سندھ پبلک سروس کمیشن کے امتحانات کالعدم

سپریم کورٹ کا 2 ہفتے میں نئے چیئرمین اور4 ہفتے میں ارکان کی تقرری کا حکم


Editorial March 15, 2017
سپریم کورٹ کا 2 ہفتے میں نئے چیئرمین اور4 ہفتے میں ارکان کی تقرری کا حکم۔ فوٹو: فائل

سپریم کورٹ نے سندھ پبلک سروس کمیشن کے تحت 2013 سے 2016 کے دوران ہونے والے مقابلے کے تمام امتحانات اور انٹرویو کالعدم قرار دیدیے، جسٹس امیر ہانی مسلم کی سربراہی میں فل بنچ نے سندھ پبلک سروس کمیشن کے چیئرمین اور ارکان کی خلاف ضابطہ تقرری کیس کا تحریری فیصلہ جاری کر دیا جس میں حکومت سندھ کو حکم دیا ہے کہ2 ہفتے میں نئے چیئرمین اور4 ہفتے میں ارکان کی تقرری کی جائے۔ 34 صفحات پر مشتمل فیصلہ جسٹس قاضی فائز عیسی نے تحریر کیا اور اسے جسٹس مظہر عالم میاں خیل نے پڑھ کر سنایا۔ بلاشبہ سندھ پبلک سروس کمیشن کا امتحان کسی بھی سرکاری ملازم کے میرٹ اور اس کی علمی اور تعلیمی استعداد کا پیمانہ تصور کیا جاتا ہے، اور دنیا کے تقریباً تمام ترقی یافتہ ممالک میں اس کی شفافیت اور امتحانی پروسیس پر کوئی انگلی نہیں اٹھا سکتا تاہم عدالت عظمیٰ کا صائب فیصلہ ارباب حکومت اور امتحانات میں شریک ہونے والوں کے لیے لمحہ فکریہ ہے۔

یہ ایشو کافی عرصے سے چل رہا تھا، کیونکہ اصولاً کمیشن کے فارغ التحصیل افسران کو ان امتحانات میں کامیابی ایک علمی استعداد کا حامل شخص قرار دینے کے ساتھ ساتھ اس بات کا تفاخر اور وقار بھی بخشتی ہے کہ اسے آگے جا کر اپنی لیاقت، اہلیت اور انتظامی صلاحیتوں کو قوم و ملک کی تعمیر و ترقی کے لیے استعمال کرنا ہے۔ یہ کیریئر بنانے کا زینہ بھی ہے۔ تاہم امتحان کالعدم قراردیے جانے کی اس عدالتی ''ویک اپ کال'' نے خرابیوں کی نشاندہی کی ہے، اسے ادارہ جاتی اصلاح اور نئے انتطامی و امتحانی سیٹ اپ اور کمیشن کی از سر نو تشکیل کے مقصد سے مربوط کرنے کی سخت ضرورت ہے کیونکہ عدالت نے قرار دیا کہ تحریری امتحانات اور انٹرویوز میں بڑے پیمانے پر بے ضابطگیاں کی گئیں تاہم اسکریننگ ٹیسٹ2013 کے نتائج منسوخ یا کالعدم قرار تصور نہ کیے جائیں۔ نئے چیئرمین اور ارکان کی تقرریوں کے فوری بعد سابقہ امیدواروں سے دوبارہ امتحانات لیے جائیں تاہم ان سے زائد فیس نہ لی جائے اور زائد العمر ہونے کی صورت میں رعایت دی جائے۔

صوبائی حکومت مستقبل میں حالیہ بھرتیوں اور بعد میں خالی ہونے والی نشستوں کی ''اپ ڈیٹ فہرست'' کمیشن کو بھجوائے اور سندھ پبلک سروس کمیشن فہرست موصول ہونے کے بعد2017 کے مقابلے کے امتحانات کی تیاری کرے، مقابلے کے امتحانات کے لیے معذور امیدوار، مخصوص اور خواتین کی نشستوں کی شرائط وضع کی جائیں، جسٹس امیر ہانی مسلم کی سربراہی میں فل بنچ نے 22 فروری کو کیس کی سماعت مکمل کر کے فیصلہ محفوظ کر لیا تھا۔ ذرایع کے مطابق سندھ پبلک سروس کمیشن نے گزشتہ 28 برسوں میں سے صرف چھ بار صوبائی سطح پر مقابلے کے امتحانات منعقد کیے، سپریم کورٹ نے سندھ پبلک سروس کمیشن مین چیئرمین اور ممبران کی غیر قانونی تقرریوں سے متعلق از خود نوٹس کیس کے فیصلے میں اس معاملہ پر قابل غور سنجیدہ سوالات اٹھائے ہیں۔