وزیراعظم کی ہولی تہوار میں شرکت
کراچی کی ترقی کی رفتار 1970ء کے عشرے والی ہوتی تویہ شہر آج ایشیاء بھر میں شاندار ہوتا
ATTOCK/
RAWALPINDI:
وزیراعظم نوازشریف نے کہا ہے کہ کوئی کسی دوسرے کو کوئی خاص مذہب اختیار کرنے کے لیے مجبور نہیں کر سکتا،آئین کے مطابق زبردستی مذہب تبدیل کرانا سنگین جرم ہے،کچھ لوگوں نے مذہبی اختلاف کو پاکستان کی کمزوری بنانا چاہا، ہمارا کام لوگوں کی جنت و دوزخ کا فیصلہ کرنا نہیں بلکہ سب کے لیے اس دنیا کو جنت بنانا ہے ۔گزشتہ روز کراچی میں ہندوؤں کے تہوار ہولی کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ آج ہولی کی تقریب میں شرکت کر کے ہمارے رشتے اور مضبوط ہو گئے ہیں، ہولی رنگوں کا تہوار ہے، یہ رنگ محبت اور امن کا پیغام ہیں۔ اس موقع پر وزیر اعظم نے ہندو برادری کی ترقی کے لیے 50 کروڑ روپے گرانٹ اور کراچی سمیت صوبے بھر میں ہیلتھ کارڈ اسکیم شروع کرنے کا اعلان کیا۔
ہندوؤں کے مذہبی تہوار کے موقع پر وزیراعظم نے ان اسلامی اقدار اور تعلیمات کے سیاق وسباق میں جو اظہار خیال کیا ہے وہ درحقیقت اقلیتوں کے ایک اسلامی ریاست میں مساوی حقوق کے آئینی تحفظ کی ضمانت سے متعلق ہے جس کا اعادہ اس سے قبل بھی وزیراعظم نے کراچی میں ہولی کے تہوار کی ایک تقریب میں کیا تھا جب انھوں نے اعلان کیا تھا کہ میں اقلیتوں کا بھی وزیراعظم ہوں، اب یہ حکمرانوں کا فرض ہے کہ وہ مذہبی فرقہ وارانہ ، مسلکی اور دہشتگردی کی نت نئی تعریف اور تشریحات کی روشنی میں پاکستان کا جمہوری تشخص ابھاریں اور مختلف ناموں اور تنظیموں کی شکل میں سرگرم عمل ان انتہا پسند قوتوں کے مذموم عزائم ناکام بنادیں جو پاکستان کو دہشتگردی کا محور ثابت کرنے کے لیے بے تاب ہیں۔
وزیراعظم نے ان کی طرف اشارہ ضرور کیا ہے لیکن ضرورت ان ریشہ دوانیوں کا سدباب کرنے ، داخلی ملکی استحکام اور مذہبی و فرقہ وارانہ رواداری کے خواب کو شرمندہ تعبیر بنانے کی ہے، ریاستی حکام اس ہولناک مائنڈ سیٹ سے غافل نہ رہیں جو وطن عزیز کو توہین رسالت مذہبی تعصبات، دلآزاری پر مبنی لٹریچر اور کثرت پسندانہ جمہوری پاکستان کے چہرہ کو داغدار کرنے کی شرمناک کارروائیوں میں مصروف ہیں۔اس لیے دنیا کوبلاتاخیر یہ بتانے کی عملی پیش رفت ہونی چاہیے کہ پاکستان دہشتگردی کا نشانہ بنا ہوا ہے جو اقلیتوں کی پناہ گاہ ہے اور ریاست کا آئین ان سے رواداری ، بقائے باہمی، فرقہ وارانہ و مذہبی ہم آہنگی اور پرامن مکالمہ و قومی امور میں بلا امتیاز شراکت کے اصولوں کی پاسداری کی سختی سے ہدایت کرتا ہے۔
