کابل میں فیملی سینما گھرکا تجربہ
فیملی سنیما گھر گلیکسی کے قیام پر افغان خواتین نے مسرت کا اظہار کیا ہے
افغانستان میں جنگ، دہشتگردی اور داخلی بدامنی کے باوجود افغان خواتین کو سنیما تک رسائی کا موقع مل گیا ہے اور گلیکسی نام سے ایک فیملی فرینڈلی سنیماگھر بھی تعمیر ہو چکا ہے جہاں فروری سے افغان خواتین اپنے بچوں کے ساتھ فلمیں دیکھنے جاتی ہیں، معاصر انگریزی اخبار''ایکسپریس ٹریبیون'' کی رپورٹ کے مطابق افغان معاشرہ اگرچہ ہالی ووڈ اور بالی ووڈ کی فلموں کو ناپسندیدہ قرار دے کر فلم بینی کی حوصلہ شکنی کرتے ہیں مگر عجیب بات ہے کہ طالبان نے حالیہ برسوں میں مردوں کے لیے مخصوص سنیماؤں پر حملے نہیں کیے۔
ادھر فیملی سنیما گھر گلیکسی کے قیام پر افغان خواتین نے مسرت کا اظہار کیا ہے، سنیما مالک کا کہنا ہے کہ افغانستان میں شورش، انتشار، دہشتگردی اور بم دھماکوں کے باعث خواتین گھروں میں محبوس ہو کر رہ گئی ہیں لہٰذا ان کے لیے فیملی سنیما کی سہولت ایک اہم پیش رفت ہے، اس فیملی سنیما گھر میں خواتین بلاخوف فلم دیکھتی ہیں، کسی مرد کو داخلے کی اجازت نہیں دی جاتی۔ بلاشبہ افغان سماج میں خواتین کا سنیما جا کر فلم دیکھنے کی کوئی روایت موجود نہیں تاہم افغانستان کی ناگفتہ بہ سیاسی و سماجی صورتحال کے تناطر میں اس نئی مثبت اور خوش آئند تبدیلی کا موازنہ پاکستان سے کیا جائے تو مایوسی ہوتی ہے۔
ایک زمانہ تھا جب لاہور اور کراچی کی فلمی صنعت بام عروج پر تھی، سیکڑوں سنیما گھر اور مصروف فلم اسٹوڈیوز تھے جہاں اردو، پنجابی، سندھی اور پشتو فلموں کی پروڈکشن اور سنیماؤں پر نمائش کا سلسلہ جاری تھا، مشرقی پاکستان کی فلم انڈسٹری سے لوگ یہاں آتے تھے، پنجاب، سندھ، بلوچستان اور صوبہ سرحد کا فلم سرکٹ توسیع پذیر اور مستحکم تھا، غیر ملکی فلموں کے سنیما تھیٹر مقبول تھے، لیکن افسوس، حکومت نے فلمی صنعت کی ترقی کا کوئی سنجیدہ ماسٹر پلان نہیں بنایا، پھر اچانک سنیماؤں کے ٹوٹنے کا عمل فلمی صنعت کو لے ڈوبا، کراچی اور لاہور کے اسٹوڈیوز بند ہو گئے، بڑے نامور ہیرو، ہیروئنیں اور با صلاحیت اداکار ٹی وی سے رجوع کرنے لگے، سنیما گھروں کی جگہ بڑے بڑے تجارتی مراکز تعمیر ہوئے اور بڑے فلم میڈیم کو عملًا ایک دھچکا لگا جب کہ لاہور فلم کلچرکا اکیلا مرکز رہ گیا۔
اب جب کہ افغان معاشرہ نے ایک کروٹ بدلی ہے اور فیملی سنیما کا تجربہ کامیاب رہا ہے اس میں ہمارے ارباب اختیار اور فلم انڈسٹری کے لیے ایک سبق ہے، حکومت چاہے تو 20 کروڑ سے زائد آبادی والے ملک کو فلم پروڈکشن، فلم بینی اور ڈسٹری بیوشن کے حوالے سے ایک بار پھر بام عروج پر لے جا سکتی ہے اور فلم بینی کے ذوق کو عوام کی ذہنی تربیت کے ساتھ ساتھ تفریح کا سستا وسیلہ بھی بنایا جا سکتا ہے۔