بھارت نے پاکستانی کینو کا بیج چرا کر کاشت شروع کردی

نقصان کے باعث بعض ایکسپورٹرز نے بھارت کو ایم ایف این اسٹیٹس کی مخالفت کردی۔


Business Reporter January 12, 2013
پاکستان کی جانب سے بھارت کو ایم ایف این کا متوقع فیصلہ موخر ہونے کے بعد پھلوں کے ایکسپورٹرز کی رائے میں بھی تبدیلی پیدا ہورہی ہے۔ فوٹو : فائل

بھارت سے تجارت کے لیے پاکستانی زرعی شعبے کے بعد ایکسپورٹرز میں بھی خدشات پیدا ہوگئے ہیں۔

وفاقی وزارت تجارت کی جانب سے بھارت سے تجارت کیلیے مختلف تجارتی انجمنوں سے کی جانے والی مشاورت میں فروٹ ایکسپورٹرز کی نمائندہ انجمن آل پاکستان فروٹ اینڈ ویجیٹبل امپورٹرز ایکسپورٹرز اینڈ مرچنٹس ایسوسی ایشن نے بھارت کے ساتھ پھل اور سبزیوں کی تجارت پر کسی خدشے کا اظہار کیے بغیر دونوں ملکوں کے درمیان پھل اور سبزیوں کی بلاروک ٹوک تجارت کی حمایت کی تھی۔

تاہم حال ہی میں پاکستان کی جانب سے بھارت کو ایم ایف این کا متوقع فیصلہ موخر ہونے کے بعد پھلوں کے ایکسپورٹرز کی رائے میں بھی تبدیلی پیدا ہورہی ہے۔ ہارٹی کلچر انڈسٹری کے ذرائع کے مطابق بعض پاکستانی ایکسپورٹرز نے بھارت کے خلاف پاکستانی پھل بالخصوص کینو کے بیج چراکر بھارت میں پاکستانی کینو کاشت کرنے کا الزام عائد کیا ہے جس سے پاکستان کو ایکسپورٹ مارکیٹ میں نقصان کا سامنا ہے۔



ذرائع نے بتایا کہ پاکستانی کینو کی جیوگرافیکل آئیڈنٹفکیشن (جی آئی) رجسٹریشن نہیں کرائی گئی جس کی وجہ سے پاکستانی کینو پاکستان کیلیے انٹیلیکچوئل پراپرٹی نہیں بن سکا، اس دوران بھارت نے پاکستانی کینو کے بیج حاصل کرکے کاشت شروع کردی اور اب ہوبہو پاکستانی کینو کی طرح بھارتی کینو برآمد کیا جارہا ہے ، کینو کے بیج کی چوری کے الزام کو جواز بناکر پاکستانی ایکسپورٹرز نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ بھارت کو ایم ایف این کا درجہ دینا زرعی شعبے کیلیے سنگین غلطی ہو گا۔

دوسری جانب ہارٹی کلچر ماہرین کا کہنا ہے کہ فارم سے شیلف تک عالمی معیارات اختیار کرکے پھل و سبزیوںکی برآمد 5ارب ڈالر تک پہنچائی جاسکتی ہیں۔