پاک افغان سرحد پر امریکا کا ایک اور ڈرون حملہ
پاکستان کو قبائلی علاقوں میں موجود دہشت گردوں کے خاتمے کے لیے مسلسل آپریشن جاری رکھنا چاہیے
لاہور:
پاک افغان سرحد کے قریب امریکا کے ڈرون حملے میں کالعدم ٹی ٹی پی کے دو اہم کمانڈرز ہلاک ہوگئے ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ پاک افغان سرحد کے قریبی علاقوں میں دہشت گردوں کی نقل و حرکت ہوتی رہتی ہے' گزشتہ دنوں افغانستان کے علاقوں سے دہشت گردوں نے پاکستانی علاقوں میں حملے بھی کیے ہیں جن کے نتیجے میں جانی نقصان بھی ہوا۔
حالیہ ڈرون حملے میں جو افراد مارے گئے ہیں' ان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ شمالی وزیرستان میں عسکریت پسندوں کے اہم کمانڈر تھے'دہشت گردی پر قانو پانے کے حوالے سے افغانستان کوئی فیصلہ کن کردار ادا کرنے سے قاصر ہے کیونکہ اس کا عذر ہے کہ ملک کے بیشتر علاقوں پر اس کا کوئی کنٹرول ہی نہیں ہے، اسی وجہ سے وہ دہشتگردوں کے خلاف کارروائی سے قاصر ہے۔
افغانستان میں نیٹو اور امریکی افواج کی تعداد میں بھی کمی ہو چکی ہے' افغانستان کی قومی فوج اور سرحدی حفاظت پر مامور اسٹاف کی ٹریننگ اتنی زیادہ نہیں ہے کہ وہ طالبان کا مقابلہ کر سکیں' ویسے بھی جب افغانستان کی حکومت کے وزراء اور وہاں کا دانشور طبقہ پاکستان کے بارے میں نفرت پھیلاتا رہتا ہے' اس سے افغانستان کی فوج کے افسر اور اہلکار بھی متاثر ہوتے ہیں اور وہ دراندازی کو روکنے کے لیے موثر کردار ادا نہیں کرتے۔
بہرحال پاکستان کو موجودہ صورت حال میں زیادہ چوکس رہنے کی ضرورت ہے' پاکستان کو قبائلی علاقوں میں موجود دہشت گردوں کے خاتمے کے لیے مسلسل آپریشن جاری رکھنا چاہیے اور اس معاملے میں کوئی نرمی یا ڈھیل کا مظاہرہ نہیں کرنا چاہیے کیونکہ جب امریکا کے ڈرون حملے میں کوئی دہشت گرد ہلاک ہوتا ہے اور وہ پاکستانی علاقے میں ہلاکت ہو تو پھر خاصے مسائل پیدا ہوتے ہیں۔
پاک افغان سرحد پر واضح حد بندی کی ضرورت سے انکار بھی نہیں کیا جا سکتا۔ افغانستان کی حکومت کو پاکستان سے ملنے والی سرحد کو اپنی جانب سے محفوظ بنانے کے لیے اقدامات کی بہت زیادہ ضرورت ہے۔ دونوں ملکوں کو اس حوالے سے مل کر کام کرنا چاہیے۔