کراچی سو روزہ صفائی مہم اور بے اختیار بلدیاتی نظام

صوبائی حکومتوں نے نچلی سطح تک اختیارات کی منتقلی میں بخل سے کام لیا ہے


Editorial March 12, 2017
، فوٹو؛ فائل

MUZAFFRABAD: میئر کراچی وسیم اختر نے کہا ہے کہ کراچی کے عوام کو حقوق دلانے کے لیے اب صوبائی اور وفاقی حکومت سے درخواست نہیں کروں گا بلکہ سپریم کورٹ جاؤں گا، ہمیں کام کرنے سے روکا جارہا ہے۔ اپنی سو روزہ صفائی مہم کے اختتام پر کے ایم سی بلڈنگ میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے میئر کراچی نے اس گلے کا اظہار بھی کیا ہے کہ کراچی کے جائز حق کے مطابق وسائل دیے جاتے تو اس 100 روزہ مہم میں ہم محض 21 یوسیز میں نہیں بلکہ آدھے سے زیادہ شہر میں تاریخی کام انجام دے چکے ہوتے۔

قابل تشویش امر ہے کہ ملک کے معاشی ہب اور سب سے زیادہ ریونیو دینے والے شہر کا میئر صفائی مہم کی ناکامی کا اعتراف صرف اس وجہ سے کرنے پر مجبور ہوا کہ یہاں نہ تو فنڈز کی مکمل فراہمی ہوسکی اور نہ ہی وہ اختیارات بلدیاتی نظام چلانے والوں کے سپرد کیے گئے تھے جس کے تحت دنیا بھر میں یہ بلدیات کا یہ نظام کامیابی سے جاری و ساری ہے۔ یہ امر ارباب بست و کشاد کو سوچنے کی دعوت دیتا ہے کہ جب اختیارات ہی نہ ہوں تو لولے لنگڑے نظام کے ذریعے کب تک عوامی درد کا درماں کیا جاسکے گا؟

اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی اور دنیا میں دیگر ریاستوں میں رائج جس بلدیاتی نظام کی کامیابی کے قصیدے پڑھے جاتے ہیں، اگر پاکستان میں اس بلدیاتی نظام کا معاندانہ جائزہ لیا جائے تو یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ صوبائی حکومتوں نے نچلی سطح تک اختیارات کی منتقلی میں بخل سے کام لیا ہے، محدود وسائل کے ساتھ بلدیاتی مسائل کی مکمل بیخ کنی قطعی ممکن نہیں۔ زمینی حقائق تو یہی ہیں کہ کراچی میں جگہ جگہ نئی تعمیرات کے نام پر سڑکیں کھدوا کر عوام کو مزید اذیت میں مبتلا کردیا گیا ہے، جب کہ پانی کی کمی اور لوڈشیڈنگ کے مسائل جوں کے توں ہیں، سیوریج نظام جس کی دیکھ بھال بلدیاتی محکموں کے سپرد ہونی تھی وہ بھی نہیں دی گئی، نتیجتاً تمام شہر کے گٹر ابل رہے ہیں، جگہ جگہ کچرے کے ڈھیر لگے ہیں، ذرا سی بارش کیا ہوتی ہے گلی محلوں میں جمع یہ کچرا نکاسی آب کا راست نظام نہ ہونے کے باعث مین شاہراہوں تک چلا آتا ہے۔ صحت و صفائی کے مسائل کے انبار تلے شہر قائد کے باسی دب چکے ہیں۔ صائب ہوگا کہ میئر کراچی کو مطلوبہ اختیارات تفویض کیے جائیں تاکہ بلدیاتی نظام اپنی حقیقی ساخت کے ساتھ نافذ ہوسکے۔