آہ سید سجاد علی شاہ

سید سجاد علی شاہ 4جون 1994تا 2 دسمبر 1997تک سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کے عہدے پر تعینات رہے


Editorial March 09, 2017
فوٹو؛ فائل

سابق چیف جسٹس سید سجادعلی شاہ کراچی میں آسودہ خاک ہوگئے۔ملک ایک ممتازماہر قانون دان اورایک اعلیٰ منصف سے محروم ہوگیا۔قانون اور انصاف کی فراہمی کے لیے ان کی کاوشیں لائق تحسین تھیں،ان کی وفات سے جو ایک خلا پیدا ہوا ہے اسے کسی بھی صورت پر نہیں کیا جاسکتا ۔ ججز نہیں بولتے بلکہ ان کے فیصلے بولتے ہیں کے مقولے کی وہ ایک عملی تصویر تھے۔

سید سجاد علی شاہ نے ملکی تاریخ میں بہت سے فیصلے انتہائی دلیرانہ دیے، قانون اورآئین کی پاسداری کو ہمیشہ مقدم رکھا، وہ کبھی کسی بھی دباؤ کا شکار نہیں ہوئے، جو بہتر سمجھا اس کا فیصلہ ضمیر اورآئین کے سنہری اصولوں کے مطابق کیا ۔کراچی کے ایک غریب گھرانے اورقدیم ترین پسماندہ علاقے لیاری سے ان کا تعلق تھا،انھوں نے انتھک محنت اورلگن کو اپنا شعاربنایا اورکامیابی کی منازل طے کرتے گئے اور پیچھے مڑکرکبھی نہ دیکھا۔سندھ مدرسۃ الاسلام سے میٹرک اور انٹر ڈی جے سائنس کالج سے کیا ۔

1956ء میں سندھ مسلم کالج سے سیاسیات اور جنرل ہسٹری میں گریجویشن کرنے کے بعد مزید تعلیم کے لیے انگلینڈ چلے گئے اور قانون کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد جنوری 1961ء کو وطن واپس لوٹے اور ڈسٹرکٹ پبلک پراسیکیوٹرکی حیثیت سے قانون کے شعبے میں قدم رکھا، وہ سیشن جج ، سندھ ہائی کورٹ کے جج کے علاوہ وزارت قانون وپارلیمانی اموراورسپریم کورٹ کے رجسٹرار بھی رہ چکے تھے اورپھر وہ وقت بھی آیا جب اس وقت کی وزیراعظم بے نظیر بھٹو نے ان کا تقرر بحیثیت چیف جسٹس آف پاکستان کیا، یہ کامیابیوں کا تسلسل اور معراج تھی ان کی جنھوں نے لیاری کے ایک غریب گھرانے میں جنم لیا تھا اور پاکستان کے منصف اعلیٰ کے لیے منتخب کیے گئے ۔

سید سجاد علی شاہ 4جون 1994تا 2 دسمبر 1997تک سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کے عہدے پر تعینات رہے۔ جب اس وقت کے صدر فاروق لغاری نے کرپشن کے الزام میں بے نظیر بھٹوکی حکومت کو ختم کیا تو جسٹس سجاد علی شاہ اس چھ رکنی بینچ میں شامل تھے جنھوںنے فاروق لغاری کے فیصلے کو برقرار رکھا تھا۔ دلیری،جرات، اور انصاف کی پاسداری ان کی شخصیت کا خاصہ تھی ۔ مرحوم آئین و قانون کی حکمرانی کے لیے ایک تابندہ خواب دیکھنے کے عمر بھر منتظر رہے، ملکی معاملات پر دل گرفتہ رہتے تھے اور اپنی ٹی وی ٹاکس میں ہمیشہ قومی یکجہتی، قانون کی بالادستی اور محروم طبقات کے کاز کی حمایت کرتے رہے۔آسمان ان کی لحد پر شبنم افشانی کرے۔