سیاسی اور اقتصادی مفادات کی جنگ
اگر پاکستان اپنی سرحد بند کر دے تو افغانستان اقتصادی بھونچال کا شکار ہو کر رہ جاتا ہے
افغانستان، پاکستان اور ہندوستان پڑوسی ملک ہیں اور ان کا شمار دنیا کے پسماندہ ملکوں میں ہوتا ہے۔ اس حوالے سے اگر ان تینوں ملکوں کی قیادت عوام سے مخلص ہو تو ان کی اولین ترجیح اپنے عوام کو سماجی اور اقتصادی پسماندگی سے نکالنا ہی ہو سکتی ہے لیکن ان تینوں ملکوں کی قیادت اس منطقی ترجیح کو پس پشت ڈال کر محاذ آرائی کے جس راستے پر چل رہی ہے۔ اس کا لازمی نتیجہ عوام کی مزید اقتصادی پسماندگی اور سماجی تضادات کی شکل میں سامنے آ رہا ہے۔
افغانستان کی سرحدیں پاکستان سے ملتی ہیں اگر پاکستان اپنی سرحد بند کر دے تو افغانستان اقتصادی بھونچال کا شکار ہو کر رہ جاتا ہے کیونکہ افغانستان بندرگاہوں سے محروم ہے اور بھارت اس کی سرحدوں سے دور ہے اور افغانستان کے لیے تجارتی راہداری نہیں بن سکتا۔ اس لیے اسے پاکستان کے راستے تجارت کرنا پڑتی ہے۔ افغانستان ایک مسلم ملک ہے اور پاکستان بھی ایک مسلم ملک ہے۔ اس حوالے سے بھی بھارت کے مقابلے میں پاکستان سے بہتر تعلقات افغانستان کی اولین ترجیح ہونا چاہیے تھا لیکن اس کے بجائے بھارت افغانستان کی اولین ترجیح بنا ہوا ہے۔
جس طرح افغانستان ابتدا ہی سے پاکستان مخالفت میں الجھا ہوا ہے اسی طرح پاکستان بھی افغانستان سے ہمیشہ اختلافات کی زد میں رہا ہے۔ افغانستان میں روسی مداخلت کے بعد پاکستان کے دینی مدارس میں جس طرح طالبان کی کاشت کی گئی۔ وہ اس قدر فصل آور رہی کہ افغانستان سے روس کی واپسی کے بعد افغانستان میں طالبان کی حکومت قائم ہو گئی۔ طالبان کی حمایت کی وجہ سے اگرچہ اس خطے میں پاکستان افغانستان کے اندرونی معاملات میں اثرانداز ہو گیا لیکن طالبان اور القاعدہ جیسی مذہبی انتہا پسند طاقتوں نے 9/11 انجام دے کر امریکا کو براہ راست مداخلت کے مواقعے فراہم کر دیے، یوں افغانستان پر امریکی حملے کی راہ ہموار ہوئی۔ طالبان کی حکومت اگرچہ ختم ہو گئی لیکن طالبان افغانستان کے تین چوتھائی سے زیادہ علاقے پر اب بھی قابض ہیں اور اس حوالے سے المیہ یہ ہے کہ طالبان پر پاکستان کا وہ کنٹرول نہیں رہا جو 9/11 کے بعد ہو گیا تھا۔
اس حوالے سے دلچسپ بات یہ ہے کہ افغان طالبان پاکستان کے مخالف ہو گئے ہیں اور افغان علاقوں سے پاکستان پر حملے کرنے کے علاوہ پاکستانی علاقوں کے اندر رہ کر بھی دہشتگردی کی وارداتیں کر رہے ہیں اور پاکستانی حکومت کو یہ شکایت ہے کہ افغانستان بھارت کے ساتھ مل کر پاکستان میں دہشتگردی کی کارروائیاں کرا رہا ہے۔ پاکستان کی یہ شکایت درست مان بھی لی جائے تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ خود افغانستان کے اندر آئے دن دہشتگردی کی جو خوفناک کارروائیاں کی جا رہی ہیں اس کی ذمے داری کس پر عائد ہوتی ہے؟ پاکستان کی حکومت پر افغان حکومت کا یہ الزام ہے کہ افغانستان کے اندر دہشتگردی کی کارروائیوں میں پاکستان ملوث ہے۔ اس حوالے سے دلچسپ بات یہ ہے کہ یہی الزام امریکا بھی براہ راست یا باالواسطہ پاکستان پر لگاتا آ رہا ہے اور پاکستان پر دباؤ بھی ڈالتا رہتا ہے کہ وہ افغانستان میں مداخلت سے باز رہے۔ اس ممکنہ ''نیک کام'' میں بھارتی ایجنسی را اور افغان ایجنسی خاد اور پاکستان کی ایجنسی آئی ایس آئی کا نام لیا جاتا ہے۔ یوں افغانستان اور پاکستان میں دہشتگردی ایک متنازعہ اور گنجلک مسئلہ بنی ہوئی ہے۔