یہ بات قابل ذکر ہے کہ مغرب نے دہشتگردی کے حالیہ تناظر میں پاکستان سے متعلق اپنے بیانیے میں ترمیم کی ہے، عالمی برادری نے دہشتگردی کے خلاف جنگ میں فتح حاصل کرنے پر اس کی عسکری استقامت کی تعریف کی ہے اور یہ تبدیلی نتیجہ ہے آپریشن ضرب عضب اور اب جاری ردالفساد کریک ڈاؤن کا، جس نے ایک طرف دہشتگردی کے خلاف زیرو ٹالرنس اور دوسری جانب مملکت کے تمام امن پسند شہریوں اور اقلیتوں کو اس بات کا اطمینان دلایا ہے کہ مٹھی بھر عاقبت نااندیش سرگرم عناصر کی جانب سے شرانگیزی اور غیر انسانی طرز عمل کے باوجود انھیں حاصل آئینی حقوق ، جان ومال کے تحفظ اورایک جمہوری نظام میں مکمل مذہبی اور انفرادی آزادی کو کوئی خطرہ لاحق نہیں رہے گا۔ وزیراعظم کا فرمانا بجا ہے کہ اسلام امن کا مذہب ہے، دہشتگردی کا اس سے کوئی تعلق نہیں جب کہ مذہب کے نام پر شہریوں کے حقوق میں فرق کرنے والے مذہب کی درست تشریح نہیں کرتے، جب کہ پاکستان میں تمام مذاہب کے لوگوں کو یکساں حقوق اور تحفظ حاصل ہے۔
حکومت اقلیتوں کے تحفظ اور سنگین جرائم کے خاتمے کے لیے مزید سخت قوانین بنائیگی، پاکستان میں اگر کوئی جھگڑاہے تو وہ امن اور فساد کی قوتوں کے درمیان ہے جو پاکستان کی ترقی کی راہ میں رکاوٹ پیدا کرنے اور بدامنی پھیلانا چاہتے ہیں اور قوم کو منتشر کرنا چاہتے ہیں، ہم ان عناصر کے اس ایجنڈے کو مسلط نہیں ہونے دیں گے، لیکن اس عزم کو قول وفعل کی ہم آہنگی سے نتیجہ خیز بنانا ابھی باقی ہے، تاہم قوم کو یقین ہے کہ وطن عزیز کو اس باب میں کسی داعش، طالبانیت ، مسلح گروہوں اور کالعدم تنظیموں کی طرف سے کوئی گزند نہیں پہنچا سکتا۔ حکومت مذہبی رواداری کے غلط اور مہلک مہم میں ملوث عناصر سے ہمہ وقت محتاط اور آگاہ رہے کیونکہ دکھی انسانیت کی دلجوئی کرنے والا دین اسلام آج بھی مذہبی مہم جویانہ غارت گری کے نام نہاد علمبرداروں سے خبردار رہنے کو کہتا ہے۔وزیراعظم نے شہر قائد میں قیام کے دوران کراچی کے حالات کا بھی ذکر کیا ۔
تاجروں سے ملاقات کی، وزیر اعظم نے کہا کہ جب لاہور ترقی کرسکتا ہے توکراچی کیوں نہیں، اگر کراچی کی ترقی کی رفتار 1970ء کے عشرے والی ہوتی تویہ شہر آج ایشیاء بھر میں شاندار ہوتا۔کل کاروباری افراد اور ہندو برادری کے لوگ اغواء کیے جاتے تھے اور بیویاں اپنے شوہروں اور مائیں اپنے بچوں کے تحفظ کے لیے دعا کرتی تھیں، مگر آپریشن کی وجہ سے آج کراچی میں امن بحال ہو گیا ہے۔ایک اور بات جس کی جانب وزیراعظم اورسندھ حکومت کو توجہ دینی چاہیے وہ شہر قائد کی وسیع المشربی اور سیاسی و جمہوری شناخت کی واپسی ہے، آج کا کراچی کچی آبادیوں کا مجموعہ ہے ۔ ماضی کی رونقیںلوٹ آئی ہیں مگردائمی امن اور رواداری کا سنگ میل عبور کرنا باقی ہے۔