ٹیکسٹائل سٹی پروجیکٹ پر وفاق اور سندھ میں ٹھن گئی

 گیس فراہمی میں ناکامی پرمنصوبہ بندکرکے زمین پی کیواے کودینے کے احکام جاری ہوئے


Ehtisham Mufti March 10, 2017
سندھ حکومت کوبھی اراضی کی ملکیت کادعویٰ ہے،ذرائع،وفاق نے فیصلہ عجلت میں کیا،صنعتکار۔ فوٹو: رائٹرز/فائل

پاکستان ٹیکسٹائل سٹی کے منصوبے پروفاقی حکومت اورسندھ حکومت کے درمیان ٹھن گئی ہے۔

ذرائع نے ''ایکسپریس'' کو بتایا کہ وفاقی حکومت نے صرف120 ایم ایم سی ایف ڈی گیس ودیگرسہولتوں کی فراہمی میں ناکامی کی بنیاد پرپاکستان ٹیکسٹائل سٹی کے دیرینہ منصوبے کوبندکرتے ہوئے پروجیکٹ کے لیے مختص اراضی پورٹ قاسم اتھارٹی کومنتقل کرنے کے احکام جاری کیے جبکہ سندھ حکومت کا موقف ہے کہ ٹیکسٹائل سٹی کے لیے مختص 1250 ایکڑ اراضی حکومت سندھ کی ہے کیونکہ سندھ حکومت نے مجوزہ ٹیکسٹائل سٹی پروجیکٹ کے لیے مذکورہ اراضی مختص کرتے وقت متبادل اراضی پورٹ قاسم اتھارٹی کو فراہم کردی تھی لہٰذا ٹیکسٹائل سٹی کے لیے مختص اراضی کووفاق پورٹ قاسم اتھارٹی کومنتقل کرنے کا مجاز نہیں ہے۔

ذرائع نے بتایا کہ کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی نے 15 فروری2017 کوہی وزارت ٹیکسٹائل انڈسٹری کی جانب سے پاکستان ٹیکسٹائل سٹی کے منصوبے کوبند کرنے کی سمری منظورکرلی تھی جس کے بعد وزیراعظم کی ہدایت پرایک کمیٹی قائم کی گئی اور اس کمیٹی کا اجلاس3 مارچ 2017 کو طلب کرکے منصوبے کوبند کرنے کا حتمی فیصلہ کیا گیا۔

دوسری جانب ٹیکسٹائل سیکٹر کے نمائندوں کا کہنا ہے کہ وفاقی حکومت ٹیکسٹائل سیکٹر کو ملکی برآمدات میں اہم شعبہ تو گردانتی ہے لیکن ٹیکسٹائل سیکٹر کے لیے تاحال کوئی مثالی زون قائم نہ کر سکی جہاں ٹیکسٹائل یونٹس یکجا ہوتے جو انفرااسٹرکچرل مسائل سے آزاد ہوکراپنی پیداواری وبرآمدی سرگرمیوں کو تیز کرتے اور روزگار کے نئے وسیع مواقع پیدا کرنے کا سبب بنتے۔

نمائندوں نے کہاکہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ وفاق کی جانب سے پاکستان ٹیکسٹائل سٹی کی بندش کے عجلت میں کیے جانے والے فیصلے کومستقبل میں کراچی سرکلرریلوے منصوبے کی طرز پر دوبارہ بحال کردیا جائے گا حالانکہ اس منصوبے پراربوں روپے کی وفاقی حکومت کی سرمایہ کاری کے ساتھ حکومت سندھ بھی پانی کی سپلائی کے انفرااسٹرکچر پر27 کروڑ روپے کے اخراجات کرچکی ہے جس کے نتیجے میں پاکستان ٹیکسٹائل سٹی میں پانی اور بجلی کی سہولت دستیاب ہے لیکن منصوبے کے لیے 120 ایم ایم سی ایف ڈی گیس کی فراہمی میں وفاقی حکومت ناکام رہی جن میں 50 فیصد پاورجنریشن اور باقی گیس ٹیکسٹائل سیکٹر کی پیداواری سرگرمیوں کے لیے مختص کی گئی تھی۔

ذرائع نے بتایا کہ ٹیکسٹائل سٹی منصوبے کے بعد سندھ میں قائم ہونے والے متعدد میگاپروجیکٹس کوقدرتی گیس فراہم کی جاچکی ہے لیکن نامعلوم وجوہ کی بنا پر پاکستان ٹیکسٹائل سٹی منصوبے کے لیے وفاق کے پاس گیس دستیاب نہیں حالانکہ سندھ کاقدرتی گیس کی پیداوار میں72 فیصد ہے اور اس حقیقت کو مدنظررکھتے ہوئے وفاقی حکومت کو سندھ میں شروع کیے جانے والے منصوبوں کے لیے ترجیحی بنیادوں پر گیس فراہم کرنا چاہیے۔

علاوہ ازیں پاکستان ٹیکسٹائل سٹی کے چیئرمین آصف مقصود ٹیپو نے 'ایکسپریس' کے استفسار پربتایا کہ یہ منصوبہ ملکی برآمدات میں اضافے اور روزگار کے وسیع مواقع پیداکرنے کا حامل ہے اور اس نوعیت کے متعدد پروجیکٹس ملک کے دیگرحصوں میں نہ صرف قائم ہیں بلکہ وہ کامیابی کے ساتھ چل رہے ہیں۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ وزیراعظم نوازشریف اس ضمن میں فوری مداخلت کرتے ہوئے پاکستان ٹیکسٹائل سٹی کی بندش کے فیصلے پر نظرثانی کرتے ہوئے سندھ کے صنعت کاروں کو محرومیوں سے بچانے اورٹیکسٹائل مصنوعات کی برآمدات کوتیزی سے فروغ دینے کے لیے اپنا کردار کریںجبکہ سندھ حکومت کو چاہیے کہ وہ بھی اس منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کیلیے آگے بڑھ کراپناحقیقی کردارادا کرے۔

آصف مقصود ٹیپو نے تجویز دی کہ وفاقی حکومت اس منصوبے کوکامیابی سے ہمکنارکرنے کے لیے اسے ''پاکستان انڈسٹریل سٹی'' میں تبدیل کرنے کا اعلان کرے تاکہ اس زون میں ہرشعبے کی صنعتیں قائم ہوسکیں کیونکہ دیگر شعبوں کی بیشترصنعتوں میں گیس اور پانی کا استعمال ہی نہیں ہوتا جو اس مجوزہ زون میں قائم ہوکر قومی پیداوار اوربرآمدات بڑھانے میں اپنا کردار ادا کرسکتی ہیں۔

مقبول خبریں