہ فقہوں کے نام پر نہ ایک دوسرے سے نفرت کریں گے نہ ایک دوسرے کا خون بہائیں گے بلکہ آج سے ہم بھائیوں کی طرح رہیں گے جو لوگ فقہوں کے نام پر عوام میں تعصب پھیلانے یا انھیں لڑانے کی کوشش کریں گے ان کا مل کر مقابلہ کریں گے۔

اس انتہائی مثبت فیصلے کے بعد دونوں فقہوں کے لوگوں نے جشن منایا۔ یہ خبر اس پس منظر میں انتہائی حوصلہ افزا ہے کہ گلگت میں پچھلے دنوں فقہی قتل و غارت کے انتہائی افسوس ناک واقعات ہوتے رہے ہیں۔ جن میں سیکڑوں انسانوں کو انتہائی بے دردی سے قتل کیا گیا تھا۔

اس حوالے سے اس بات پر غور کرنے کی ضرورت ہے کہ فقہی نفرتوں اور فقہی خونریزیوں کا ماضی قریب میں اچانک آغاز کیوں ہوا اور کن طاقتوں نے مسلمانوں میں فقہی نفرتوں کو ہوا دے کر کئی مسلم ملکوں میں انتہائی سفّاکی سے بے گناہ انسانوں کا خون بہانا شروع کیا؟ مسلم معاشروں میں فقہی تقسیم صدیوں پرانی ہے بلکہ اس کا آغاز اسلامی تاریخ کے ابتدائی دنوں سے ہی ہوا لیکن یہ فقہی اختلاف عموماً امام بارگاہوں اور مسجدوں کے اندر اختلافی مباحثوں تک محدود رہا۔

اس حوالے سے مجھے اپنے شہر بیدر کا نقشہ سامنے آتا ہے جہاں شیعہ سنّی اختلافات کے حوالے سے صرف محرم میں یہ دیکھا جاتا تھا کہ بیدرکی واحد امام بارگاہ میں مجلس اعزاء کا اہتمام انتہائی پرامن طور پر ہوتا تھا۔ اس امام بارگاہ میں 10 محرم کو ماتمی مجلس بھی منعقد ہوتی تھی لیکن کوئی جلوس، کوئی ریلی وغیرہ اس حوالے سے نہیں نکالی جاتی تھی۔ اس کے برخلاف اس ماتحتی مجلس کو دیکھنے کے لیے سنّی حضرات بھی جاتے تھے، ان کی شرکت پر کوئی پابندی نہ تھی۔ محرم کے چند دنوں کے بعد فقہی اختلافات کا کوئی نشان نہیں ملتا تھا۔

کراچی میں بھی ایک عرصے تک فقہی اختلافات صرف مسجدوں اور امام بارگاہوں تک محدود رہتے تھے۔ محرم کے جلوس بھی اس قدر پرامن ہوتے تھے کہ ان جلوسوں کی حفاظت کے لیے پولیس کی کوئی بھاری نفری نہیں لگائی جاتی تھی بلکہ محض انتظامی حوالے سے ایک مختصر سی نفری ان جلوسوں میں موجود رہتی تھی۔ مجھے یاد ہے کہ 10 محرم کے جلوس کو دیکھنے کے لیے بندر روڈ کے آس پاس کی عمارتوں پر بلاامتیاز فقہہ ہزاروں لوگ گھنٹوں پہلے بیٹھے رہتے اور جلوس کے اختتام پر خیر خیریت اپنے گھروں کو واپس آجاتے تھے۔

پھر آہستہ آہستہ محرم اور ربیع الاول کے مہینوں میں جلوسوں اور ریلیوں میں اضافہ ہوتا چلا گیا لیکن پھر بھی قتل و غارت کا کوئی کلچر موجود نہ تھا، اس کے برخلاف رجب کے مہینے میں شیعہ اور سنّی دونوں گھرانوں میں کونڈوں کا اہتمام ہوتا تھا۔ یہ کونڈے امام جعفر صادق کے حوالے سے کیے جاتے تھے۔ یوں یہ تقریب بنیادی طور پر شیعہ برادری کی تقریب تھی، لیکن اس کا اہتمام دونوں فقہوں کے گھرانوں میں ہوتا اور دونوں فقہوں کے لوگ اس تقریب میں ایک دوسرے کے گھروں میں کونڈے کھانے جاتے تھے۔