اس حوالے سے یہ حقیقت بالکل عیاں ہے کہ بھارت افغان حکومت کا اتحادی بنا ہوا ہے اور پاکستان کا یہ الزام منطقی بن جاتا ہے کہ بھارت کشمیر کی صورتحال کی طرف سے ''پاکستان کی توجہ بٹانے'' کے لیے افغانستان سے مل کر پاکستان میں دہشتگردی کی کارروائیاں کروا رہا ہے۔ اگر یہ الزامات درست ہیں تو یہ بات تسلیم کرنی پڑے گی کہ مذہب کے حوالے سے دوستی اور دشمنی تصوراتی باتیں ہیں دوستی اور دشمنی کے اصل محرکات اقتصادی اور سیاسی مفادات ہوتے ہیں۔ اس تناظر میں ہمارے مذہبی حلقوں کی یہ امیدیں کہ مسلم ملکوں کے درمیان مذہب کا رشتہ سب سے زیادہ مضبوط رشتہ ہوتا ہے خام خیالی کے علاوہ کچھ نہیں۔ اسی تناظر میں سعودی عرب اور ایران کے بھارت کے ساتھ برادرانہ اقتصادی اور سفارتی تعلقات کو دیکھا جا سکتا ہے۔
ان افسوسناک حقائق کے باوجود اصل مسئلہ یہ ہے کہ تینوں ملکوں کا شمار دنیا کے پسماندہ ترین ممالک میں ہوتا ہے اور اگر ان ملکوں کی حکومتیں عوام سے مخلص ہوں تو ان کی اولین ترجیح اپنے اپنے عوام کی معاشی بہتری ہونا چاہیے لیکن بدقسمتی سے ایسا نہیں ہو رہا ہے، اس کے برخلاف تینوں ملکوں کی قیادتوں کی اولین ترجیح ان کے سیاسی اور اقتصادی مفادات بنے ہوئے ہیں۔ چین کے ساتھ پاکستان کا اقتصادی راہداری کا معاہدہ اگرچہ دوطرفہ ہے لیکن اگر خطے کے حکمران اس حوالے سے اپنے اپنے ملکوں کے عوام سے مخلص ہوں تو اقتصادی راہداری کے معاہدے کو ناکام بنانے کی منفی کوششوں کے بجائے اس معاہدے کا حصہ بن کر اس معاہدے کو مجموعی طور پر کامیاب بنانے کی کوشش کرتے۔
مذہبی انتہا پسند طاقتیں خواہ ان کے تعلقات کسی ملک سے کیوں نہ ہوں، اپنے ایجنڈے کے ساتھ پوری توجہ اور کمٹمنٹ کے ساتھ چل رہی ہیں اور مذہبی انتہا پسندی کا ایجنڈا کسی کا اتحادی نہیں بن سکتا، سوائے انتہا پسندوں کے اور دہشتگردوں کے۔ اس حوالے سے پاکستان اور افغانستان مذہبی انتہا پسندی اور دہشتگردی کے سب سے زیادہ متاثر ملک ہیں بھارت دہشتگردی سے نسبتاً محفوظ ملک ہے لیکن بھارتی قیادت کا المیہ یہ ہے کہ وہ کشمیر میں جاری تحریک آزادی کو دہشتگردی سے جوڑ کر اس کا الزام پاکستان پر لگاتی ہے اگر اس مفروضے کو درست مان بھی لیا جائے تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کشمیر میں دہشتگرد بھارت کو کتنا نقصان پہنچا رہے ہیں اور پاکستان اور افغانستان کے عوام کو کتنا نقصان پہنچا رہے ہیں؟
یہ ایسے حقائق ہیں جن کا ادراک افغانستان اور پاکستان کی قیادت کو ہونا چاہیے بلاشبہ بھارت کا اس حوالے سے سب سے کم نقصان ہو رہا ہے لیکن بھارت افغانستان کی حکومت کے ساتھ مل کر پاکستان کے لیے جو مسائل پیدا کر رہا ہے، اس کا شکار پاکستان کے بے گناہ غریب عوام ہو رہے ہیں۔ سامراجی ملک خصوصاً امریکا اس حوالے سے جو کردار ادا کر رہا ہے، اس کا ادراک بھی تینوں ملکوں کی قیادت کو ہونا چاہیے۔