ترکی اور ہالینڈ میں کشیدگییورپی یونین مصالحانہ کردار ادا کرے
ہالینڈ کی حکومت کی جانب سے ترک وزراء کے ساتھ جو ناروا سلوک کیا گیا وہ بین الاقوامی سفارتی آداب کے بھی خلاف ہے
ترکی اور یورپی یونین کے رکن ملک ہالینڈ کے درمیان سیاسی اور سفارتی کشیدگی میں اس حد تک اضافہ ہو گیا ہے کہ ہالینڈ کی حکومت نے ترک وزیر خارجہ مولود شاؤس اوگلو کو اپنے شہر روٹر ڈیم میں داخل نہیں ہونے دیا جب کہ ترکی کی دوسری وزیر برائے خاندان و سماجی تحفظ فاطمہ بتول سیان کو بھی روٹرڈیم میں ترک سفارتخانے میں داخل ہونے سے روکنے کے بعد انھیں ملک بدر کر کے جرمنی بھیج دیا گیا۔
ہالینڈ کے اس رویے پر ترکی کے صدر رجب طیب اردگان نے سخت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے ہالینڈ کی حکومت کو نازی باقیات اور فسطائی قرار دے دیا' بات اتنی زیادہ بڑھی کہ ترکی نے انقرہ میں ڈچ سفارتخانہ ہی بند کر دیا اور سفارتی عملے سے کہا گیا کہ اب ہالینڈ کے سفیروں کو ترکی میں خوش آمدید نہیں کہا جائے گا۔ ادھر ترک وزیروں سے اس بدسلوکی کے خلاف ہالینڈ میں مقیم ترک تارکین وطن نے ہزاروں کی تعداد میں مظاہرہ کیا جس میں ہالینڈ کی حکومت کے خلاف اور اردگان کے حق میں نعرے لگائے گئے۔
ترکی کے ان دونوں وزراء کو ہالینڈ میں مقیم ترک باشندوں کی طیب اردگان کے حق میں ترتیب دی گئی ریلیوں سے خطاب کرنا تھا جس کا مقصد آیندہ ماہ ہونے والے ریفرنڈم میں ترک صدرکی کامیابی کی راہ ہموار کرنا تھا' ریفرنڈم میں کامیابی کی صورت میں اردگان کو مزید اختیارات حاصل ہو جائیں گے۔ اردگان کے اختیارات میں اضافے سے متعلق ترکی میں ہونے والے ریفرنڈم کو یورپی ممالک کی جانب سے تنقید کا سامنا ہے اسی وجہ سے یورپی یونین کے بیشتر ممالک نے اپنے ہاں اردگان کے حق میں مظاہروں اور ریلیوں پر پابندی عائد کر رکھی ہے۔ ترکی ترقی پذیر ممالک میں ایک خوشحال اور بہتر انفراسٹرکچر کا حامل ملک ہے' اس نے یورپی یونین میں شمولیت کے لیے ہر ممکن کوشش کی ہے مگر یورپی یونین کے معاندانہ اور متعصبانہ رویے کے باعث وہ اب تک یورپی یونین کا رکن نہیں بن سکا جب کہ یونان جو بہتر معیشت اور ترقی کی دوڑ میں ترکی سے کہیں پیچھے ہے یورپی یونین کا اہم رکن ہے۔
گزشتہ کچھ عرصے سے یورپی یونین اور ترکی کے درمیان تناؤ کی کیفیت پیدا ہو چکی ہے۔ ترکی کے روس کے ساتھ گہرے تعلقات ہیں ایسی بھی اطلاعات آ چکی ہیں کہ یورپی یونین اور امریکا نے ایک منصوبے کے تحت ترکی کے روس کے ساتھ تعلقات خراب کرنے کی سازش کی جس کا ترک حکومت نے بروقت ادراک کرتے ہوئے اسے ناکام بنا دیا۔ چند ماہ پیشتر طیب اردوان کے خلاف بغاوت ہوئی جو ناکام ہو گئی' اردوان نے امریکا پر الزام عاید کیا تھا کہ وہ اس کے پیچھے ہے' اب ہالینڈ کی حکومت کی جانب سے ترک وزراء کے ساتھ جو ناروا سلوک کیا گیا وہ بین الاقوامی سفارتی آداب کے بھی خلاف ہے جس پر ترک حکومت کا مشتعل ہونا فطری امر ہے۔ ترکی اور ہالینڈ کے درمیان بڑھتے ہوئے تناؤ کا نقصان یورپی یونین کو بھی پہنچ سکتا ہے۔اس سے قبل کہ بات مزید بگڑے یورپی یونین کو آگے بڑھ کر مصالحانہ کردار ادا کرتے ہوئے ہالینڈ کو اپنے رویے پر نظرثانی کے لیے کہنا چاہیے۔