دو نیم پاکستانی بیک وقت
میری تو مجال ہی نہیں کہ اس مبینہ خواب یا حقیقت کو بیان کر سکوں یا اس کی طرف اشارہ بھی کر سکوں
یہ وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ اپنی اس آزادی اور مطمئن زندگی میں کوئی دن ایسا بھی دیکھنا پڑے گا جب اس مملکت خداداد کو اپنے ہی بیٹوں سے جانی خطرہ لاحق ہو گا اور یہ سب دیکھ کر پاکستانیوں کے منہ حیرت اور رنج کے مارے کھلے رہ جائیں گے۔ میں اس آدھے اور مشکوک پاکستانی کا نام تک نہیں لینا چاہتا جس سے پاکستان کو زندگی کا خطرہ لاحق ہو گیا ہے اور جو اللہ جانے کس کی خاطر اور خوشنودی کے لیے اس ملک پر اسی ملک کے نا سمجھ لشکر سے حملہ آور ہونا چاہتا ہے، ایسا صرف اس لیے ہو رہا ہے کہ اب تک ہمارے حکمرانوں نے جنھیں عام طور پر ہم اشرافیہ کا نام دیتے ہیں مگر میں انھیں شریف و بدمعاش کے دو حریف الفاظ کو سامنے رکھ کر بد معاشیہ کہتا ہوں۔
اس ملک اور اس کے عوام کے ساتھ اپنی اپنی حکومتوں میں شدید ناانصافی کی ہے اور اب تو اس کی انتہا ہو گئی ہے لیکن بجائے اس کے کہ اس صورت حال میں ملک کو بچانے کی شریفانہ کوششیں کی جاتیں الٹی اس سے نجات پانے کی سعی کی جا رہی ہے اور پاکستان دشمنوں کے آلہ کار بن کر زیادہ سے زیادہ کسی نئے برائے نام پاکستان کے لیے سامان کیا جا رہا ہے جس کا ہونا نہ ہونا برابر ہو۔ دھمکی یہ ہے کہ 14 جنوری کو اسلام آباد میں چالیس لاکھ لشکری جمع ہوں گے اور جب تک اس نصف پاکستانی کے مطالبات پورے نہیں ہو جاتے، یہ لشکر اس شہر میں قیام کرے گا۔ تاریخ میں آج تک کبھی کسی فوج نے کسی شہر پر اتنی بھاری تعداد میں حملہ نہیں کیا اور نہ ہی وہاں قیام کا سوچا ہے کیونکہ ایسا ممکن ہی نہیں۔
لیکن اس شخص کی نہ جانے پاکستان سے کیا دشمنی ہے کہ وہ اربوں کے خرچ سے اتنی بڑی تعداد کو بسوں کے ذریعہ کوئی پندرہ سولہ لاکھ آبادی والے اس شہر میں جمع کرنا چاہتا ہے۔ اس تعداد کو اسلام آباد لے کر جانا اور پھر اسے اعلان کے مطابق کسی بھی غیر معین مدت تک وہاں ٹھہرانا، یہ سب نا ممکن ہے لیکن سچ بات تو یہ ہے کہ ہمارے گوناگوں حکمرانوں نے قوم کو مسائل کی مسلسل مار دے کر اسے پاگل کر دیا ہے کہ حالات کی ناساز گاری سے گھبرائی ہوئی اس مخلوق سے کچھ بھی کرایا جا سکتا ہے اور اسے کوئی بھی ایسا باغ دکھایا جا سکتا ہے جو کبھی لگایا ہی نہیں گیا۔