فقہی اختلافات میں شدید نفرتوں اور خون خرابے کا آغاز بدقسمتی سے اس وقت سے شروع ہوا جب سے طالبان پاکستانی معاشرے میں خاص طور پر سرحدی علاقوں اور افغانستان میں طاقت پکڑنے لگے۔ ماضی میں بدقسمتی سے بعض عرب ملک دونوں مسلکوں کے رہنماؤں کی حوصلہ افزائی اور مالی مدد کرتے تھے لیکن اس مدد کے اثرات بھی دونوں فقہوں کی عبادت گاہوں تک ہی محدود رہتے تھے لیکن اس فقہی اختلافات کو شدید نفرتوں اور خونریزیوں میں اس وقت بدلا گیا، جب امریکا نے عراق پر قبضہ کیا۔

عراق میں ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت شیعہ اور سنیوں کے درمیان انتہائی سفّاکانہ خونریزی، عراق پر امریکا کے قبضے کے دوران ہی شروع ہوئی اس کی انتہا کا اندازہ اس حقیقت سے لگایا جاسکتا ہے کہ عراق میں امریکا کی موجودگی کے دوران جتنا نقصان امریکا اور اس کے اتحادیوں کا ہوا اس سے کئی گنا زیادہ نقصان فقہی حوالے سے ہونے والی خونریزی میں خود عراقی مسلمانوں کا ہوا۔ اس پس منظر میں اس خیال کو رد نہیں کیا جاسکتا کہ عراق میں فقہی سفّاکانہ قتل و غارت کے پیچھے مغربی طاقتوں کا خصوصاً امریکا کا ہاتھ ہوسکتا ہے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ عراق سے امریکا کے چلے جانے کے بعد بھی عراق فقہی خونریزی کا مرکز بنا ہوا ہے اور قابل غور بات یہ ہے کہ اس قتل و غارت میں بارودی گاڑیاں اور خودکش حملے مرکزی کردار ادا کررہے ہیں۔

فقہی نفرتیں آہستہ آہستہ پاکستان میں بھی در آئیں اور اس کی ابتدا پختون خواہ سے ہوئی جو عسکریت پسندوں کا گڑھ بن گیا ہے، پھر اس نفرت اور خونریزی کو لاہور سے لے کر کراچی تک پھیلایا گیا۔ کراچی میں ہونے والی ٹارگٹ کلنگ لسانی حوالوں سے نکل کر فقہی نفرتوں تک اس طرح دراز ہوئی کہ کراچی میں رہنے والی شیعہ برادری کے لوگوں کا جن میں ڈاکٹر سرفہرست ہیں، اس طرح قتل عام شروع ہوا کہ بہت سارے لوگ ملک ہی چھوڑ کر بھاگنے لگے۔ بلوچستان میں فقہی خونریزی کی شدّت کا عالم یہ ہے کہ عراق جانے والے زائرین کی بسوں کو اس بہیمانہ طور پر قتل و غارت کا نشانہ بنایا جاتا رہا کہ انسانیت کا سرشرم سے جھک گیا۔

بسوں کے زائرین کو ٹارگٹ کلنگ کے ساتھ ساتھ بلوچستان کے کوئٹہ سمیت مختلف شہروں میں فقہی قتل و غارت کا عالم یہ ہے کہ تین تین سال کے بچّوں اور خواتین بھی اس حیوانی دہشت گردی کا شکار ہورہی ہیں اور قابل غور بات یہ ہے کہ اب ملک بھر میں یہ قتل و غارت فقہی ٹارگٹ کلنگ کا روپ دھار چکی ہے اور اس کے اداکار ہر جگہ وہی شدّت پسند نظر آتے ہیں جو بچوں کے اسکولوں، بزرگوں کے مزاروں اور بسوں کے اڈوں، بازاروں میں انسانوں کو گاجر مولی کی طرح کاٹ رہے ہیں۔

اس خوف ناک پس منظر میں گلگت کے شیعہ اور سنیوں کا اتحاد اور مل جل کر رہنے کا اعلان اور اس خوشی میں جشن کا اہتمام پاکستان میں رہنے والے دونوں فقہوں کے ماننے والوں کے لیے قابل تقلید مثال ہے جو طاقتیں پاکستان اور افغانستان میں فقہی خونریزی کے جرم کا ارتکاب کررہی ہیں، وہ دراصل سامراجی ملکوں کے ایجنٹ ہیں۔

مقبول خبریں