ایشیاء کی عظیم منچھر جھیل کی حالت زار

یہ ایک ناقابل تردید حقیقت ہے کہ منچھر جھیل کو بربادی، تباہی اور ماحولیاتی آلودگی کا زہر پیتے ہوئے ایک مدت گزر گئی


Editorial March 15, 2017
یہ ایک ناقابل تردید حقیقت ہے کہ منچھر جھیل کو بربادی، تباہی اور ماحولیاتی آلودگی کا زہر پیتے ہوئے ایک مدت گزر گئی. فوٹو: فائل

یہ ایک ناقابل تردید حقیقت ہے کہ منچھر جھیل کو بربادی، تباہی اور ماحولیاتی آلودگی کا زہر پیتے ہوئے ایک مدت گزر گئی مگر کسی رہبر قوم کو اس آبی ذخیرہ پر ترس نہیں آیا جب کہ نوکرشاہی کی غفلت کے باعث آج یہ جھیل اس حالت کو پہنچ گئی کہ ایشیا کی اس مثالی جھیل کو بچانے کے لیے عدالت عظمیٰ کو مداخلت کرنا پڑی۔ گزشتہ روز سپریم کورٹ رجسٹری کراچی نے منچھر جھیل آلودگی کیس میں وفاقی و صوبائی حکومتوں کو آر بی او ڈی پروجیکٹ منصوبے پر تنازعات کو حل کرنے کا حکم دیا ہے اور تنبیہ کی ہے کہ اگر ایک ماہ میں معاملہ حل نہ ہوا تو وزیراعظم اور وزیراعلیٰ کو عدالت میں طلب کر لیں گے۔

پیر کو سماعت کے دوران جسٹس فائز عیسیٰ نے کہا کہ حکومت نہیں چلا سکتے تو کسی کو ٹھیکے پر دے دیں، یہ کام حکومت کا ہے یا عدالت کا؟ عدالت نے آر بی او ڈی پروجیکٹ 16 سال سے مکمل نہ ہونے پر شدید برہمی کا اظہار کیا، جسٹس امیر ہانی مسلم نے کہا کہ آپ لوگوں کی وجہ سے بدین میں سیلاب آتا ہے، جب سمندر چڑھتا ہے تو پھر آر بی او ڈی میں پانی بڑھ جاتا ہے، آپ دوسرے اضلاع کو بھی ڈبونا چاہتے ہیں، نااہلی پر کیوں نہ جیل بھیج دیں، قمبر اور لاڑکانہ کی طرف جانے والی نہر طاقتور لوگوں کی زمینیں آباد کرتی ہے۔

اس نہر کو کوئی گندا ہونے کیوں نہیں دیتا، غریب لوگوں کو مار رہے ہیں، جسٹس فیصل عرب نے کہا کہ آپ لوگوں کی غیر سنجیدگی کی وجہ سے منصوبے کی رقم 15ارب روپے سے بڑھ کر 60 ارب تک چلی گئی ہے۔ یہ وسیع تر آبی ذخیرہ ہے جسے کیر تھر اور دیگر بارانی و کوہستانی وسائل سیراب کرتے ہیں، اسے ملک کے ایک خوبصورت اور دلفریب تفریح گاہ کا مقام اور حیثیت ملنی چاہیے۔ دریائے سندھ کے ناتے منچھر جھیل اس کا جھومر تھا، اس جھیل میں سندھ کے ماہی گیر (میربحر) اپنی لانچوں اور کشتیوں میں صبح و شام کرتے ہوئے پوری زیست بسر کر لیتے ہیں، یہ سائبیریا کے ہجرتی پرندوں کی پناہ گاہ ہے۔ لہٰذا امید کی جانی چاہیے کہ ارباب اختیار اس لب مرگ جھیل کی بقا کے لیے ہر ممکن اقدام کریں گے۔