دورۂ پاکستان ٹیموں کے خدشات جلد دور ہوجائینگے آئی سی سی چیف

ملک میں انٹرنیشنل کرکٹ کی بحالی کے لیے سیکیورٹی معاملات کو معمولی سمجھ کر نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔


Sports Reporter January 13, 2013
سپر لیگ میں فارن کھلاڑیوں کی آمد سے کونسل کے فل ممبرز کا اعتماد بحال کرنے میں مدد ملے گی، ڈیو رچرڈسن فوٹو: فائل

آئی سی سی کے چیف ایگزیکٹیو ڈیو رچرڈسن نے پاکستان میں انٹرنیشنل کرکٹ کی بحالی کا کوئی واضح اشارہ دینے سے گریز کرتے ہوئے صرف پی سی بی کی کوششوں کو سراہنے پر ہی اکتفا کیا ہے۔

انھوں نے پاک بھارت سیریز اور مارچ میں شیڈول سپر لیگ کو اہم پیش رفت قرار دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ غیر ملکی ٹیموں کے خدشات جلد دور ہوجائیں گے، ان کا کہنا ہے کہ کبھی کبھی حالات ایسے نہیں ہوتے جیسے نظر آتے ہیں مگر حقیقت ثابت کرنے کیلیے وقت درکار ہوتا ہے۔تفصیلات کے مطابق پی سی بی ایوارڈز کی تقریب میں شرکت کیلیے لاہور میں موجود آئی سی سی کے چیف ایگزیکٹو ڈیو رچرڈسن نے گذشتہ روزنیشنل کرکٹ اکیڈمی کا دورہ کرنے کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کیا۔

انھوں نے کہا کہ پاکستانی عوام کرکٹرز سے والہانہ لگائو رکھتے ہیں، ملک میں بین الاقوامی مقابلے نہ ہونے پر میں ان کا دکھ محسوس کر سکتا ہوں، میرے اپنے ملک جنوبی افریقہ کی کرکٹ بھی ایسی مشکلات سے گزر چکی، ایسے حالات میں کھیل کا وجود برقرار رکھنا ایک چیلنج ہوتا ہے، خوشی کی بات کہ پاکستان نے بحران کے دور میں بھی کرکٹ کے فروغ سے پہلو تہی کرنے کے بجائے بلندی کی طرف سفر جاری رکھا اور اپنی طاقت کو پہلے سے بھی زیادہ شدت کے ساتھ منوایا، انھوں نے کہا کہ آئی سی سی پاکستان کو اہم رکن سمجھتے ہوئے پی سی بی کی کوششوں کی قدر کرتی ہے مگر ملک میں انٹرنیشنل کرکٹ کی بحالی کے لیے سیکیورٹی معاملات کو معمولی سمجھ کر نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔

04

کھلاڑیوں اور آفیشلز کے تحفظ کو لاحق خدشات کا جائزہ لینے کیلیے آئی سی سی کا الگ یونٹ کام کر رہا ہے جس کی کلیئرنس کے بغیر بات آگے نہیں بڑھائی جاتی، البتہ اگر باہمی سیریز کے فریق ملک باہمی مشاورت سے ان امور پر اتفاق رائے کرتے ہوئے کھیلنے کا فیصلہ کرلیں تو ہمیں کوئی اعتراض بھی نہیں ہوتا۔انھوں نے کہا کہ کبھی کبھی حالات ایسے نہیں ہوتے جیسے نظر آتے ہیں مگر حقیقت ثابت کرنے کیلیے وقت درکار ہوتا ہے، پی سی بی نے تاثر بہتر بنانے کیلیے کاوشیں جاری رکھی ہوئی ہیں،گزشتہ 12 ماہ سے ٹھوس اقدامات اٹھائے جارہے ہیں، پاک بھارت سیریز کی بحالی بڑی مثبت پیش رفت ہے۔

ایشز کی طرح دونوں روایتی حریفوں کے مقابلے بھی کرکٹ کے شیدائیوں کی بھرپور توجہ حاصل کرتے ہیں،سیریز کا انعقاد اہم کامیابی ہے، مارچ میں شروع ہونے والی پاکستان سپر لیگ میں غیر ملکی کھلاڑیوں کی آمد سے آئی سی سی کے فل ممبرز رکن کا اعتماد بحال کرنے میں مدد ملے گی، بعد ازاں بتدریج انٹرنیشنل کرکٹ کی واپسی کیلیے بھی راستہ بن جائے گا۔ پاکستان کو کم میچز ملنے کے سوال پر انھوں نے کہا کہ فیوچر ٹور پروگرام میں آئی سی سی کا کردار محدود ہے، مقابلوں کا شیڈول ٹیمیں اتفاق رائے سے طے کرتی ہیں، البتہ سیریز ایک بار کیلنڈر کا حصہ بنائے جانے کے بعد عمل درآمد کرانا ہماری انتظامی ذمہ داریوں میں شامل ہے،اسی لیے ایک بار پروگرام فائنل ہونے کے بعد کوئی تبدیلی کونسل کو بتائے بغیر نہیں کی جاسکتی۔

مقبول خبریں