اسپاٹ فکسنگ تفتیش جلد مکمل کی جائے

پانچوں انگلیاں برابر نہیں ہوتیں لیکن جو بھی اس جرم میں شریک پایا جائے اسے بہرحال سزا ملنی چاہیے۔


Editorial March 21, 2017
۔ فوٹو:فائل

پی ایل ایس ٹو میں پاکستانی کھلاڑیوں پر اسپاٹ فکسنگ اسکینڈل نے نہ صرف ملک کی جگ ہنسائی کی بلکہ عالمی سطح پر پاکستانی کھلاڑیوں سے متعلق ایک غلط پیغام گیا۔ اس سے پیشتر بھی عالمی کرکٹ میں تین پاکستانی کھلاڑیوں کے اسپاٹ فکسنگ میں ملوث ہونے اور سزا کے بعد دنیا کی پاکستان پر انگشت نمائی کا حوصلہ ملا تھا۔ صائب ہوگا کہ اس معاملے میں ابھرتے ابہام اور دیگر سینئر کھلاڑیوں کی جانب سے سخت بیانات کا خلاصہ کرنے کے لیے مشتبہ پانچوں کھلاڑیوں سے تفتیش کا عمل جلد از جلد مکمل کیا جائے اور اصل حقائق سے دنیا کو آگاہ کیا جائے۔ پانچوں انگلیاں برابر نہیں ہوتیں لیکن جو بھی اس جرم میں شریک پایا جائے اسے بہرحال سزا ملنی چاہیے۔

شنید ہے کہ پی ایس ایل اسپاٹ فکسنگ میں ملوث 5 مشتبہ کھلاڑیوں کو ایک اور مصیبت نے گھیر لیا، کرکٹ سرگرمیاں معطل ہونے کے بعد نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں شامل کرنے کی تلوار بھی لٹکنے لگی۔ پیر کو پانچ کھلاڑیوں نے ایف آئی کے سائبر کرائم سیل کو اپنا بیان ریکارڈ کروایا اور آج (منگل)کودو کھلاڑیوں کو بیان ریکارڈ کروانے کی ہدایت کی گئی ہے۔

افسوسناک امر ہے کہ وہ کھیل جو آپ کو شہرت اور دولت عطا کرتا ہے محض جلدی پیسہ کمانے کے لیے کھلاڑی غلط راہوں کا انتخاب کرتے ہیں۔ صائب ہوگا کہ جب تک معاملے کی تحقیقات مکمل نہیں ہوجاتیں سینئر کھلاڑیوں بھی اپنے کمنٹس میں احتیاط سے کام لیں تاکہ فیصلے پر اثرات مرتب نہ ہوں۔