مصالحت جمہوری عمل کا تقاضا

وفاق سمیت تمام صوبائی حکومتوں کو اس باب میں زیرو ٹالرنس کی پالیسی اختیار کرنی چاہیے


Editorial March 21, 2017
فوٹو: فائل

وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ وفاقی اداروں نے اگر رویہ نہ بدلا ، سیاست کی تو سندھ سے ان کا بوریا بستر گول کر دیںگے۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ وفاقی اداروں کی جانب سے غلط اقدامات کو ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا۔

وزیراعلیٰ کا بیان بظاہر وفاق اور سندھ کے درمیان احتساب کے میکنزم اور کرپشن کے خلاف اقدامات پر عدم اطمینان کا مظہر ہے، اور وہ سندھ و پنجاب سمیت دیگر صوبوں میں احتساب اور کرپشن کے خلاف بلا امتیاز اور بے رحمانہ کارروائیوں کے فقدان کی شکایت پر مبنی ہے جب کہ سندھ حکومت کی جائزخواہش ہے کہ وفاق کو احتساب ،آپریشن اور تادیبی کارروائی کے طور پر شفاف طرز عمل اور فالٹ فری حکمت عملی اختیار کرنی چاہیے، اس ضمن میں فاروق ستار اور شرجیل میمن کا ذکر آیا ہے۔

بات استدلال کے تناظر میں اصولی ہے اور غالباً ملک کے تمام فہمیدہ حلقے، متوشش شہری ، دانشور اور تجزیہ کار اس ضرورت پر زور دیتے رہے ہیں کہ کہیں بھی کرپشن کے خلاف امتیازی کارروائی نہیں بلکہ آہنی ہاتھ استعمال ہونا چاہیے اور اس تاثر کا خاتمہ ہونا چاہیے کہ کرپشن ایشو کے بارے میں بات کا رخ سندھ کی طرف ہے اور وہی ہدف ہے جب کہ پیپلز پارٹی اور سندھ حکام کا عمومی تاثر یہ ہے کہ پنجاب میں کرپشن اور جرائم کی شدت کو اول تو محسوس ہی نہیں ہونے دیا گیا جیسے یہاں کرمنل عناصر، کرپٹ بیوروکریٹ اور قابل مواخذہ سیاسی افراد ''ان ٹچ ایبلز'' ہیں جب کہ حقیقت اس کے برعکس ہے، ملک کرپشن کی زد میں ہے، اس لیے مزید ادارہ جاتی شکست وریخت سے بچنے کے لیے کرپٹ عناصر کے خلاف آپریشن ناگزیر ہے۔

وفاق سمیت تمام صوبائی حکومتوں کو اس باب میں زیرو ٹالرنس کی پالیسی اختیار کرنی چاہیے، ادھر تمام سیاسی حلقے توقع رکھتے ہیںکہ پنجاب میں بھی کراچی جیسا فیصلہ کن ٹارگٹڈ آپریشن ہونا لازمی ہے، رینجرز کی کارروائی میں عوام کو فیصلہ کن تیزی ، ہمہ گیری اور مجرموں کو قانون کے کٹہرے میں لانے کے لیے نیشنل ایکشن پلان پر سختی سے عمل نظر آنا چاہیے، چنانچہ سندھ حکومت کی برہمی کا سبب اگرچہ ملزمان کے خلاف کارروائی کی غیر یکساں پالیسی ہوسکتی ہے تاہم ضرورت اس بات کی ہے کہ انتظامی ایشو پر وفاق کو للکارنے کا جو کلچر ڈیولپ ہورہا ہے اس پر فوری نظر ثانی ہونی چاہیے۔

کرپٹ عناصر صرف سندھ میں نہیں بلوچستان میں بھی پکڑے گئے ہیں ان کے خلاف کارروائی ہورہی ہے، بہر حال اکائیوں اور وفاق کے مابین خیر سگالی کا بندھن استقامت کا متقاضی ہے، ارباب بست وکشاد کی طرف سے ڈرامائی لب لہجے جمہوری طرز حکومت کے شایان شان نہیں ، جمہوریت تو نام ہے مکالمہ اورانتہائی کشیدہ صورتحال میں میزکے گرد بیٹھ کر افہام وتفہیم سے مسئلہ کا کوئی منصفانہ حل ڈھونڈھنے کا ، اس حوالہ سے وزیراعلیٰ سندھ کی برہمی کا ازالہ ہونا چاہیے۔

اس امر میں کوئی شبہ نہیں کہ کرپشن کے پھیلے ہوئے ناسور نے ارباب سیاست سے وہ طرز سخن چھین لیا ہے جو پارلیمانی روایات کا طرہ امتیاز سمجھا جاتا تھا، مگر اب بھی وقت ہے کہ اہل سیاست وفاق و صوبوں کے مابین مفاہمانہ ،دوستانہ اور مصالحانہ انداز گفتگوکواضطرابی کیفیت پر ترجیح دیں اور کرپشن کے ایک نکاتی ایجنڈہ پر ایوان میں کھل کر ڈیبیٹ کریں، اگر سندھ کو مردم شماری پر تحفظات ہیں تو اس پر اظہار خیال کے لیے سندھ اسمبلی سب سے صائب فورم ہے،کوشش ہونی چاہیے کہ کرپشن کے خلاف کارروائی شفاف ہو اور اس کے نتیجہ میں وفاق و صوبوں میں کسی قسم کی رنجش کبھی جنم نہ لے، اسی میں ملک کا مفاد ہے۔