متعصب ہندو یوپی کا وزیراعلیٰ بن گیا
یوگی ادتیاناتھ نظریاتی اعتبار سے نریندر مودی سے بھی زیادہ سخت گیر اور انتہا پسند ہے
لاہور:
بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی)نے ریاست اترپردیش میں انتخابی کامیابی حاصل کرنے کے بعد یوگی ادتیاناتھ کو ریاستی وزیراعلیٰ بنا دیا ہے۔ یوگی ادتیاناتھ ایک مندر کا پجاری اور سرپرست ہے۔ وہ بھارت میں ہندوتوا کے لیے اپنی شدید حمایت کی شہرت رکھتا ہے۔
یوگی ادتیاناتھ ایودھیا میں انتہا پسند ہندووں کے ہاتھوں منہدم کی جانے والی بابری مسجد کی جگہ پر رام مندر کی تعمیر کا بھی زبردست حامی ہے۔ اس نے یوپی میں بی جے پی کی ہندوتوا کی مہم چلانے میں بھی بھرپور اور نمایاں کردار ادا کیا ہے۔ یوگی ادتیاناتھ نے گزشتہ روز ایک ہندو مندر میں وزارت اعلیٰ کا حلف اٹھایا' اس موقع پر بھارت کے وزیراعظم نریندر مودی اور بی جے پی کے سربراہ امیت شاہ اور دیگر رہنما بھی موجود تھے۔ یوگی ادتیاناتھ پانچ مرتبہ بی جے پی کے ٹکٹ پر رکن اسمبلی منتخب ہو چکے ہیں۔
یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ اپنی انتخابی مہم میں وہ مسلمانوں کے خلاف بہت اشتعال انگیز تقاریر کرتے رہے ہیں۔ جب کہ اس ریاست میں مسلمانوں کی تعداد 20 فیصد کے لگ بھگ بتائی جاتی ہے۔ حال ہی میں یوگی ادتیاناتھ نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مسلمان ممالک کے خلاف پابندیوں کے اعلان کا خاص طور پر خیرمقدم کیا ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ مسلمانوں کے خلاف اور زیادہ سخت قانون بنائے جائیں۔ یوگی ادتیاناتھ نے ہندوؤں کے مشرف بہ اسلام ہونے پر بھی کڑی تنقید کی اور کہا کہ بین المذاہب شادیوں کو بالکل بند کر دینا چاہیے۔
یہاں یہ امر بطور خاص قابل ذکر ہے کہ ماضی میں ادتیاناتھ پر ہنگامہ پروری اور نقص امن عامہ کے متعدد مقدمات قائم ہو چکے ہیں۔ یوپی بھارت کا بہت بڑا صوبہ ہے، اس کی آبادی 20کروڑ ہے' بھارتی سیاست میں یو پی کو بادشاہ گر کی حیثیت حاصل ہے' یہاں پر بھارتیہ جنتا پارٹی کا بھاری اکثریت سے جیتنا ظاہر کرتا ہے کہ ہندی بیلٹ میں ہندو انتہا پسندی کم نہیں ہوئی بلکہ بڑھ رہی ہے' پھر یوگی ادتیا ناتھ جیسے کٹر انتہا پسند کو وزارت اعلیٰ کے منصب تک پہنچنا' اس امر پر دلالت کرتا ہے کہ بھارت میں سیکولر ازم کی سوچ دم توڑ رہی ہے۔
یوگی ادتیاناتھ نظریاتی اعتبار سے نریندر مودی سے بھی زیادہ سخت گیر اور انتہا پسند ہے' بھارتیہ جنتا پارٹی ایک جانب ہندو انتہا پسندی کو ہوا دے رہی اور دوسری جانب ذات پات کی تقسیم کو بھی گہرا کر رہی ہے جو مستقبل میں بھارتی سیاست کے لیے انتہائی مہلک ثابت ہو سکتی ہے۔