سیاسی غیر یقینی حصص مارکیٹ میں بڑے پیمانے پر فروخت 212 پوائنٹس کم ہوگئے

سیاسی ڈرون حملے،لانگ مارچ اورحکومتی اتحادی جماعتوں کے اجلاس جیسے عوامل سرمایہ کاروں کی نفسیات پرحاوی۔


Business Reporter January 11, 2013
انڈیکس 2حدیں گنواکر16529پوائنٹس پر آگیا،225 کمپنیوں کے بھائو میں کمی،سرمایہ کاروں کو 50 ارب67 کروڑ کا نقصان،8 کروڑ91 لاکھ حصص کا لین دین۔ فوٹو : آن لائن

کراچی اسٹاک ایکس چینج کی نفسیات پر سیاسی افق پر روزانہ تبدیل ہونے والا منظر نامہ حاوی رہنے سے جمعرات کو دوبارہ مندی کے بادل چھائے رہے۔

جس سے انڈیکس کی16700اور16600 کی حد ایک بار پھر گرگئی، مندی کے باعث70.09 فیصد حصص کی قیمتوں میں کمی واقع ہوئی جبکہ سرمایہ کاروں کے 50 ارب67 کروڑ 76 لاکھ77 ہزار322 روپے ڈوب گئے، کاروبار کے تمام دورانیے میں حصص کی تجارت پر غیرواضح سیاسی حالات کی وجہ سے سرمایہ کار محتاط رہے، سرمایہ کاروں کی اکثریت مارکیٹ میں سرمایہ لگانے پر توجہ دینے کے بجائے متحدہ کے قائد کے سیاسی ڈرون دھماکے، لانگ مارچ اور حکومت کی اتحادی جماعتوں کے اجلاس جیسے عوامل کو مانیٹر کرتے رہے۔

اس طرح کاروبارکے تمام دورانیے میں مارکیٹ غیرواضح سیاسی صورتحال کے زیراثر رہی۔ ماہرین اسٹاک کا کہنا تھا کہ موجودہ سیاسی حالات کی وجہ سے بڑے مارکیٹ پلیرز نے دیکھواور انتظار کرو کی پالیسی اختیار کی جبکہ حالات سے خوفزدہ سرمایہ کاروں نے حصص کی آف لوڈنگ کو ترجیح دی، ٹریڈنگ کے دوران مقامی کمپنیوں، بینکوں ومالیاتی اداروں، این بی ایف سیز، انفرادی سرمایہ کاروں اور دیگر آرگنائزیشنز کی جانب سے مجموعی طور پر41 لاکھ80 ہزار634 ڈالر مالیت کی تازہ سرمایہ کاری بھی کی گئی لیکن اس سرمایہ کاری کے باوجود مارکیٹ میں تیزی رونما نہ ہوسکی کیونکہ ٹریڈنگ کے دوران غیرملکیوں کی جانب سے36 لاکھ81 ہزار228 ڈالر اور میوچل فنڈز کی جانب سے4 لاکھ99 ہزار406 ڈالر مالیت کے سرمائے کا انخلا کیا گیا۔



جو مارکیٹ میں مندی کا باعث بنا نتیجتاً کاروبار کے اختتام پر کے ایس ای100 انڈیکس 212.30 پوائنٹس کی کمی سے 16529.92 ہوگیا جبکہ کے ایس ای30 انڈیکس 204.32 پوائنٹس کی کمی سے 13492.09 اور کے ایم آئی 30 انڈیکس334.89 پوائنٹس کی کمی سے 28571.26 ہوگیا، کاروباری حجم بدھ کی نسبت2.02 فیصد کم رہا اور مجموعی طور پر8 کروڑ91 لاکھ48 ہزار970 حصص کے سودے ہوئے جبکہ کاروباری سرگرمیوں کا دائرہ کار321 کمپنیوں کے حصص تک محدود رہا جن میں70 کے بھائو میں اضافہ، 225 کے داموں میں کمی اور26 کی قیمتوں میں استحکام رہا۔

جن کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا ان میں باٹا پاکستان کے بھائو36.01 روپے بڑھ کر1335 روپے اور ایکسائیڈ پاکستان کے بھائو10 روپے کم ہوکر290 روپے ہوگئے جبکہ یونی لیور پاکستان کے بھائو80.77 روپے کم ہو کر 10000 روپے اور ملت ٹریکٹرز کے بھائو10.61 روپے کم ہو کر 585.47 روپے ہوگئے۔