میری تو مجال ہی نہیں کہ اس مبینہ خواب یا حقیقت کو بیان کر سکوں یا اس کی طرف اشارہ بھی کر سکوں جو اس شخص نے ببانگ دہل بیان کر دیا ہے اور جو پاکستان کے ٹی وی پر دکھایا گیا ہے۔ میں اب بھی سوچ رہا ہوں اور ہمت باندھ رہا ہوں آپ کو اس دستاویزی فلم کی ایک تحریری جھلک ہی دکھا سکوں جو اس شخص نے برسر منبر کھلے عام بیان کی ہے۔ میں تو پہلے ہی ایک کمزور ایمان والا مسلمان ہوں اور جو کچھ بچا ہوا ہے، اسے کسی شعبدہ باز پر قربان نہیں کر سکتا۔ میں ہزاروں بار نعوذ باللہ ہی کہہ سکتا ہوں، اس امید کے ساتھ کہ حضور پاک میری عاجزی کو قبول فرمائیں گے۔ ان کی نظر کرم اور رحمت و برکت میرے شامل حال رہے گی ورنہ میں تو مارا گیا۔
جو شخص پاکستانی قوم کو غلط حکمرانوں کے خلاف احتجاج پر آمادہ کر رہا ہے، وہ اپنی جگہ ایک صحیح بات ہے لیکن اس نیکی کے پیچھے مجھے نیک ارادے دکھائی نہیں دیتے، اس قدر بے پایاں دولت اور اس قدر یکایک پذیرائی یہ سب ناقابل یقین ہے اور ایک مشکوک امر ہے، اس شخص کی طرح جو آدھا اور مشکوک پاکستانی ہے اور جس کی زندگی تضادات گستاخیوں اور ناقابل یقین باتوں کا مجموعہ ہے۔ میری صحافت کی جوانی گزر گئی، اگرچہ جوانی میں بھی کوئی کارنامہ سر انجام نہ دے سکے لیکن کوشش ہے کہ اب تحریر کے ذریعے جو درست اور سچ ہے وہ بیان کیا جاتا رہے، کوئی مانیں یا نہ مانے اپنا ضمیر تو مطمئن رہے۔ میرے خیال میں میں ایک غیر جانبدار صحافی ہوں۔
بالکل غیر جانبدار تو ایک بے ایمان اور بے عقیدہ انسان ہی ہوتا ہے میرے خیال میں جو دو فریقوں کے درمیان انصاف اور توازن کے ساتھ بات اور فیصلہ کرے اور کسی ذاتی اور گروہی وابستگی سے محفوظ رہے وہ ایک غیر جانبدار شخص کہلا سکتا ہے۔ سیاسی وقایع نگاری میں عمر گزر گئی اور اس میں پسند و ناپسند بھی رہی لیکن حتی الوسیع بے انصافی نہیں کی اور بنیادی نکتہ اور مرکز پاکستان ہی رہا۔ اس کی سر زمین کے ساتھ محبت اس کے باشندوں کے ساتھ پیار اور اس کی مٹی کے ساتھ وفا ہی زندگی رہی۔ میں اب کسی بہروپئے شعبہ باز کی کاریگریوں پر اپنا وطن قربان نہیں کر سکتا کیونکہ میرا اور کچھ نہیں ،کسی ملک کی آدھی شہریت میرے پاس الحمد للہ نہیں ہے۔ اچھا ہے یا برا بس یہی ملک ہے اور اسے ہی اللہ و رسول کی مملکت خداداد سمجھتا ہوں ،کوئی کینیڈین اور کوئی برطانوی میرے پائوں کے ساتھ لگی ہوئی اس مٹی کے برابر بھی نہیں ،کوئی میری خاک پا بھی نہیں۔
دو نصف پاکستانی اچانک اور بیک وقت ہمارے گلے پڑ گئے ہیں، اس اتفاق کے پیچھے کیا ہے، مجھے ابھی تک معلوم نہیں۔ ہمارے دوسرے ہاف پاکستانی کو پاکستانیوں سے زیادہ گلہ فی الحال پاکستان بنانے والے محمد علی جناح سے ہے جسے ہم قائداعظم کہتے ہیں۔ اس مرحوم و مغفور کو قدرت نے تو جو مقام دینا تھا، وہ اپنی تقدیر میں درج کر دیا ہے لیکن ہمارے رجسٹر میں کچھ اور درج ہے اور وہ یہ کہ یہ بھی نصف پاکستانی تھا۔ جب جسارتیں اس حد تک پہنچ جائیں تو کوئی کیا کہے لیکن اپنے بابا کی عزت ہم نہیں تو کوئی اندرا گاندھی بچائے گی۔ بات ہو گی اور ضرور ہو گی۔