مصالحتی نظام
مصالحتی نظام عدلیہ کے لیے گیم چینجر ثابت ہو گا
مصالحتی نظام عدلیہ کے لیے گیم چینجر ثابت ہو گا، یہ بات لاہور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس جناب منصور علی شاہ نے لاہور میں پہلے اے ڈی آر سینٹر اور جوڈیشل کمپلیکس میں 2 مصالحتی مراکز کے افتتاح کے موقع پر اپنے خطاب میں کہی۔
چیف جسٹس نے کہا کہ پوری دنیا کے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ حفاظتی نظام معاملات کو سلجھانے کا آسان ترین طریقہ ہے۔ مصالحتی مراکز میں جاتے ہوئے وکلا کو بھی اپنا رویہ تبدیل کرنا ہو گا، اور سیٹلمنٹ کا مائنڈ سیٹ اپنانا ہو گا۔ ہمارے ملک میں جو عدالتی نظام رائج ہے اس میں وقت کے زیاں کا عالم یہ ہے کہ اگر کوئی باپ اپنا کوئی کیس عدالت میں لے کر جاتا ہے تو اس کے فیصلے کے لیے بیٹوں اور پوتوں کو انتظار کرنا پڑتا ہے۔ اس طویل ترین عدالتی پروسس کی وجہ سے فریقین کو انصاف کے لیے نہ صرف مدتوں انتظار کرنا پڑتا ہے بلکہ بے تحاشا اخراجات کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے، جو عموماً ان کے بس سے باہر ہوتے ہیں۔ قبائلی علاقوں میں اگرچہ فوری انصاف کی ضرورت جرگہ سسٹم پوری کرتے ہیں لیکن جرگائی انصاف پر کمیونٹی کو بہت سارے اعتراضات ہیں، اس کی وجہ یہ ہے کہ جرگوں میں فیصلوں کا اختیار جن لوگوں کے ہاتھوں میں ہوتا ہے وہ انصاف کرنے کے معیار پر پورے نہیں اترتے۔ اور قبائلی روایات کے پس منظر میں فیصلے کرتے ہیں۔
انگریزوں کے چھوڑے ہوئے عدالتی نظام میں گواہ اور ثبوت وہ بنیادی عناصر ہوتے ہیں جو انصاف کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں اور بدقسمتی کی بات یہ ہے کہ سرمایہ دارانہ نظام میں ہر چیز جہاں دولت کے عوض ملتی ہے وہیں گواہ اور ثبوت بھی دولت کے عوض آسانی سے مل جاتے ہیں، جو نظام گواہ اور ثبوت کے پیروں پر کھڑا ہو اور گواہ اور ثبوت خریدے اور بیچے جاتے ہوں اس نظام میں انصاف کا معیار کیا ہو گا اس کا اندازہ لگانا کوئی مشکل کام نہیں۔
مصالحتی نظام میں وقت کے ساتھ ساتھ اخراجات کی بھی بہت بچت ہوتی ہے۔ ہم نے اس سے قبل بھی اس بات کی نشان دہی کی ہے کہ اگر ہمارے بلدیاتی نظام کو موثر بنایا جائے اور یو سی لیول پر مصالحتی ادارے قائم کیے جائیں تو عوام کے بیشتر مسائل اس لیول پر ہی حل ہو سکتے ہیں۔
ناظمین کے بلدیاتی نظام میں بھی مصالحتی عدالتیں قائم کی گئی تھیں اور عوام کے گھریلو علاقائی مسائل ان عدالتوں میں حل بھی ہوتے رہے تھے لیکن چونکہ یہ نظام بغیر کسی منصوبہ بندی اور نظم و ضبط کے چلایا جا رہا تھا اس لیے یہ نظام فعال نہیں ہو سکا۔ پھر سیاسی مصلحتیں اور سیاسی مفادات بھی اگر کسی نظام میں داخل ہو جائیں تو اس قسم کے نظام پر اعتراضات فطری بھی ہوتے ہیں اور باجواز بھی۔
لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس جناب جسٹس منصور علی شاہ جن مصالحتی اداروں کا آغاز کر رہے ہیں ان میں یقیناً ان کوتاہیوں کو دور کرنے کی کوشش کی جائے گی جو ماضی کے مصالحتی اداروں میں پائی جاتی تھیں۔ ہمارے عدالتی نظام میں وکلا، انصاف کی گاڑی کے دوسرے پہیے کی حیثیت رکھتے ہیں۔ چونکہ ہمارے عدالتی نظام میں اور بہت سی خامیوں کے علاوہ پیسے کا بھی بہت بڑا دخل ہوتا ہے اس لیے یہ عدالتی نظام نہ عوام کی توقعات پر پورا اترتا ہے نہ انصاف کے تقاضوں کو پورا کر سکتا ہے۔ غالباً اسی پس منظر میں لاہور کے چیف جسٹس صفدر علی شاہ نے فرمایا ہے کہ ''مصالحتی مراکز میں جاتے ہوئے وکلا کو بھی اپنا رویہ بدلنا ہو گا اور سیٹلمنٹ کا مائنڈ سیٹ اپنانا ہو گا، وکلا مصالحتی عدالتوں میں قانون اور آئین کی دلیل نہیں بلکہ مصالحت کی بات کریں گے۔'' چیف جسٹس صاحب نے بجا طور پر کہا ہے کہ ہمیں اس بات کا اندازہ ہے کہ ہمیں ابتدا میں بہت سے مسائل کا سامنا کرنا پڑے گا لیکن ہمیں اس نظام کو کامیاب بنانا ہے۔
ہمارے موجودہ عدالتی نظام میں ایک دن میں جن مسائل کو حل ہونا چاہیے وہ ایک سال میں بھی حل نہیں ہوتے۔ ہماری عدلیہ کے اعلیٰ ترین جج صاحبان بار بار اس کمزوری کا اعتراف کرچکے ہیں کہ ہمارے عدالتی نظام میں فیصلے بہت تاخیر سے ہوتے ہیں۔ یہ تاخیر اتنی بڑی ہوتی ہے کہ دادا سے پوتوں تک چلی جاتی ہے جب کہ انصاف کے محافظوں اور سرپرستوں نے واضح طور پر کہا ہے کہ انصاف میں تاخیر بذات خود ایک بہت بڑی ناانصافی ہے۔ اس سست روی کو ختم کرنے کے لیے کیسز کو مختلف کیٹیگریز میں بانٹ کر اس حوالے سے فیصلوں کا وقت متعین کیا جا سکتا ہے، لیکن ایسا کیوں نہیں ہو پا رہا ہے اس حوالے سے کوئی حتمی بات نہیں کی جا سکتی۔
اگر کیسز کی کیٹیگریز کے حوالے سے وقت کا تعین کر دیا جائے تو نہ صرف یہ کہ انصاف میں تاخیر کی شکایت ختم ہو سکتی ہے بلکہ عدالتوں میں برسوں سے جو لاکھوں مقدمات زیرالتوا ہیں وہ بھی تیزی کے ساتھ نمٹائے جا سکتے ہیں۔
مصالحتی اداروں کی ضرورت اور اہمیت کا اندازہ اس حقیقت سے لگایا جا سکتا ہے کہ جو لاکھوں کیسز عدالتوں میں زیر التوا ہیں ان میں اکثریت ایسے کیسز کی ہو گی جو ذاتی خاندانی ملکیتی اور خاندانی دشمنیوں کے مرہون منت ہوں گے۔ اگر مصالحتی اداروں کو فعال بنایا گیا تو بلاشبہ وہ تمام تنازعات جنھیں ہم تنازعات نہیں بلکہ اختلافات کہہ سکتے ہیں جن کی نوعیت سنگین نہیں ہوتی مصالحتی اداروں میں آسانی سے حل ہو سکتے ہیں۔
چیف جسٹس صاحب نے فرمایا ہے کہ ہم پنجاب کے تمام اضلاع میں اے ڈی آر کا نظام شروع کر رہے ہیں۔ ہر ضلع سے 2-2 ججز کو نامزد کیا گیا ہے جو جوڈیشل اکیڈمی میں تربیت حاصل کریں گے۔ انصاف کی کرسی پر بیٹھنے والوں کا قانون داں ہونے کے ساتھ ساتھ معاشرتی اقدار، عوامی نفسیات اور طبقاتی ناانصافیوں سے واقف ہونا بھی ضروری ہے۔