مردم شماری صوبوں کے تحفظات دورکرنا ہوں گے

ملک میں مردم شماری کے عمل کو شفاف انداز سے نمٹانا ہی وقت کی ضرورت ہے


Editorial March 19, 2017
۔ فوٹو: فائل

مردم شماری کے کام میں خانہ شماری کا مرحلہ مکمل ہونے کے بعد مردم شماری کا شروع ہوچکی ہے، اس موقع پر کمشنر شماریات نے ایک بار پھر واضح کیا ہے کہ صوبوں کے تحفظات دور کیے جائیں گے۔ بلاشبہ مردم شماری بہت بڑا کام ہے جس کی تکمیل کے لیے صوبائی حکومتوں، سیکیورٹی اداروں اور دیگر تمام شراکت داروں کو مکمل جانفشانی سے کام کرنا ہوگا۔

مردم شماری کے ابتدائی مراحل میں بعض مقامات پر خانہ شماری کے لیے اسٹاف کے بروقت نہ پہنچنے، کراچی میں کچھ عمارتوں کے اپارٹمنٹس پر خانہ شماری کے نمبروں کا اندراج نہ ہونے جیسی شکایات موصول ہوئیں لیکن محکمے کی جانب سے ان کے بروقت ازالے کی کوشش کی گئی۔ امید کی جانی چاہیے کہ ملک و قوم کے مفاد میں یہ عظیم کام بنا کسی خامی اور تحفظات کے بخوبی نمٹایا جائے گا۔ دوسری جانب لاہور میں مردم شماری عملے کے بھیس میں جو ڈکیتی کی واردات ہوئی ہے اسے بھی دوسرا رنگ دے کر قومی مفاد کے اس کام میں رخنہ نہ ڈالا جائے۔

کمشنر شماریات کی طرف سے یہ واضح کیا جا چکا ہے کہ عوام مردم شماری کے عملے کی پہچان ان کے یونیفارم، کارڈز اور ساتھ موجود فوجی اہلکار سے کر سکتے ہیں، جب کہ مردم شماری کے عملے کا کوئی اہلکار گھروں میں داخل نہیں ہو گا۔ اس لیے عوام میں جو انتشار ڈکیتی کی خبر نشر ہونے کے بعد پھیلا ہے اسے مردم شماری سے منسوب نہ کیا جائے۔ جب کہ مردم شماری عملے کی جانب سے فارم پینسل سے پر کرنے کی جو شکایات منظر عام پر آئی تھیں اس پر بھی ایکشن لیتے ہوئے آصف باجوہ نے عملے کو ہدایت کی ہے کہ فارم پنسل سے نہیں، بال پین یا مارکر سے پر کیا جائے، پنسل سے فارم پر کرنے کی شکایت پر فوری ایکشن لیا جائے گا۔

علاوہ ازیں نشریاتی اداروں کی نشاندہی پر یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ کراچی، حیدرآباد، گھوٹکی اور سیہون میں جمعہ کو پہلے مرحلے کی خانہ شماری مہم کے آخری روز ہزاروں مکانات گنتی سے رہ گئے ہیں، خانہ شماری مہم میں توسیع نہیں کی گئی، کراچی میں 10 فیصد سے زائد خانہ شماری کا کام ادھورا رہ گیا ہے جب کہ دیگر اضلاع میں 5 فیصد کام مکمل کیا جانا ہے۔ صائب ہو گا کہ ان ابہام کو بھی دور کیا جائے تا کہ عوام منتشر الخیالی کا شکار نہ ہوں۔

راست ہو گا کہ مردم شماری کے تکمیل میں حائل رکاوٹوں کو دورکرنے، ابہام اور تحفظات کے خاتمے اور کسی بھی قسم کی پیچیدہ صورتحال سے نمٹنے کے لیے پیشگی حکمت عملی مرتب کی جائے۔ ملک میں مردم شماری کے عمل کو شفاف انداز سے نمٹانا ہی وقت کی ضرورت ہے۔